پٹھان کوٹ حملہ، پاک بھارت مفاہمتی عمل پھر خطرہ میں

پٹھان کوٹ کے دہشت گindo pak relationsرد حملے نے ایک بار پھر بھارت اور پاکستان کے درمیان مفاہمتی عمل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ پاک بھارت تعلقات کی حالیہ تاریخ اتار چڑھائو کا ایک منظرنامہ  دکھائی دیتی ہے کیونکہ  دونوں ممالک میں کسی بھی واضح سیاسی پیش رفت کے نتیجے میں بھارت میں دہشت گردی کی کارروائی ہو جاتی ہے اور اس کا الزام پاکستان پر دھر دیا جاتا ہے۔پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر ان خیالات کا اظہار برطانوی جریدے" اکنامسٹ" نے اپنی ایک رپورٹ میں کیا ہے جس میں مزید کہا گیا ہے کہ جنرل راحیل شریف کے نزدیک پاکستان کو سب سے زیادہ خطرہ عسکریت پسندوں سے ہے،پاک فوج بھی بھارت کے ساتھ امن میں دلچسپی رکھتی ہے۔جریدےنے مزیدلکھا ہے کہ 2008کے ممبئی حملوں کے آٹھ سال بعد دونوں ممالک میں سرد مہری ختم ہونے جارہی تھی، گزشتہ برس جولائی میں پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بھارتی ہم منصب نریندر مودی نے روس میں ملاقات کی اور قومی سلامتی کے مشیر وں کے درمیان مذاکرات پر اتفاق کیالیکن اس ملاقات کے چند دن بعد بھارتی پنجاب کے پولیس اسٹیشن پر حملہ ہوگیا۔
indo pak relations 2
تازہ ترین پیش رفت مودی کا دورہ لاہور ہے،کسی بھی بھارتی وزیراعظم کا 2004کے بعد یہ پہلا پاکستانی دورہ تھا ،یہ دورہ دونوں ممالک کے مابین دو طرفہ جامع مذاکرات کے آغاز کی طرف سفارتی رابطوں کا ایک تسلسل تھا۔ دو جنوری کو پٹھان کوٹ ائیر بیس حملے اور تین جنوری کو افغانستان میں بھارتی قونصلیٹ پر حملے نے اس ملاقات کو خطرے میں ڈال دیا ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں ماہ پاک بھارت بات چیت کی بحالی کا عمل من موہن سنگھ کے جامع مذاکرات کی کو ششوں کو زندہ کرنے کے مترادف ہے۔ مود ی اپنے آپ کو من موہن سنگھ سے مختلف سیاستدان پیش کرتے ہیں۔من موہن بیوروکریٹک اور دھیمے مزاج کے سیاستدان تھے جبکہ مودی سینہ تان کر قوم پرست ہونے کا دعویٰ کرتے ہیںجن کی سفارت کاری میں ذاتیات کا عمل دخل زیادہ ہے۔اب مودی کے سامنے ایک یہی راستہ ہے کہ اشتعال انگیز آوازوں کو ان سنی کریں اور پاکستان کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھائیں۔ مذاکرات کو ترک کرنے کا مقصد دہشت گردوں کو موقع دینا ہے اور یہی وہ چاہتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *