تہران ریاض کو اپنے جھگڑے خود طے کرنے دیں

’’اُمہ-اُمہ‘‘ کے مسلسل مگر منافقانہ ورد کے باوجود حقیقت ہے تو بس اتنی کہnusrat-javed نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر کوئی دو یا تین مسلمان ممالک بھی ایسے نہیں جو باہم مل کر سعودی عرب اور ایران کے حکمرانوں کو معقولیت کی راہ اختیار کرنے پر مجبور کرسکیں۔
عرب اور عجم کا جھگڑا بہت قدیم ہے۔ سائرسِ اعظم کے زمانے سے مگر ایران نے خود کو آج کے مشرقِ وسطیٰ کہلاتے علاقوں میں بالاتر رکھا تھا۔ اسلام کی نمو اور فروغ نے اس بالادستی کو گہری زک پہنچائی۔ ’’کسریٰ‘‘ کو زیرنگین کرلینے کے چند برس بعد خلافت مگر ملوکیت میں تبدیل ہوگئی تو مرکز اپنا ’’قیصر‘‘ کے دمشق کوبنایا۔ عرب اور ’’خراسان‘‘ نے کئی صدیوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد بالآخر بغداد کو اپنے زمانے کی جدید ترین ریاست کا مرکز بنایا۔
اس شہر نے مسلکی بنیادوں پر ایک دوسرے کے گلے کاٹنے کی بجائے منطقی دلائل سے خود کو درست ثابت کرنے کا چلن متعارف کروایا پھر مگر وسطی ایشیاء سے اُٹھاہلاکو خان اور سروں کے مینارکھڑے کرتا مصر اور لبنان تک وحشت پھیلاتا چلا گیا۔ بہت سوچ بچار کے بعد مختلف علوم کی مہارت کے ذریعے نئے خیالات اور ایجادات متعارف کروانے کو بے چین ذہن جان کی امان ڈھونڈتے گوشہ نشین یا ہجرت کے ذریعے غیر ملکوں میں محفوظ ٹھکانے ڈھونڈنے پر مجبور ہوگئے۔ ’’خرد‘‘ کی ’’عشق‘‘ سے دوری کا آغاز اسی زمانے سے ہوا اور ابھی تک دُنیا بھر کے مسلمان اجتماعی طورپر خرد دشمنی کے اس رویے سے نجات حاصل نہیں کر پائے۔
آج کی بالادست قوتوں کے مقابل خود کو بے بس پاتے ہوئے اداس اور پریشان ذہنوں نے پناہ ڈھونڈی ہے تو فرقہ وارانہ تعصب میں۔ دلوں میں پلتے غصے اب خود کو اصلی تے وڈا مسلمان ثابت کرنے کے جنون میں بدل چکے ہیں۔ بدقسمتی یہ بھی ہے کہ اس جنون کو سعودی عرب اور ایران دونوں نے بے دریغ انداز میں اپنے مسلکی اور قومی مفادات کے حصول کے لئے بڑھاوا دیا ہے۔
ہمارے نام نہاد دانشوروں کی اکثریت بھی ان دو ممالک میں سے کسی ایک کا دُم چھلہ بن جاتی ہے۔ تہران اور ریاض کے مابین ’’حق وباطل‘‘ کے معرکے برپا ہوتے ہیں تو لبنان،شام، بحرین اور یمن جیسے ملکوں میں۔ پاکستان بھی اس سے محفوظ نہیں رہا۔
1980ء کی دہائی میں ایران اور عراق کے درمیان کئی برسوں تک جو جنگ جاری رہی اس کا اظہار ہمارے ملک میں فرقہ واریت کے فروغ سے ہوا۔ افغانستان کو آزاد کروانے کی لگن میں جنرل ضیاء نے اپنے ملک میں سیاسی عمل کو ظالمانہ سزائیں دے کر روک دیا تھا۔ سیاسی عمل اور جماعتوں کی عدم موجودگی کے باعث پیدا ہوئے خلاء کو پُر کیا دین کے نام پر سیاست کرنے والوں نے جنہیں تیل کی دولت سے مالا مال خلیجی ممالک اور ایران نے اسلحہ بردار لشکروں پر سرمایہ کاری کے ذریعے توانا تر بنادیا۔ ہماری ریاست مکمل بے حسی یا بے بسی کے ساتھ اپنی زمین پر ہوتی ان مسلکی جنگوں کو بس دیکھتی ہی رہ گئی۔ اسے یاد ہی نہ رہا کہ مملکتِ پاکستان اپنی ترکیب میں خاص ہے۔
برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ مملکت کے خواب دکھا کر اس کے لئے جدوجہد کرنے والے ایک ایسے وطن کے متلاشی تھے جہاں ’’شہری‘‘ بسا کرتے ہیں۔ ان شہریوں کو ریاست کی نظر میں برابر کے حقوق میسر ہونا تھے۔ حکومتوں کو ووٹ کی طاقت کے ذریعے قائم کرنے کا اختیار بھی صرف ان شہریوں کے پاس ہونا تھا اور ساتھ ہی اپنی رائے کے اظہار کی بلاخوف وخطر آزادی بھی۔ بانیانِ پاکستان کے واضح طورپر بیان کردہ چارٹر کو ہماری ریاست نے قطعاََ فراموش کردیا ہے۔ بدامنی، خلفشار اور ان کے اوپر ٹی وی سکرینوں پر برپا سیاپے رائیگاں کے اس سفر کی نشانیوں کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں۔
مجھے پورا یقین ہے کہ دس پڑھے لکھے پاکستانی نوجوانوں کو بے ساختہ اکٹھا کرکے ان سے معلوم کرنا چاہوں کہ شیخ ال نمرکون ہے اور موصوف کا تعلق سعودی عرب کے کس شہر سے تھا تو ان میں سے شاید ایک نوجوان بھی مجھے تسلی بخش جواب نہ دے پائے۔ انٹرنیٹ کھولو تو مگر بہت سی آوازیں ان کی پھانسی پر ماتم کناں سنائی دیتی ہیں۔ ہمارے کئی معروف ’’لبرل‘‘ حضرات بھی پوری یکسوئی سے ان کے ہم نوا بن چکے ہیں۔
یہ بات بالکل درست ہے کہ سعودی عرب میں بادشاہی نظام کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کا جینا ناممکن بنادیا جاتا ہے۔ ایران بھی اس ضمن میں لیکن قدیم یونان جیسا ہرگز نہیں۔ کہنے کو وہاں عوام کی منتخب کردہ پارلیمان اور حکومت بھی ہے مگر حتمی اختیار سپریم لیڈر ہی کے پاس ہے جو اپنی قوت خلقِ خدا کے ووٹوں سے نہیں مسلکی بنیادوں پر حاصل کرتا ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے باہمی جھگڑوں میں ہم پاکستانیوں کو اپنے مسلک کی ’’حقانیت‘‘ ثابت کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں۔
ہمارے اپنے مسائل بے شمار ہیں۔ کئی برسوں سے جاری دہشت گردی کے ساتھ ہی ساتھ چند سنجیدہ مسائل لاحق ہیں بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے۔ ہمارے وسائل بے تحاشہ بڑھتی آبادی کے لئے روز بروز مختصر ہوتے چلے جارہے ہیں۔ کوئی غیر ملکی ہمارے ہاں سرمایہ کاری کو تیار نہیں۔ چین نے ہمارا ایک قدیمی یار ہوتے ہوئے اپنی وسیع تر ہوتی معیشت کو ایشیاء اور افریقہ کی منڈیوں سے جوڑنے کے لئے کاشغر سے گوادر تک ایک شاہراہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ 46ارب ڈالر کی خطیر رقم اس شاہراہ کی تعمیر پر خرچ ہونا ہے۔ اس شاہراہ کے مگر اب مغربی یا مشرقی روٹ کا قضیہ شروع ہوگیا ہے اور کئی بار میرے خدشات بھرے دل میں یہ خیال اُٹھاکہ کہیں اس شاہراہ کا انجام بھی کالاباغ ڈیم جیسا نہ ہوجائے۔
پاکستان کے، مختصراََ ایک نہیں بے شمار داخلی مسائل ہیں۔ یہ مسائل اپنی نوعیت میں سیاسی بھی ہیں اور معاشی حوالوں سے ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے والے بھی۔ خدا کے لئے اپنے جذبوں کو ان مسائل کے ادراک اور ان کے حل ڈھونڈنے تک مرکوز کردیجئے۔ ریاض اور تہران کو اپنے جھگڑے خود ہی طے کرنے دیں۔ انہیں میرے وطن میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کے لئے استعمال نہ ہونے دیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *