پاکستان ایک عربی کی نظر میں

کچھ ہفتے پہلے میں فرنچ زبان کا ایکwafa zaidan امتحان دینے اسلام آباد گئی۔ میرے لیے پاکستان چھوڑ کر قطر جانا آسان فیصلہ نہیں تھا کیونکہ میں نے اپنی عمر کا زیادہ حصّہ پاکستان میں گزارا تھا اور جہاز سے اُترتے ہی میں نے اپنے وطن کی خوشبو کو محسوس کر لیا تھا۔ میں صرف امتحان دینے آئی تھی لیکن مجھے اپنے دورے کو ایک ہفتے کے لیے بڑھانا پڑا اور اسی دوران مجھے اسلام آباد میں پہلی دفعہ منعقد ہونیوالے بلدیاتی انتخابات میں حصّہ لینے کا موقع ملا۔پورے شہر میں عید کا سماں تھا۔ اسلام آباد کی سڑکوں کے دونوں اطراف مختلف پارٹیوں کے پوسٹر آویزاں تھے۔اور لوگوں میں اپنی اپنی پارٹی کے لیے بے پناہ جوش و جذبہ پایا جاتا تھا۔ خود میرے موبائل پر بھی الیکشن سے ایک دن پہلے مختلف امیدواروں کے ووٹ مانگنے کے لیے فون آتے رہے۔جس دن الیکشن تھے اُس دن سب ایسے تیار تھے جیسے کوئی قومی تہوار ہے، اور شائد تھا بھی۔ لوگوں نے سروں پر اپنی پارٹی کے بینڈ بھی باندھے ہوے تھے اور مجھے یہ سب دیکھ کر ایک انجانی سی خوشی ہو رہی تھی۔
مجھے نہیں لگتا کہ میں اپنے عرب دوستوں کو واپس جا کے کبھی بھی لفظوں میں سمجھا پاؤں گی جو میں اُسوقت محسوس کر رہی تھی کیونکہ عرب ممالک میں ووٹ ڈالنے کا نظام سرے سے موجودہی نہیں ۔ کیونکہ وہاں الیکشن لڑنے کی لیے ایک سے زیادہ پارٹیز ہوتی ہی نہیں ہیں۔اقتدار ایک ہی خاندان یا گروپ میں منتقل ہوتا ہے اور ہم بیٹھ کر جھوٹے الیکشن کے منافقانہ نتائج کا انتظار کرتے ہیں اور پھر نقلی جشن بھی مناتے ہیں۔
میرے ساتھی عربیوں کو یہ جان کر بھی حیرانی ہو گی کہ مجھے ووٹ کہاں ڈالنا ہے اُس کے لیے میری رہنمائی پولیس والوں نے کی، اور وہ جس عزت اور احترام سے مجھے لے کر گئے تھے وہ سچ میں سراہے جانے کے قابل ہے۔ عرب میں مددگار پولیس کے نظریے کو ہضم کرنا ذرا مشکل کام ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں پبلک سے دوستانہ رویہ رکھنے والی پولیس کی کمی ہے۔
مجھے فخر ہے کہ میں عرب میں رہنے والی ایک پاکستانی ہوں اور مجھے بھی پاکستان میں ووٹ ڈالنے کی آزادی ہے۔اس طرح سے پاکستان کے سیاسی منظرنامے کی تبدیلی میں میرا بھی ایک کردار ہے۔اور مجھے عرب ممالک کے لیے افسوس ہوتا ہے جہاں کم از کم دس ممالک اب بھی تباہی کا شکار ہیں۔ شائد پاکستان کی موجودہ حالت مثالی نہیں مگر اس ملک میں اجتماعی سیاسی نظام بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔

پاکستان ایک عربی کی نظر میں” پر بصرے

  • جنوری 4, 2016 at 2:49 PM
    Permalink

    مُحترم وجاہت صاحب
    حیرت ہے آپ کی ادارت میں ایسی چوک ہو گئ۔
    خبر کے متن کے مطابق تو یہ نامعلوم موصوفہ قطر میں مقیم ایک پاکستانی ہے۔ جو ایک امتحان دینے اسلام آباد آئی اور لگے ہاتھوں بلدیاتی انتخابات میں اپنا ووٹ بھی ڈال گئی۔
    لیکن خبر کی سرخی میں اسے
    عربی
    بتایا گیا ہے۔
    یاللعجب !!!

    Reply
  • جنوری 12, 2016 at 2:51 PM
    Permalink

    I don,t know how she registered her vote in Islamabad.
    I am living in UAE and i can guaranteed u that UAE police is the best one. I don know how she claim that Arabs police are not cooperative

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *