بوڑھا ہونے سے ڈر لگتا ہے....

raazia syedخالو نسیم ہمارے محلے کے ایک مدبر بزرگ شہری ہیں ۔جب بھی ملتے ہیں بڑی خوش دلی اور دعاﺅں کے ساتھ۔۔۔ لیکن جب بھی اپنے ہم عمر بزرگوں میں بیٹھے نظر آتے ہیں تو کبھی کبھی ان کی آنکھوں میں نمی بھی نظر آتی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے غم کی کوئی داستان اپنے سینے میں چھپائے بیٹھے ہیں ۔ میرا بڑا دل کرتا ہے کہ کبھی ان سے پوچھوں کہ یہ آنسو کس لئے ؟کبھی ہمیں بھی تو شریک راز کیجیے ۔ لیکن ہمیشہ سرراہ ملتے ہوئے کبھی ایسا موقع نہیں ملا اور دوسرا ان کی شخصیت کا رعب اتنا ہے کہ کبھی ان سے یہ سب دریافت کرنے کی ہمت نہیں ہو سکی ۔
خیر چند دن پہلے ان کے گھر کے سامنے سے گذرنے کا اتفاق ہوا تو ان کے بیٹے خالد بھائی کی بلند آوازیں سنیں۔ ان کے لہجے کی کڑواہٹ باہر تک محسوس ہو رہی تھی ، ابا جی دیکھیں ناں پلیز آپ اب میرے دوستوں کے سامنے پرانے قصے لے کر سنانے بیٹھ جاتے ہیں کہ آپ پاکستان کیوں آئے ؟ ہمارا جدی پشتی کاروبار کیا تھا ، ابا جی میرا معاشرے میں ایک مقام ایک عزت ہے ، آپ میری پوزیشن کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ بات تو چند لمحوں کی تھی لیکن مجھے نسیم صاحب کے آنسوﺅں کی کہانی کا علم ہو گیا اور یہ بھی پتہ چلا کہ یہ اور ان جیسے دوسرے عمر رسیدہ افراد بوڑھا ہوجانے سے کیوں ڈرتے ہیں ؟ نیک اولاد کی کیوں دعا کرتے ہیں اور محتاجی کے بغیر زندگی کی کیوں آرزو کرتے ہیں ؟
یہ بہت پرانی بات نہیں لیکن 2006ءمیں کراچی میں صرف تین اولڈ ہاﺅسز تھے جبکہ ملک میں اولڈ ہاﺅسز کی بنیاد سب سے پہلے ایدھی فاﺅنڈیشن نے رکھی تھی ۔۔سرکاری چھ اولڈ ہاﺅسز میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد کے لئے رہنے کی گنجائش ہے ۔ کیا ہمارے یہ بزرگ شہری کسی خصوصی توجہ کے مستحق نہیں ؟ بی بی سی کی ایک آدھ سال پہلے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ شرح خواندگی والے افراد کی عمریں پچاس سے چونسٹھ سال تک ہیں۔ پاکستان میں ساٹھ سال کے اوپر کے افراد کی آبادی ایک کروڑ سے بھی زائد ہے۔ اولڈ ایج میں پہنچنے والوں میں سے ساٹھ فیصد غربت جبکہ چالیس فیصد آپس کی لڑائیوں اور گھریلو سیاست سے متاثرہ ہوتے ہیں ....
اولڈ ہاﺅسز کے فوائد گنوانے والے تو بہت کچھ کہہ سکتے ہیں میں اس پر بات نہیں کروں گی کیوں کہ یہ میرا موضوع نہیں۔ کیونکہ یہ اولڈ ہاﺅسز ان والدین کے بچوں کے پیار کا نعم البدل نہیں ، البتہ معاشرتی بے حسی اور اولاد کی جانب سے غفلت کی واضح علامت ضرور ہیں ۔ آسٹریا کی اسی سالہ خاتون لیونا ہیلمے نے اپنی وفات سے قبل دس لاکھ یورو کے نوٹ جلا کر راکھ کر دئیے کیونکہ وہ اپنی خود غرض اولاد کو اپنی محنت کی کمائی نہیں دینا چاہتی تھیں ، انھوں نے دس سال ایک مقامی اولڈ ہاﺅس میں بھی گذارے تھے۔ ہم ایک ایسا معاشرہ کیوں نہیں بنا سکتے جہاں کوئی کانونٹ جانے والا بچہ اپنی والدہ کو یہ کہہ کر دوروازے پر نہ روکے کہ آپ کی ڈریسنگ ماڈرن نہیں.... آپ پینڈو ہیں ماما .... پلیز میری فرینڈز کے سامنے نہ آئیں ، آپ کو انگریزی نہیں آتی ۔ایک ایسا ملک کیوں نہیں بنا سکتے جہاں عمر رسیدہ افراد کے لئے بھی پر سکون اور محفوظ ماحول ہو، جہاں ان کی پنشن او رجائیداد پر اولاد کی نظر نہ ہو، جہاں دوائی منگوانے کے لئے بھی بیٹوں سے پیسے نہ مانگنا پڑیں۔ بس جہاں کسی بھی ماں یا باپ کو یہ نہ کہنا پڑے کہ جناب بوڑھا ہونے سے ڈر لگتا ہے ....

بوڑھا ہونے سے ڈر لگتا ہے....” پر ایک تبصرہ

  • جنوری 7, 2016 at 12:44 AM
    Permalink

    بہت دردمندی اور خلوص میں گُندھی ہوئی ایک پُر اثر تحریر !!!

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *