عمران خان اور طالبان کا علاج

عمران خان کے اس اعتراف کے بعد کہ حال ہی میں افغان طالبان کے ایک سینئر لیڈر کا لاہور کے شوکت خانم کینسر اسپتال میں علاج کیا گیا تھا، پیپلز پارٹی کی طرف سے تحریک انصاف کے قائد کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اگر پاکستان پیپلز پارٹی کے اس مطالبہ میں سے سیاسی عنصر اور ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری پر پارٹی کی برہمی کی وجوہ کو نکال بھی دیا جائے تو بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے والے ایک ملک کے قومی لیڈر کا یہ بیان قابل گرفت ہے۔ اس بیان پر سیاسی و قانونی لحاظ سے گفتگو کرنے اور یہ بات صاف کرنے کی ضرورت ہے کہ افغان طالبان کے اعلیٰ عہدیدار کس طرح پاکستان میں ہی نہیں بلکہ اس کے قلب میں واقع لاہور شہر تک آ پہنچتے ہیں اور علاج کروانے کے بعد پھر اپنے ٹھکانوں کو واپس لوٹ جاتے ہیں، جہاں وہ پھر دہشت گردی اور تخریب کاری کی کارروائیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ یہ تحقیق اس تناظر میں بھی بے حد اہم ہے کہ حال ہی میں جنرل راحیل شریف کے دورہ کابل کے بعد پاکستان افغانستان ، امریکہ اور چین کے ساتھ مل کر مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے والے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے پر آمادہ ہو¿ا ہے۔ اس کے ساتھ ہی افغان حکومت کو یہ یقین دلایا گیا ہے کہ جو مسلح گروہ مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے، ان کے خلاف مل کر جنگ کی جائے گی۔ ان وعدوں اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی سنجیدگی ثابت کرنے کے لئے اس معاملہ میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونا چاہئے۔
چند روز قبل جیو ٹیلی ویڑن پر ایک خصوصی انٹرویو کے دوران تحریک انصاف کے چیئرمین نے شوکت خانم اسپتال کی کارکردگی اور خدمات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ افغان طالبان کے ایک اہم لیڈر نے بھی اس اسپتال سے علاج کروایا تھا۔ عمران خان نے بتایا کہ خود انہیں اس معاملہ کے بارے میں تب پتہ چلا جب طالبان کی جانب سے انہیں ایک تعریفی خط موصول ہو¿ا۔ صحافی حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے نہایت فخر و انبساط سے اس معاملہ کا ذکر کیا۔ ان کی باتوں سے ہرگز یہ اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ انہیں اس معاملہ پر کسی قسم کی حیرانی یا پریشانی ہے۔ بلکہ وہ تو اسے اپنے قائم کردہ ادارے کی ایک ایسی خوبی کے طور پر بیان کر رہے تھے جسے دوست تو دوست دشمن بھی توصیف کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اس کی سہولتوں سے استفادہ کرتے ہیں۔ یہ رویہ عمران خان کی سادہ لوحی بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن ڈیڑھ برس قبل آپریشن ضرب عضب شروع ہونے تک اور دسمبر 2014 میں پشاور آرمی پبلک اسکول پر طالبان کے حملہ کے بعد پاک فوج کا سخت رویہ سامنے آنے تک، عمران خان طالبان سے مصالحت کرنے اور انہیں سیاسی عمل کا حصہ بنانے کی بات کرتے رہے ہیں۔ ایک موقع پر انہوں نے اسلام آباد میں طالبان کا دفتر قائم کرنے کی تجویز بھی دی تھی۔ وہ طویل عرصہ تک یہ مو¿قف پیش کرتے رہے ہیں کہ طالبان کی جنگ دراصل امریکی تسلط اور توسیع پسندی کے خلاف ہے۔ وہ پاکستان یا اس کے عوام کے دشمن نہیں ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان ہو یا افغان طالبان، ان کے ہتھکنڈوں اور حملوں میں پاکستانی عوام اور افواج نے جانیں قربان کی ہیں۔ دوسری طرف افغانستان میں حکومت کے ساتھ برسر جنگ طالبان کی وجہ سے پاکستان کو مسلسل یہ طعنہ سننا پڑتا ہے کہ اس کی اعانت اور سرپرستی کے بغیر یہ گروہ مستحکم نہیں ہو سکتا۔ پاکستانی قبائلی علاقوں سے افغان طالبان کی مدد کرنے والے حقانی گروپ کے حوالے سے بھی حکومت اور افواج پاکستان کو اکثر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
آپریشن ضرب عضب کے ذریعے طالبان اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی گئی تھی۔ پاک فوج کے سربراہ نے اس کے بعد سے متعدد بار یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ اچھے اور برے طالبان میں تخصیص نہیں کی جائے گی اور ریاست کے خلاف برسر جنگ تمام عناصر سے یکساں قوت سے نمٹا جائے گا۔ اسی پالیسی کے تحت شمالی وزیرستان میں کارروائی کے دوران حقانی نیٹ ورک کا ڈھانچہ بھی تباہ کیا گیا ہے۔ اگرچہ افغانستان اور امریکہ ابھی تک اس حوالے سے پاکستانی فوج کی کامیابیوں کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کرتے لیکن یہ بات البتہ مانی جاتی ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے بعد سے افغانستان میں مسلح جدوجہد کرنے والے گروہوں کی قوت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ان کی صلاحیتیں محدود ہوئی ہیں اور اب وہ پہلے سی قوت کے ساتھ دہشت گردی کی کارروائیاں نہیں کر سکتے۔
اس پس منظر میں پاکستان کا ایک اہم لیڈر جب خوش دلی سے یہ تسلیم کرتا ہے کہ اس کے قائم کئے ہوئے اسپتال میں افغان طالبان کے لیڈر بھی علاج کرواتے رہے ہیں۔ بلکہ اس حوالے سے انہوں نے شکرئیے کا خط بھی وصول کیا ہے لیکن اس بارے میں چنداں ہراساں یا پریشان ہونے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس لئے یہ دیکھنا ہو گا کہ افغانستان اور دیگر ممالک اس بیان کی روشنی میں دہشت گردی کے خلاف پاکستانی قوم کے رویہ اور مزاج کے بارے میں کیا رائے قائم کریں گے۔ اس اصول سے کوئی انکار نہیں کرتا کہ مجروح یا بیمار دشمن کو بھی علاج کی سہولت فراہم ہونی چاہئے۔ عام طور سے یہ سہولت فوج کا میڈیکل شعبہ یا عالمی تنظیمیں باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ سرانجام دیتی ہیں۔ کوئی ملک یا حکومت اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ پرائیویٹ لوگ یا ادارے دشمن کی مدد کرنے کے لئے اپنے طور پر سرگرم ہوں اور سرکاری اداروں کو اس بارے میں آگاہ کرنے کی بھی زحمت گوارا نہ کریں۔ شوکت اسپتال جیسا فلاحی بہبود کا ادارہ قائم کرنے والے عمران خان کو تو اس خبر پر سخت پریشان ہونے کی ضرورت تھی۔ بطور سیاسی لیڈر انہیں اپنے ادارے کی اس کوتاہی کے بارے میں فوری طور سے حکام اور عوام کو آگاہ کرنا چاہئے تھا اور بطور ایڈمنسٹریٹر انہیں شوکت خانم کی انتظامیہ سے باز پرس کرنی چاہئے تھی کہ ایک دہشت گرد کیوں کر کسی تردد کے بغیر ان کے اسپتال میں علاج کروا کے چلا گیا اور کسی کو اس کی خبر بھی نہ ہوئی۔ عمران خان اس بات کا اعزاز لیتے ہیں کہ انہوں نے عالمی معیار کا ادارہ قائم کیا ہے۔ کیا ایسے ادارے میں علاج کروانے کے خواہشمند لوگوں کی مناسب شناخت اور جانچ پڑتال کا نظام متعارف کروانا بھی ضروری نہیں ہے۔ خاص طور سے ایسی صورت میں جبکہ ملک میں انتہا پسند اور تخریب کار عناصر قوت پکڑ چکے ہیں اور ریاست ان کے خاتمہ کی خواہشمند ہے۔
اس معاملہ کے دوسرے پہلو کی طرف پیپلز پارٹی کے قائدین نے اشارہ کیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک لیڈر اور سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم حسین گزشتہ چار ماہ سے زیر حراست ہیں۔ اب تک ان کے خلاف دہشت گردی کی معاونت کے حوالے سے صرف یہ الزام سامنے آیا ہے کہ ان کے زیر انتظام چلنے والے اسپتالوں میں دہشت گردوں کو علاج کی سہولت فراہم کی جاتی رہی تھی۔ ڈاکٹر عاصم حسین نے عمران خان کے برعکس ان الزامات کا اعتراف نہیں کیا ہے اور نہ ہی حکومت اس حوالے سے ٹھوس ثبوت کسی عدالت کے سامنے پیش کر سکی ہے۔ اس کے باوجود وفاق اس معاملہ کو اتنا سنگین سمجھتا ہے کہ اس سوال پر سندھ حکومت سے براہ راست تصادم بھی ضروری سمجھا گیا ہے۔ کیا عمران خان اس بات سے آگاہ ہیں کہ انہوں نے ایک سنگین جرم کا اعتراف کیا ہے۔ خواہ یہ معاملہ ان کے نزدیک سنگین نہ بھی ہو لیکن ملک کے مروجہ قوانین کے تحت قابل گرفت ہے کیونکہ اس طرح ان عناصر کو سہولتیں اور پناہ گاہیں فراہم کی جاتی ہیں جو غیر قانونی اور غیر انسانی ہتھکنڈوں کے ذریعے اپنی مرضی کی تبدیلی لانے کی ضد پر قائم ہیں۔ اگرچہ وفاقی حکومت کو بھی اس سوال کا جواب دینا ہے کہ افغان طالبان کے لیڈر کیوں کر نہ صرف یہ کہ پاکستان میں داخل ہوتے ہیں بلکہ لاہور پہنچ کر علاج کرواتے ہیں اور واپس جا کر خط کے ذریعے اس سہولت پر شکرئیے کے مراسلے روانہ کرتے ہیں۔ افغانستان کے ساتھ پاکستان کی سرحدیں طویل اور مشکل ہیں۔ اس کے باوجود دہشت گردی کا مقابلہ کرنے والے ملک میں ایک اہم دہشت گرد کیوں کر آزادانہ داخل ہو کر، طویل عرصہ قیام کر کے کسی مشکل کے بغیر واپس روانہ ہو جاتا ہے۔ اور وہ کون سی سیاسی مجبوری ہے جس کی بنا پر ایک پارٹی کے اہم لیڈر کو جس الزام میں زیر حراست رکھا جاتا ہے لیکن دوسری پارٹی کے لیڈر کے اعترافی بیان کے بعد بھی ریاست کا کوئی ادارہ ان سے اس بارے میں سوال کرنے کا حوصلہ نہیں کرتا۔
امن پسند اور وسیع المشرب پاکستانی معاشرے کو انہی کوتاہیوں اور رویوں نے تباہی کے کنارے تک پہنچا دیا ہے۔ ملک میں دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف مزاج سازی کرنے کی بجائے سماج اور انسان دشمن عناصر کو رومانویت بھرے دلائل سے حفاظت اور سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ ملک سے سال رواں کے دوران دہشت گردی کے خاتمہ کا اعلان ضرور کیا جا رہا ہے لیکن ان افراد ، اداروں اور تنظیموں کی گرفت نہیں ہو پاتی جو ان عناصر کو مظلوم یا استحصال کے خلاف سینہ سپر قوت قرار دے کر لوگوں کو گمراہ اور غیر محفوظ کرنے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی دہشت گردی کو ایک جرم اور علّت کے طور پر لینے کی بجائے اس کے سیاسی اور سماجی عوامل پر بات کر کے ان عناصر کی سماج دشمنی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ عمران خان ایک دہشت گرد کا علاج کرنے کو باعث افتخار سمجھتے ہیں اور حکومت یا ان کے ووٹر یا ان کی پارٹی کے کار پرداز یہ سوال کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے ہیں کہ انہوں نے یہ غیر قانونی حرکت کیوں اور کیسے کی۔ دشمن کے بارے میں قبولیت کا یہی رویہ اس معاشرہ کے لئے سم قاتل ہے۔ اسی لئے دہشت گرد حوصلہ مند اور نڈر بنے، معاشرے کے کونے کھدروں میں خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ عمران خان کا بیان صرف ایک جرم کا اعتراف نہیں ہے بلکہ اس مزاج کا بھی آئینہ دار ہے جس کی وجہ سے پاکستان سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ پیچیدہ ہو چکا ہے۔ جب قومی لیڈر فسادی عناصر کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہوں اور ہمدردی پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہوں تو ملک کے شہروں ، قصبوں اور محلوں میں وہ ہاتھ پاﺅں کیسے پیدا ہوں گے جو دہشت گردوں کی گردن ناپ سکیں۔ ہم تو ایسے ہاتھوں کو قوت بخش رہے ہیں جو دشمن کو سہارا اور حوصلہ دیتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *