Site icon DUNYA PAKISTAN

ڈیموکریٹس نے باضابطہ طور پر ٹرمپ کے مواخذے کا مقدمہ پیش کردیا

Share

واشنگٹن: ڈیموکریٹس اراکین کی جانب سے باضابطہ طور پر الزامات عائد کیے جانے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کا کیس تفصیلات کے ساتھ ہاؤس جوڈیشری کمیٹی کو موصول ہوگیا۔

دسری جانب ٹرمپ کی جانب سے اس کارروائی پر نیا حملہ سامنے آگیا جسے وہ دھوکہ دہی اور بدمعاشی کہہ کر مسترد کرتے ہیں۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ کی رپورٹ کے مطابق ڈیموکریٹ وکلا کی جانب سے اب تک جو الزامات سامنے آئے اس کے مطابق امریکی صدر نے اپنے حریف جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات کے لیے یوکرین پر دباؤ ڈالا اور ساتھ ہی امریکی پالیسی کے خلاف امریکی فوج امداد روکی جس سے روس کو فائدہ پہنچا۔

مذکورہ معاملے پر کمیٹی کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال، رشوت اور رکاوٹ ڈالنے پر امریکی صدر کے خلاف ووٹ رواں ہفتے آنے کا امکان ہے۔

اس پر ردِ عمل دیتے ہوئے امریکی صدر نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں اسے وچ ہنٹ قرار دیا اور کہا ڈیموکریٹس کچھ نہ کرو۔

دوسری جانب جوڈیشری کمیٹی کے چیئرمین جیرالڈ نیڈلر نے سماعت کا آغاز کرتے ہوئے کہا صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے آپ کو ملک پر فوقیت دیتے ہیں۔

پینل میں شامل ڈیموکریٹ رکن ڈوج کولنز نے کہا کہ ڈیموکریٹس 2020 کے صدارتی انتخابات کے پیشِ نظر مواخذے کی کارروائی کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرنا چاہتے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے صدر ہیں اور ان کے پاس ایسا کوئی امیدوار نہیں جو انہیں شکست دے سکے۔

واضح رہے کہ ریپبلکن اراکین کی جانب سے یہ اعتراض اٹھا کر کہ امریکی صدر کے الزامات سے انکار پر کمیٹی کے ڈیموکریٹ وکیل نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا، متعدد مرتبہ مواخذے کی کارروائی روکنے اور اسے سست کرنے کی کوششیں کی جاچکی ہیں۔

جس پر کمیٹی چیئرمین نے ردِ عمل دیا کہ امریکی صدر کے مواخذے کے لیے وجوہات مرتب کرنے کے بعد منفی تبصے متوقع تھے۔

تاہم ریپبلکن کی جانب سے پارٹی لائن ووٹس میں شکست کھانے کے بعد اب بھی منفی تبصروں کو بند کرنے پر ووٹ کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

سماعت میں اس وقت خلل پیدا ہوگیا جب ایک شخص نے احتجاج کرتے ہوئے چلایا کہ ہم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دیا ہے اور ڈیموکریٹس کو غداری کا مرتکب قرار دیا بعدازاں مذکورہ شخص کو سماعت کے کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔

ڈیموکریٹس کی جانب سے کرسمس سے قبل فل ہاؤس ووٹ لینے کی کوشش کے باعث سماعت ایک ہفتے کے لیے موخر کردی گئی۔

مواخذے کے لیے دفعات لگانے پر اسپیکر نینسی پلوسی کو قانونی اور سیاسی اعتبار سے اکثریتی اراکین کے نقطہ نظر متوازن رکھنے میں چیلنج کا سامنا ہے۔

Exit mobile version