نیا سال اورمعیشت کو درپیش چیلنجز

pen and paperناصر جمال

’’روپیہ دباؤ میں ہے اور زیادہ تر لوگ حقیقی شعبوں کی بجائے جوئے کے کاروبار میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ہم بنیادی اصلاحات میں تاخیربرداشت نہیں کر سکتے۔‘‘
ملک کی سرمایہ مارکیٹوں نے کے ایس سی - 100 انڈیکس کو تاریخ کی بلند ترین سطح 25608.85پوائنٹس پرلے جا کرنئے سال کے پہلے دن کو خوش آمدید کہا۔
اس سفر کا آغاز مقامی سرمایہ کاروں نے کیا ہے جس سے ان کے اس اعتماد کا اظہار ہوتا ہے کہ 2014 ء معاشی بحالی کا سال ثابت ہو گا۔یہی وہ اعتماد یا امید ہے کہ جس نے کئی برس سے ملک کو بچایا ہوا ہے۔
2013ء کے آخری چند ہفتوں میں ڈان سے بات چیت کرتے ہوئے، کئی نمایاں کاروباری افراد جیسے میاں محمد منشاء نے باربار اپنے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ نئے سال کے آغاز سے ’’چیزیں بہتر ہونا شروع ہو جائیں گی۔‘‘
ان کی یہ مثبت سوچ بنیادی طور پر ان کے اس یقین سے جڑی ہے کہ حکومت اپنے وعدے کے مطابق زیادہ ترادارہ جاتی، معاشی اور انتظامی اصلاحات کرنا جاری رکھے گی۔حکمران جماعت نے پہلے اپنے انتخابی منشور میں اور اس کے بعد آئی ایم ایف سے مذاکرات میں اس کا وعدہ بھی کیا تھا۔دراصل کچھ لوگوں کو یقین ہے کہ حکومت شایدآئی ایم ایف کے ساتھ طے کردہ ڈیڈ لائن سے کافی پہلے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔
حتیٰ کہ کچھ لوگ تو حکومت کی چند حالیہ’’ کامیا بیوں‘‘کوبے حد نمایاں کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ جیسے کہ بھاری صنعتوں میں گزشتہ برس ترقی کی سالانہ شرح 0.4 فیصد تھی مگر اس سال یہ بڑھ کر 6.6 فیصد ہوگئی ہے۔ توانائی کے بحران میں کچھ کمی ہوئی ہے۔ٹیکسوں سے جمع ہونے والے حاصلات میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔مالی سال کے پہلے پانچ مہینوں میں مالیاتی خسارہ 2.9 فیصد سے کم ہو کر 2.2 فیصد ہو گیا ہے۔ اسی طرح دہشتگردی سمیت میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ سب باتیں ایک بہتر معاشی مستقبل کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
نئے سال کا معاشی مزاج گزشتہ سال سے مکمل طور پر مختلف ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ: کیا یہ مثبت سوچ سرمایہ کاری اور ملازمتوں میں بدل جائے گی؟کاروباری افراد کی اکثریت کو یقین ہے کہ بدل جائے گی۔ اگرچہ مثبت نقطہ نظر کی وجوہات ایک سے دوسرے سرمایہ دار تک پہنچتے پہنچتے بدل جاتی ہیں۔
مثال کے طور پر، ٹیکسٹائل انڈسٹری کے ایک بڑے سرمایہ دار ، 27 رکنی یورپی یونین کی طرف سے دی جانے والی فیاضانہ تجارتی رعایتوں اورحکومت کی جانب سے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو(پنجاب میں، جہاں اس انڈسٹری کی مجموعی پیداواری صلاحیت کا 75 سے 80 فیصد واقع ہے) سردیوں کے دوران بجلی اور گیس کی مسلسل فراہمی (ایک ہفتے میں دو روز)کی حکمت عملی کی نشاندہی کرکے خوش ہوئے۔ انہوں نے اسے کاروبار کے ماحول میں تبدیلی کی ایک علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلی پاکستان کے ٹیکسٹائل کے شعبے میں نئی سرمایہ کاریوں کے ذریعے اس کی صلاحیت کو بڑھائے گی اوراس شعبے میں بالخصوص نچلے پیمانے پر نئے منصوبوں کا آغاز ہو گا۔
؂ البتہ، انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو شرح سود کم کرنے اور اسے خطے کے دیگر ممالک میں رائج موجودہ شرح کے برابر لانے کے لئے بھی اقدامات اٹھانے چاہیں۔
کچھ دیگر نمایاں کاروباری شخصیات کا دعویٰ ہے کہ سابقہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بعد عدالتی مداخلت میں کمی اور کسی اختلاف کو جنم دئیے بغیر فوج کی اعلیٰ قیادت میں تبدیلی ، حکومت کے لئے ایک بہت بڑا موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ عدالت کی جانب سے روک دئیے جانے کے خوف سے آزاد ہو کر سخت فیصلے کرے، جیسا کہ موجودہ جماعت نے اپنے گزشتہ دور میں کئے تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *