ظلمت کو ضیا،صرصر کو صبا کیوں بولیں؟

salim javedنقار خانے میں طوطی کی صدا کون سنتا ہے مگر میں بساط بھر، پاکستانی میڈیا کے دجل وفریب کو عیاں کرتا رہوں گا جو رات کو دن ثابت کرکے غلط تاریخ رقم کر رہاہے-فانی آدم زادوں پر کیا تبصرہ مگر مجھے اپنا موقف سمجھانے کے لئے ، مجبوراً دو سیاسی لیڈروں کا کردار ٹٹولنا پڑ رہا ہے۔
آج کل کے محبوب موضوع یعنی ’مالی کرپشن‘کے ذیل میں میڈیا نے کمال محنت سے ، عمران خان کو دیانتدار ترین جبکہ مولانا فضل رحمان کوپاکستان کا کرپٹ ترین لیڈر ثابت کرکھا ہے جب کہ میرے نزدیک صورت حال برعکس ہے۔ معاف کیجئے! میں، میڈیا کے باندھے گھنگھرووں پہ ناچنے کو تیار نہیں، دلیل کو شعور کی پہچان گردانتے ہوئے ثابت کروں گا کہ بات اگر مالی کرپشن کی ہے تو عمران خان، روایتی، اخلاقی، منطقی، قانونی اور شرعی لحاظ سے اس ملک کا کرپٹ ترین آدمی ہے ۔ میری یہ بھی تمنا ہے کہ میرا تجزیہ غلط ثابت ہوپس ہر اس دوست کے تبصرے سے بخوشی استفادہ کروں گا جس نے اپنی عقل پاکستانی میڈیا کو گروی نہیں رکھ دی ہے-
ہماری روایت یہی رہی ہے کہ کسی کا طر ززندگی اس کی آمدنی کے ذرایع سے لگا نہیں کھاتا تو اس کی آمدنی مشکوک سمجھی جاتی ہے۔ عمران خان کا بظاہر کوئی ذریعہ آمدن نہیں تو معلوم نہیں کس مد میں’ غریب عوام کی آخری امید ‘کے پاس اسلام آباد میں 300 کنال پہ پھیلا گھر، مختلف شہروں میں پھیلی،زرعی زمین ہے،اس کے علاوہ شاہانہ رہن سہن ہے جس میں لاکھوں روپے مالیت کے کتے بھی شامل ہیں۔پراپیگنڈہ یہ ہے کہ عمران خان کو کرکٹ سے جو کچھ ملا،اس نے ہسپتال پہ لگا دیا اور خود دار وہ اتنا ہے کہ جمائما کے باپ سے ایک ٹکہ نہیں لیا تو ایں کجا تفاوت است؟ راندہ درگاہ طبقات کے کئی مسیحا، مہاتما بدھ سے لے کر کارل مارکس تک، جدی پشتی جاگیردار تھے جنہوں نے اپنا سب کچھ تج دیا تھا۔ عمران خان وہ واحد غریب پرور لیڈر ہے جسکی ظاہر شدہ جائداد میں تین گھر ہیں(میانوالی، زمان پارک اور بنی گالہ) جس میں وہ تن تنہا رہتا ہے- بظاہریہ سب کچھ اس مالی کرپشن کی طرف اشارہ ہے جس کے بارے میں سابق کارکن پوچھتے رہتے ہیں مگر وہ طرح دے جاتا ہے-
دوسری طرف، مولانا کی صرف بحیثیت رکن پارلیمنٹ دو لاکھ روپیہ ماہانہ اوسط تنخواہ بھی، اس کی 18 سالہ پارلیمانی زندگی کے لحاظ سے 4 کروڑ 32 لاکھ بنتی ہے جس سے اس کا صرف ایک کنال کا ایک گھر ڈیرہ اسماعیل خاں میں ہے۔اس کے علاوہ پورے پاکستان میں یا باہر نہ اس کا کوئی رہائشی گھر ہے، نہ پلازہ، نہ کوئی اور جائیداد۔یہ دعوی بھی ہے، چیلنج بھی ہے اوراسکی مالی دیانت کا ثبوت بھی ہے-
عوام اپنا پیٹ کاٹ کر، پارلیمنٹ ممبران کو بھاری تنخواہ اور مراعات دیتے ہیں تاکہ وہ ان کے لئے قانون سازی کا کام کریں (جو گویا ان کی مزدوری ہوئی)- عمران خان نے نہ صرف خود بلکہ اپنے 35 ارکان کو 6 ماہ تک، پارلیمنٹ کی مزدوری سے روکے رکھا-مزید برآں، باقی پارلیمنٹ کو بھی دیگر ایشوز سے ہٹا کر، دھرنے کے فضول معاملے میں الجھا دیا۔ اس کے باوجود، اپنی غیر حاضری کے دنوں کی پوری تنخواہ اور مراعات، غریب عوام کے ٹیکسوں سے وصولتے ہوئے، ماتھے پہ پسینہ تک نہیں آیا-یہ بہرحال مالی کرپشن ہے، قانونی نہ سہی ،اخلاقی تو ہے ہی اور اس اعزاز میں یہ یکتا لیڈر ہے-
دوسری طرف، مولانا،1988ء سے پارلیمنٹ کے رکن ہیں ،قانون سازی کے نکات پر سب سے زیادہ تفصیلی تقاریر وتجاویز مولانا ہی کی طرف سے آئی ہیں اور پارلمنٹ کا ریکارڈ گواہ ہے کہ اجلاسوں میں سب سے زیادہ حاضری بھی مولانا کی ہے- پس اس نے کم از کم اپنی تنخواہ ضرورحلال کی ہے-
نمایاں لوگوں پہ لوگ بولتے ہی رہتے ہیں۔ ہر کس و ناکس سے بحث اچھی نہیں لیکن کوئی آپ کوبلاوجہ رشوت خور کہے جارہا تو اسے عدالت کھینچ لے جائیں۔ اب یا تو معافی مانگے گا یا پھر آپ پر جو الزام لگایا، اس کا ثبوت دے گا-فرض کریں، آپ نے کسی کو عدالت میں ثبوت پیش کرنے کی تڑی لگائی، اس نے بخوشی یہ چیلنج قبول کرلیا مگر آپ خود ہی پیچھے ہٹ گئے تو منطقی لحاظ سے آپ نے خود چور ہونا تسلیم کرلیا۔ بعینہ یہی صورت حال ہوئی جب عمران خان کے خلاف، خواجہ آصف اور چوہدری نثار نے بھری پریس کانفرنس میں فراڈ کے الزامات لگائے جس پر عمران خان نے بھی بھری پریس کانفرنس میں ان کو عدالت میں گھسیٹنے کا اعلان کیا اور انہوں نے قبول کرلیا۔ یہ عمران خان کے لئے اپنی دیانت ثابت کرنے کا سنہری موقع تھا مگر وہ خود ہی عدالت سے گریز کر گئے۔ یوں منطقی طور پرعمران خان نے خود کو ہی کرپٹ ثابت کردیا۔
دوسری طرف مولانا فضل رحمان جو گذشتہ 40 سال سے سیاسی میدان میں ہے، اس پر پاکستان کی کسی چھوٹی بڑی عدالت میں کوءمالی کرپشن کا کیس تک درج نہیں ہوا –نہ ریاست کی طرف سے، نہ کسی نجی ادارے یا فرد کی طرف سے۔ویسے ایک وکیل صاحب نے لاہور ہائکورٹ میں مولانا پر ایک کیس کر رکھا ہے جسکو مولانا نے کبھی لفٹ ہی نہیں کرائی۔ وہ کیس کیا ہے؟ مولانا نے کبھی کہا تھا کہ امریکہ اگرایک کتے کو بھی مار دے تو اسے شہید کہوں گا۔ کیس یہ کیا گیا ہے کہ مولانا نے شہید کے رتبے کی توہین کی ہے-
دنیا بھر میں ، وعدہ معاف گواہی کو قانونی حیثیت حاصل ہے-کسی مجرم کا ساتھی اس کے خلاف گواہی دے دے تو اسے قانونی ثبوت کا درجہ حاصل ہے۔ بھٹو کا عدالتی قتل اس کے بااعتماد ساتھی کی گواہی کی بنا کیا گیا تھا- ڈاکٹر عاصم پر سارا پریشر اس لئے ہے کہ وہ زرادری کا کولیگ ہونے کے ناتے قانونی ثبوت بن سکتا ہے-الکشن کمیشن کے ایک ممبرافضل خان کو عمران خان اپنے کنٹینر پر دھاندلی کے ضمن میں ایک ثبوت بنا کر پیش کرتے تھے۔ اب یوں ہے کہ عمران خان کے ایک سابق ساتھی، تحریک انصاف فرانس کے سابق صدر، اکبر ایس احمد نے عمران خان پر چندے میں گڑبڑ کا مقدمہ دائرکررکھا ہے اور عمران خان تاریخ پہ تاریخ لیتے ہوئے اس کا سامنا کرنے سے کترا رہا ہے-کسی اور پاکستانی لیڈر کو یہ اعزاز حاصل نہیں کہ اسکے کسی قریبی ساتھی نے یوں برضا و رغبت اپنے لیڈر کی کرپشن کا بھانڈا پھوڑا ہو-میرے خیال میں تو عمران خان کی مالی کرپشن کے لئے یہ ثبوت کافی ہے-
دوسری طرف مولانا فضل رحمان کا سابقہ دست راست، اعظم سواتی، جو مولانا کو چھوڑ کر عمران خان سے جا ملا اور"میرٹ" پر صوبائی صدر بھی بن گیا، اس نے مولانا کو ایک ذاتی خط میں لکھنے کے علاوہ، ٹی وی پر آکر بھی(جرگہ پروگرام)گواہی دی ہے کہ مولانا مالی معاملات میں بالکل صاف ہیں۔
جوا، سٹہ، قمار بازی کو شریعت نے حرام قرار دیا ہے مگر شریعت کو اس ملک میں کون پوچھتا ہے؟ میڈیا نے بتایا کہ فلاں وزیر اعظم کی بیوی لندن میں جوا کھیلتی رہی مگر جناب گواہ نہ ہوں اور ملزم خوداقرار نہ کرے و تو شریعت کسی کو کیوں مجرم قرار دے؟سٹہ کیا ہے؟ فلاں کرکٹ ٹیم جیت گئی تو آپ اتنے پیسے دو گے ورنہ میں دوں گا-اس جرم کا اقرار عمران خان نے میڈیا پہ یہ کہہ کرکیا کہ یہ تو میرے تجربہ کی رقم کمائی ہے۔ یوں شرعی قانون کے لحاظ سے ، پورے ملکی سیاسی لیڈروں میں سے، "اقراری مالی کرپٹ شخصیت "کا اعزاز بھی عمران خان کو حاصل ہے-
دوسری طرف مولانا فضل رحمان کے متعلق ایسی بات تو عوامی سرگوشیوں میں بھی نہیں چہ جائیکہ میڈیا میں یا عدالت میں ہو-
عمران خان اور مولانا فضل رحمان کا ایک اورموازنہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں مگر ہمارے دانشور اینکر"بوجوہ" اس طرف نظر کرم نہیں کرتے-
واقعہ یوں ہے کہ مولانا نے عمران خان کو اپنا لیڈر تو کیا کبھی برابر کاآدمی بھی نہیں مانا-جبکہ عمران خان نے سیاسی اتحاد تو کئی لیڈروں سے کئے لیکن اپنا لیڈر صرف مولانا کو مانا ہے کہ جب 2002ء میں اس نے مولانا فضل رحمان کو اپنا وزیر اعظم قرار دیا تھا-
اب مولانا عمران خان پہ الزام لگاتے ہیں کہ اسے یہودی لابی فنانس کرتی ہے جبکہ عمران خان مولانا پر ڈیزل سمگلنگ کا الزام لگاتے ہیں ۔ صورتحال یہ ہے کہ عمران خان نے مولانا کو وزیر اعظم کے لئے اپنا ووٹ تب دیا تھا جب مولانا پر ڈیزل سمگلنگ کے الزامات کو آٹھ سال گذر چکے تھے لہٰذا عمران خان اس الزام سے خود ہی مولانا کو بری کرچکے ہیں۔
دوسری طرف یہودی ایجنٹ کہنے پر عمران خان نے اگست 2014 میںمولانا کو قانونی نوٹس بجھوایا کہ معافی مانگو ورنہ عدالت میں سامنا کرو-مولانا نے بخوشی یہ چیلنج قبول کرلیا مگر عمران خان ہی میدان سے بھاگ گیا۔ گویا مولانا کی صداقت خود ہی ثابت کر دی-
گذارش یہ ہے کہ نہ عمران خان سے کوئی ذاتی معاملہ ہے نہ ہی مولانا میرے رشتہ دار ہیں۔ قوم کا کوئی لیڈر بھی اگر بددیانت ثابت ہو تو کسی پاکستانی کے لئے اس میں خوشی کی کوئی بات نہیں ہوسکتی۔ یہ بحث صرف یہ بتانے کےلئے کی گئی کہ میڈیا اپنی ذمہ داری میں ڈنڈی مارتا ہے۔ حقائق کو بدلنے والایہ تعصب آنے والی نسلوں کا نظام سے اعتبار اٹھا دے گا اور پھر وہ کسی طالع آزما کا شکار ہوجائیں گے چاہے وہ کسی جرنیل کی شکل میں ہو یا بیت اللہ محسود کی شکل میں-یاد رکھنا چاہیئے کہ آدھا سچ، پورے جھوٹ سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *