دشمن کا بچہ....

muhammad Shahzadدشمن کے بچوں کو پڑھانے لگے ہیں۔ ٹھہریے ؟ کدھر پڑھائیں گے؟ سرکاری اردو میڈیم سکول میں؟ سرکاری انگریزی سکول میں یا آرمی پبلک سکول میں؟ مدرسے میں؟ جماعت کے دارِ ارقم میں یا الہٰدی میں یا لشکر طیبہ کے دعوة ماڈل سکول میں۔ بیکن ہاﺅس یا سٹی سکول میں؟ امریکن سکول میں یا فروبل میں؟
دشمن کے بچوں کو پڑھانے لگے ہیں؟ ٹھہریے ۔ کیا پڑھائیں گے؟ ہندو ہمارا ازلی دشمن ہے؟ طالبان سچے مسلمان ہیں؟ ممتاز قادری امت مسلمہ کا ہیرو ہے؟ کافر، کافر، شیعہ کافر اور جو نہ مانے وہ بھی کافر؟ احمدی واجب القتل؟ بریلوی مشرک اور بدعتی؟ گستاخِ رسول کی بس ایک ہی سزا سر تن سے جدا؟
گزشتہ چار دہائیوں سے تو ہمارے اربابِ اختیار ہمارے اپنے بچوں کو .... جو ناحق مارے جا رہے ہیں جہاد کے نام پر.... یہی پڑھا رہے ہیں۔ کیا دشمن کے بچوں کے لئے کوئی نئی قسم کی تعلیم دی جائے گی؟ اگر جواب ناں میں ہے تو رہنے دیجئے۔ دشمن کے بچوں کو پڑھانے کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلے گا ۔ اس کی بجائے اس تمام مواد کو تباہ کریں جو آپ اپنے بچوں کو پڑھاتے آ رہے ہیں۔
ریاست کو دشمن کے بچوں کو پڑھانے کا خیال آرمی پبلک سکول سانحے کے ایک سال بعد آیا۔ ریاست کتنی آسانی سے یہ حقیقت بھول گئی کہ بچوں کو کسی ہندو، یہودی یا نصرانی نے نہیں بلکہ ریاست ہی کے پالے ہوئے مجاہدین نے مارا۔ قاتلوں میں ایک بھی بچہ دشمن کا نہیں تھا۔ تین افغان تھے، دو چیچنیا سے تعلق رکھتے تھے، دو عرب نژاد تھے۔ اور انہوں نے وہی تعلیم حاصل کر رکھی تھی جو اس قوم کے بچے حاصل کر رہے ہیں۔ ان قاتلوں کی حوصلہ افزائی اسلام آباد کی لال مسجد میں ہوتی ہے۔ مگر ریاست اندھی ہے۔ اسے نظر نہیں آتا۔ معصوم بچوں کے قتل پر ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے ایک ریٹائرڈ لیفٹِننٹ جنرل اس معاملے کو ’دو طرفہ جنگی نقصان‘ قرار دیتا ہے۔ کیا کریں؟ ریاست بہری ہے۔ اسے سنائی نہیں دیتا۔
کوئی بھی دشمن نہیں ہے۔ ہم خود ہی اپنے دشمن ہیں۔ خود اپنے ہاتھوں سے اپنے ہی پیروں پہ کلہاڑی مارتے ہیں۔ اور اس پر نازاں بھی ہیں۔ ہمیں اپنے آپ کو پڑھانا پڑے گا۔ تب ہی ہمارے بچے بھی پڑھ پائیں گے۔ اپنے آپ کے لئے ایسی تعلیم منتخب کرنی پڑے گی جو ہمارے اندر شعور پیدا کرے۔ سوال کرنے کی صلاحیت پیدا کرے۔ ایسی تعلیم جو مہذب قومیں اپنے بچوں کو دیتی ہیں۔ ایسی تعلیم جو انسانوں سے محبت کرنا سکھائے۔ ہماری جیسی ’جید‘ قوم کو تو اتنی تعلیم بھی کافی ہے جس کی بدولت ہم قطار بنا سکیں اور محلے کی گلی کو صاف رکھ سکیں۔ ہمیں مزید پڑھنے سے پہلے وہ سب کچھ بھلانے کی اشد ضرورت ہے جو ہمارے دماغ میں گزشتہ چار دہائیوں سے ٹھونسا جا رہا ہے۔
آرمی پبلک سکول کے بچوں کے ناحق خون کا حساب وہ تو دیں گے ہی جنہوں نے ان کا خون بہایا مگر اسکے ساتھ ساتھ ہر وہ فرد اور ہر وہ کرتا دھرتا بھی اتنا ہی حساب دے گا جس کی پالیسی کے نتیجے میں یہ دل دہلا دینے والا واقعہ ظہور پذیر ہوا۔ سزا جزا سب یہیں پہ ہو گی، یہیں سے اٹھے گا شور محشر.... کسی کے تمغے کسی کام آئیں گے اور نہ کسی کے ووٹ گنے جائیں گے۔ کسی ثبوت اور گواہ کی ضرورت نہ ہو گی۔ سب اپنے اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنے آپ کو سدھارنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

(محمد شہزاد سے [email protected]پر رابطہ کیا جا سکتا ہے)

دشمن کا بچہ....” پر ایک تبصرہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *