لکھو کہ راہوار تھک گئے ہیں ....

wajahatتاریخ کا اٹھلاتا ، بل کھاتا دریا اپنے سفر میں بہت سی منزلوں سے گزرتا ہے۔ کہیں شوریدہ موڑ ہوتے ہیں تو کہیں تنگ گھاٹیوں سے گز رنے کے بعد موجوں میں آہستہ خرامی کے منظر ابھرتے ہیں۔ دیکھنے والی آنکھ واقعے پہ غور کرتی ہے تو کئی تصویریں ایک ساتھ ابھرتی ہیں۔ ضروری نہیں ہوتا کہ ایک ذہن کی تصویریں دوسرے دما غ کی یادوں سے مطابقت رکھتی ہوں۔ ہم سب اپنی اپنی تصویروں اور یاد میں سینت کر رکھے نتائج کی مدد سے لمحہ موجود کا تجزیہ کرتے ہیں ۔ دماغ کے پچھلے حصے میں محفوظ گزشتہ فلم کے مناظر پر اتفاق ضر ور ی نہیں۔ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ کہانی کس موڑ پر پہنچی ہے اور ہم پردہ اٹھنے کے بعد اگلے منظر کے خدوخال کے بارے میں کیا توقعات باندھ رہے ہیں۔ 2 جنوری کی صبح بھارت کے شہر پٹھان کوٹ کے ایئر بیس پر مسلح افراد کے حملے کی خبریں آئیں تو کئی پرانے منظر ابھر آئے۔ دل کو کئی کہانیاں یاد سی آکے رہ گئیں۔ ایک دو منظر آپ بھی دیکھئے۔
مئی 1940 ءکے آخری ہفتے میں اتحادی افواج کو فرانس اور شمالی یورپ کے بیشتر خطوں میں مکمل شکست ہو چکی تھی۔ برطانیہ ، فرانس اور بلجیم کے تھکے ہارے سپاہی ڈنکرک کے ساحل پر بے یارومددگار پڑے تھے۔ اسلحہ چھن چکا تھا۔ کمان بکھر چکی تھی۔ تازہ دم ،مسلح اور پرعزم جرمن افواج تیزی سے ان پرندوں پر جال پھینکنے کے لیے آگے بڑھ رہی تھیں جن کے پر کٹ چکے تھے اور آگے سمندر تھا۔ چرچل اور اس کے ساتھیوں نے فیصلہ کیا کہ جیسے بھی بن پڑے ان سپاہیوں کو قید سے بچانا اور واپس انگلستان لانا ہے۔ عالمی جنگ کا اگلا معرکہ ان جوانوں ہی کو لڑنا تھا جو فی ا لحال کھلے آسمان تلے میلوں تک ساحل کی ریت پر پڑے تھے۔ جنگی جہازوں اور کشتیوں کے علاوہ عام شہریوں سے کہا گیا کہ مچھلیاں پکڑنے والی چھوٹی کشتیوں اور تفریحی اور بوٹس سمیت جو مل سکے، لے کر ڈنکرک پہنچیں اور محصور سپاہ کو برطانیہ لایا جائے ۔ آٹھ سو چھوٹی بڑی کشتیوں کا بیڑا تیار ہو گیا ۔ ایک ناممکن مشن کا بیڑا اٹھایا گیا۔ چھ روز میں تین لاکھ چالیس ہزار فوجی محفوظ ساحلوں پر پہنچ چکے تھے۔ معلوم فوجی تاریخ میں یہ کامیاب انخلا کی حیران کن مثال تھی۔ چرچل نے 4جون 1940 ءکو پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے جہاں اس کامیابی کے نتائج بیان کیے ایک جملہ بہت تاریخی کہا۔ ’جنگیں انخلا کے ذریعے نہیں جیتی جاتیں‘۔
ٹھیک پچیس برس بعد 1965ءمیں پاک بھارت جنگ ہوئی۔ پاکستان کی عسکری کمان نے فیصلہ کیا کہ بھارت کے اندر پٹھان کوٹ ، آدم پور اور ہلواڑہ کے مقام پر چھاتہ بردار اتارے جائیں۔ ہماری عسکری تاریخ میں لکھا ہے کہ ان بہادر جوانوں کی تربیت معمولی نوعیت کی تھی۔ علاقے کے نقشے موجود نہیں تھے۔ زمین پر کسی قسم کی مدد کا امکان نہیں تھا۔میجر خالد گل ریز بٹ کی کمان میں 135 سرفروش فضا سے زمین پر اترے۔ ہدف سے کچھ دور امرتسر پٹھان کوٹ روڈ پر بھارتی فوج سے آمنا سامنا ہوا۔ 20 جوان شہید ہوئے۔ میجر خالد بٹ سمیت 93 بہادر جنگی قیدی بن گئے۔ جنرل موسیٰ خان نے اپنی کتاب My Version میں لکھا کہ بھارتی علاقے میں چھاتہ بردار اتارنے کا فیصلہ درست نہیں تھا کیونکہ سپلائی لائن موجود نہیں تھی۔ جنرل موسیٰ ایک اعلیٰ صلاحیت رکھنے والے پیشہ ور سپاہی تھے۔ وہ ونسٹن چرچل ہوتے تو شاید یہ بھی لکھتے کہ قوموں کی حتمی کامیابی چھاتہ برداروں اور چھاپہ ماروں کی مدد سے نہیں، پائیدار اور یقینی سپلائی لائن سے ممکن بنائی جاتی ہے۔
ڈاکٹر ایل کے حیدر علی گڑھ یونیورسٹی میں معاشیات کے استاد تھے ۔ جولائی 1940 ءمیں جرمنی نے برطانیہ پر فضائی حملہ شروع کیا تو ڈاکٹر حیدر کی صاحبزادی برطانیہ میں تعلیم پا رہی تھیں۔ مختار مسعود روایت کرتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب ریڈیو پر جنگ کی خبریں سننے میں اضطراب محسوس کرتے تھے کہ باپ محفوظ زمینوں پہ تھا اور بیٹی بمباری کی زد میں آئے ہوئے شہر میں تھی۔ کردار اور مقام بدلتے رہتے ہیں۔ والدین اور بچوں میں سلامتی کی تشویش کا مکالمہ روپ بدل بدل کر سامنے آتا ہے۔ رات گئے کامنی مسعود سے بات ہوئی۔ بین الاقوامی تعلقات میں تعلیم پا رہی ہیں۔ گفتگو کے چند ٹکڑے آپ کی نذر۔ سیاق و سباق سے یہ تو معلوم ہو ہی جاتا ہے کہ سوال کس کا ہو گا اور جواب کس نے دیا ہے۔
’ابا پٹھان کوٹ میں کیا ہو رہا ہے‘؟’فکر مت کرو، اس دفعہ نتیجہ مختلف ہو گا۔ آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ نچلے درجے کے انتہا پسندوں نے کارروائی کی ہے۔ بھارت کے وزیراعظم اور وزیرداخلہ کا رویہ حوصلہ افزا ہے۔ پاکستانی حکومت بھی ذمہ دارانہ طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے۔ قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں مگر امکان یہ ہے کہ اس مرتبہ دہشت پھیلانے والوں کو ناکامی ہو گی۔ یہ 1999 ءاور کارگل نہیں ہے۔ 2001ءمیں بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ نہیں ہے۔ 2008ءکے بمبئی حملے نہیں ہیں۔ اختر حسین جعفری نے کہا تھا۔ ’لکھو کہ اس واقعے کے اندر جو تھی کہانی بدل گئی ہے‘۔ تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کوئی حقیقی اور بامعنی پیش رفت ہو سکے گی؟ ہاں پاک چین اقتصادی کوریڈور پورے خطے کے منظر کو بڑی تیزی سے بدل رہا ہے۔ یہ تین ارب انسانوں کے معاشی مستقبل کا سوال ہے۔ اس میں دہشت گردی کی پالیسی کے لیے جگہ نہیں ہے۔ کیا واقعی ؟ہاں ۔ امریکا اور یورپ کو تو چھوڑو، چین اور روس بھی اس نقطے پر متفق ہیں کہ دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ ’پاپا کیا ہم ایک ریاست اور قوم کے طور پر اس سوچ تک پہنچ چکے ہیں‘؟’ پاکستان میں رائے عامہ کے بہت سے متوازی دھارے موجود ہیں لیکن آثار یہی ہیں کہ اعلیٰ ترین سطح پر فیصلہ کرنے والے یکسو ہو چکے ہیں۔ اس میں عسکری قیادت بھی منتخب حکومت کے ساتھ ہے اور فیصلہ کن سیاسی قوتیں بھی حکومت کا ساتھ دے رہی ہیں۔ تم نے دیکھا نریندر مودی کے دورے کا خیر مقدم کرنے والوں میں عمران خان اور بلاول بھٹو بھی شامل تھے‘۔ کیا ہماری عسکری قیادت امن میں پیش رفت پر مطمئن ہے؟ ’ غور کرنے کا نکتہ یہ ہے کہ فوج نے اقتصادی کاریڈور کی حفاظت کی ضمانت دی ہے اور ایک میجر جنرل کی قیادت میں ایک ڈویژن فوج کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ میرا قوی تاثر ہے کہ ہماری عسکری قیادت نے امن کے بادبان کھول دیے ہیں۔ ہمارے رہنما ماضی کے تجربات کی روشنی میں کسی حد تک محتاط ضرور ہیں مگر پرعزم ہیں‘۔ ’پاپا، ان دنوں چھٹیاں ہیں اور مجھے بلوچستان اور پاک بھارت تعلقات پر مطالعہ کا موقع مل گیا ہے‘۔ بیٹی، ان موضوعات پر ذرا محتاط رہنا چاہیے۔ عجلت میں نتیجے نہیں نکالنا۔ یہ ایک پیچیدہ صورت حال ہے۔ گزشتہ سات دہائیوں میں دو دفعہ ہمارے خطے کا جغرافیہ تبدیل ہوا ہے اور ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں بڑھتے ہوئے بین الاقوامی اقتصادی تعاون کی اہمیت عسکری نقطہ نگاہ پر غالب آرہی ہے۔ ’پاپا آپ بے فکر رہیں ۔ مجھے تحقیق کے لیے بہت اچھے ذرائع تک رسائی حاصل ہے‘ ۔’بیٹا ،مسئلہ مواد تک رسائی کا نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ نتائج تک پہنچتے ہوئے سچائی کے تمام ممکنہ زاویوں پر نظر رکھی جائے‘۔ ’ٹھیک ہے ابا مجھے عبداللہ حسین کا افسانہ ’ندی‘ بھیج دیجئے۔ مجھے انٹرنیٹ پر اس کا متن نہیں مل سکا‘۔
چرچل نے 1940 ءمیں کامیاب انخلا کو ناکافی سمجھا تھا ۔ ہم نے 1965 ءمیں سپلائی لائن کی کلیدی اہمیت کو نظرانداز کیا۔ جنرل نیازی کو اٹھتے بیٹھتے برا بھلا کہنا ہمارا پسندیدہ شغل ہے۔ مشرقی پاکستان میں جنرل نیازی اور ان کے جوانوں کی سپلائی لائن مفقود تھی۔ سپلائی لائن کا نکتہ کارگل میں بھی فراموش کیا گیا۔ گھات لگانے والا ذہن سپلائی لائن کی اہمیت نہیں سمجھتا۔ تدبر کرنے والی آنکھ سمجھتی ہے کہ قوموں کی کامیابی چھاتہ بردار کارروائی، چھاپہ مار مہم جوئی اور گھات لگائے رہنے میں نہیں۔ قوموں کی پائیدار ترقی اور خوشحالی کا راستہ راہداری سے ہو کر گزرتا ہے۔ پاکستان میں ان دنوں ایک راہداری تعمیر ہو رہی ہے۔ پرانے راہوار تھک چکے ہیں۔ تازہ بستیاں آباد کی جائیں گی۔ ساحلوں پر خوش رنگ پرندے اتریں گے۔

لکھو کہ راہوار تھک گئے ہیں ....” پر بصرے

  • جنوری 6, 2016 at 1:32 AM
    Permalink

    نسل در نسل مرعوبیت کی عمدہ مثال!

    Reply
    • جنوری 6, 2016 at 4:14 AM
      Permalink

      ارے چل بھائی، تیرے بڑوں سے مرعوب نہیں ہوئے تو تو کیا بیچتا ہے؟

      Reply
  • جنوری 7, 2016 at 12:41 AM
    Permalink

    تبصرہ کریں، تنقید کریں مگر اپنے نام کی ساتھ۔ نیوز ڈیسک کے نام سے تبصرہ کرتے ہوۓ جناب وجاھت صاحب کا نام نہاد لبرلزم کا بھرم تو رکھیں۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *