ُُُکوئی جنسی تعلق نہیں، ہم مشرقِ وسطیٰ سے ہیں

 نومبر کی 25تاریخ adultery punishment 2  کو مصر کے صدر عبدالفتح السسی نے اپنے ملک میں فروغ پاتی اخلاقی اور اقداری خلاف ورزیوں میں کمی لانے کے لیے ایک مہم شروع کی جس کا مقصد کوڑا پھینکنے سے لے کر عورتوں کو ہراساں کرنے تک، جیسے جرائم کی روک تھام تھا۔یہ مہم مصر میں ستمبر کے مہینے میں دو ناچنے والیوں کوجسم کی نمائش کرنے پر دی گئی پھانسیوں کا شاخسانہ بھی ہو سکتی ہے۔ مصر میں اس سے پہلے بھی دہریوں، مرتدوں ، بغیر شادی ساتھ رہنے والوں اور ہم جنس پرستوں کو اخلاقی خلاف ورزیوں پرنائب پولیس کے ہاتھوں سزائیں دی جا چکی ہیں۔
سعودی عرب اور ایران علاقائی اور مذہبی مخالفین ہیں اور دونوں ممالک کے اپنے نائب دستے بھی ہیں جن کا کام لوگوں کو اخلاقی اور اقداری خلاف ورزیوں پر سزائیں دینا ہے۔ ایران میں عورت ذات پابندیوں کا شکار ہے تو سعودی عرب میں بھی غیر کی نظروں سے بچنے کے لیے ’’ ابایا‘‘ اُس کے لباس کا لازمی جزو ہے۔ دونوں ممالک میں عورتوں کو غیر مردوں کے ساتھ جنسی رشتہ کی اجازت نہیں جبکہ ان ملکوں میں شراب نوشی، پارٹیز، اور ایسی دوسری غیر اخلاقی چیزوں پر بھی پابندی ہے۔سعودی میڈیا کی تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ بیوروکریٹ عورتیں جو بہت زیادہ میک اپ کرتی ہیں اُن کو بھی 100 ریال کا جرمانہ کیا جائے گا۔
الجیریا، مراکش اور سوڈان میں بھی پولیس کو اخلاقیات کی خلاف ورزی پر فوری سزا دینے کا حق حاصل ہے۔سوڈان میں زنا کو جرم سمجھا جاتا ہے اور اس کے لیے سخت سزائیں بھی دی جاتی ہیں۔ 1970 کے بعد عرب معاشرہ مذہبی قدامت پسندی کا شکار ہوا اور اخلاقیاadultery punishmentت کو ہی وجہ بنا کر حکمران خود کو حکومت کا حصّہ بنائے رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ابھی گزشتہ سال نومبر میں سعودی عرب میں ایک شاعر کو عورتوں کے ساتھ ناجائز تعلقات رکھنے کی بناء پر پھانسی دی گئی، جبکہ سعودی معاشرے میں بار ہا عورت کو اُس کی حدود کی یقین دہانی کروائی جاتی ہے۔ مراکش اور الجیریا میں جن عورتوں کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے اُن کی شادی زیادتی کرنے والے مرد کے ساتھ ہی کر دی جاتی ہے۔ سعودی عرب سنگین اخلاقی خلاف ورزیوں پر سر قلم کرتا ہے جبکہ ایران میں پھانسی دی جاتی ہے۔
دراصل معاشرتی نکتہ چینی یا عیب جوئی کو برداشت کرنا بڑا ہی مشکل کام ہوتا ہے۔ انسان موت تک کو گلے لگانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔اسی لیے اعتدال پسند یا ترقی یافتہ ممالک میں بھی عزت کے نام پر قتل کیے جاتے ہیں۔ اس بارے میں بات کرتے ہوے ایک لبنانی عیسائی لڑکی کا کہنا تھا کہ اگر میں شہر میں اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ گھومتی ہوں تو یہ معیوب بات نہیں مگر گاؤں میں تو ایک ملاقات پر کہانی بن جاتی ہے۔
مگر اتنی پابندیوں کے باوجود مشرقِ وسطیٰ میں عام لوگوں اور ہم جنسوں کے لیے داشتائیں ڈھونڈنا مشکل کام نہیں۔ اُن کی مدد کے لیے grinder اور tinder جیسی ویب سائیٹس موجود ہیں۔جہاں پہ آسانی سے اِن کی ایک رات کا حسین انتظام ہو جاتا ہے۔ یہاں پر ’’ porn‘‘ دیکھا جاتا ہے۔ اگر فلموں میں سے بولڈ مناظر کاٹ دیے جائیں تو بھی نوجوان وہ فلمیں ڈاؤن لوڈ کر کے وہ مناظر دیکھ لیتے ہیں۔ اور ریاض نہیں تو جدّہ میں ایسی ملاقاتوں میں رنگ برنگے ابائے کیفے کی کرسیوں پر ہی ٹنگے نظر آتے ہیں۔
کچھ لیڈر ایسے بھی ہیں جو اتنی سختی کے خلاف ہیں ۔ جیسے حسن روحانی ایران کے اعتدال پسند صدر ہیں، اُن کا ماننا ہے کہ عورتوں کو تھوڑی آزادی تو ملنی چاہیے۔معاشرتی بگاڑ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جو رہنما علاقوں میں اخلاقی ثالث بنتے ہیں یا بنائے جاتے ہیں، وہ خود ان اقدار کی پابندی نہیں کرتے جن کی وہ تبلیغ کرتے ہیں۔ اب نائب پولیس اُن کے اس دوغلے پن کی روک تھام کے لیے کچھ کیوں نہیں کرتی اس کا جواب تو ابھی ڈھونڈنا باقی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *