Site icon DUNYA PAKISTAN

فصل کی خرابی یا لاک ڈاؤن، پاکستان میں رمضان میں کھجور مہنگی کیوں ہے؟

Share

دنیا کے کئی ممالک کی طرح پاکستان میں رمضان اور کھجور لازم و ملزوم ہیں۔

پاکستان میں جہاں مقامی طور پر صوبہ سندھ میں کھجور کے باغات موجود ہیں وہیں ملکی ضرورت پوری کرنے کے لیے اسے درآمد بھی کیا جاتا ہے تاہم اس برس کورونا کی وبا کی وجہ سے پاکستان کی سرحدوں کی بندش سے اس مہینے میں کھجور کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا اندازہ ہے کہ رواں برس پاکستانی بازار میں دستیاب کھجور کی مقدار گذشتہ برس کے مقابلے میں 30 فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔

سندھ کا ضلع خیرپور پاکستان میں کھجور کی کاشت کا سب سے بڑا مرکز ہے جہاں تقریباً ایک لاکھ 75 ہزار ایکڑ رقبے پر کھجور کے باغات ہیں۔

خیرپور کھجور فارمر ایسوسی ایشن کے صدر، صدر الدین کا کہنا ہے کہ پہلے تو آخری سیزن میں سندھ میں کھجور کی فصل کو بارشوں سے نقصان پہنچا جس سے پہلے ہی ڈر تھا کہ رمضان کے ماہ میں کھجور ضرورت سے کم ہو سکتی ہے اور اب یہ سرحدوں کی بندش ہو گئی ہے۔

خیرپور میں ہی کھجور و اناج ہول سیل ایسوسی ایشن کے صدر محمد بشیر ارائیں کے مطابق ’عموماً رمضان سے قبل پاکستان میں کھجور درآمد کی جاتی ہے اور پاکستان رمضان میں استعمال ہونے والی کھجور سب سے زیادہ ایران سے در آمد کرتا ہے۔

’گذشتہ سال پابندی کی وجہ سے ایران سے کھجور کو قانونی طور پر در آمد نہیں کیا جا سکا مگر سرحد کھلی ہونے سے کھجور کسی نہ کسی طرح ایران سے پاکستان پہنچ ہی گئی تھی جس کی وجہ سے قیمتیں زیادہ نہیں رہی تھیں اور ضرورت بھی پوری ہو گئی تھی‘۔

ان کے مطابق ’اس سال لاک ڈاؤن کی وجہ سے ایران سے تو پاکستان میں کھجور رمضان سے قبل تو بالکل نہیں پہنچ سکی۔ دیگر ممالک جن میں عراق شامل ہے وہاں سے بھی در آمد نہیں ہو سکی ہے۔ اس وجہ سے مارکیٹ میں کھجور کی قلت ہے‘۔

اس قلت کی وجہ سے بازار میں کھجور کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ محمد بشیر آرائیں کے مطابق ’گذشتہ سال تھوک بازار میں کھجور کی قیمت دو ہزار سے لے کر پانچ ہزار روپے فی من تک تھی جبکہ اس سال یہی قیمت چار ہزار سے لے کر دس ہزار روپے فی من تک گئی ہے جو کہ گذشتہ سال کی نسبت دوگنی ہے۔

بلوچستان ڈرائی فروٹ مرچنٹ ایسوسی ایشن کے صدر امین آغاز کا کہنا ہے کہ حکومت نے اگرچہ قلت کی کمی کے لیے اقدامات کیے ہیں لیکن وہ کارگر ثابت نہیں ہوں گے۔

ڈاکٹر غلام سرور مرکنڈ کے مطابق جنوبی ایشیا میں پاکستان ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں کھجور پائی جاتی ہے

’28 اپریل کو جو کھجور کے 20 ٹرک ایران سے پاکستان آنے کی اجازت دی گئی ہے اس کا مارکیٹ پر اب کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ایک تو یہ ٹرک پاکستان کی کسی بھی مارکیٹ میں پہنچنے میں تین سے سات دن مزید لیں گے۔ دوسرا رمضان کا آغاز ہو چکا ہے۔ بازار میں قیمتیں مستحکم ہوچکی ہیں۔‘

ان کے مطابق ’کھجور کی جتنی بھی تجارت ممکن تھی وہ رمضان سے قبل ہی ہو جاتی ہے۔ اب کھجور کو ملک کی مارکیٹوں تک پہنچانا بھی ممکن نہیں ہے‘۔

اطلاعات کے مطابق اس وقت ایران کی سرحد پر پاکستانی تاجروں کے سینکڑوں ایسے ٹرک رکے ہوئے ہیں جن پر کھجور لدی ہوئی ہے اور اب پاکستانی تاجر اس کھجور کو محفوظ کرنے کے حوالے سے اقدامات کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

امین آغاز کے مطابق ’جو 20 ٹرک ایران سے آئے بھی ہیں، تاجر ان کا بھی بڑا حصہ محفوظ ہی کریں گے‘۔

پاکستان ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے مطابق سنہ 2019 میں پاکستان میں پچھلے برسوں کے برعکس صرف دس لاکھ ڈالر مالیت کی کھجور درآمد کی گئی جو کہ صرف سعودی عرب اور عراق سے آئی کیونکہ ایران پر بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے قانونی طور پر تجارت ممکن نہیں تھی۔

محمد بشیر آرائیں کے مطابق پاکستان میں آنے والی کھجور میں سعودی عرب اور عراق سے منگوائی جانے والی کھجور کا حصہ صرف 30 فیصد ہے جبکہ 70 فیصد ایران سے آتی تھی۔

’سعودی عرب سے آنے والی کھجور مہنگی ہوتی ہے جسے صرف متمول لوگ ہی استعمال کرسکتے ہیں جبکہ ایران سے آنے والی کھجور سستی ہوتی ہے جسے عوام زیادہ استعمال کرتے ہیں۔‘

پاکستان میں کھجور کہاں پائی جاتی ہے؟

شاہ عبدالطیف یونیورسٹی سے وابستہ رہنے والے ماہر ڈاکٹر غلام سرور مرکنڈ کے مطابق جنوبی ایشیا میں پاکستان ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں کھجور پائی جاتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ملک میں تقریبا ڈھائی لاکھ ایکڑ رقبے پر کھجور کاشت ہوتی ہے جس میں یہ سب سے زیادہ سندھ میں ہوتی ہے اور کھجور کی ملکی پیداوار میں سندھ کا حصہ 50 فیصد تک ہے۔

’سندھ میں بھی سب سے زیادہ خیرپور اور پھر سکھر میں پائی جاتی ہے۔ اس کے بعد بلوچستان کے علاقوں تربت اور پنجگور،پنجاب میں مظفر گڑھ اور جھنگ جبکہ خیبر پختونخوا میں ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے میں کھجور کے باغات پائے جاتے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ کھجور کے سیزن کے دوران اس سے 30 لاکھ سے زیادہ افراد کا روزگار وابستہ ہوتا ہے۔ ’مزدور دیگر صوبوں سے بھی مزدوری کرنے آتے ہیں۔ اس طرح رمضان میں کئی لوگ کھجور فروخت کرتے ہیں۔ ٹرانسپورٹیشن، مزدوری اور دیگر شعبوں میں بھی لوگوں کو روزگار ملتا ہے۔‘

ڈاکٹر غلام سرور مرکنڈ کے مطابق صرف خیرپور میں ہی کھجور کی 30 سے زیادہ پراسیسنگ فیکٹریاں ہیں جہاں ہر سیزن میں 300 سے 1000 تک لوگ کام کرتے ہیں جبکہ عام دنوں میں 100 سے لے کر 400 افراد کو روزگار ملتا ہے۔

مراکش: کھجوروں کی بیش بہا اقسام کا تاجر

کھجور کی آخری فصل کیوں خراب ہوئی؟

خیرپور میں کھجور کاشت کرنے والے صدر الدین کے مطابق ’آخری سیزن میں درختوں پر ہمارا پھل شاندار تھا، معیار بھی بہت اچھا تھا۔ لگ رہا تھا کہ اتنی فصل ہو گی کہ شاید پاکستان کو اپنی ضرورت کے لیے باہر سے کھجور منگوانی ہی نہ پڑے مگر جولائی، اگست میں جب باغات سے پھل اتارنا شروع کیا تو بارشیں شروع ہو گئیں جس سے پھل کو نقصان پہنچا‘۔

ڈاکٹر غلام سرور مرکنڈ کے مطابق درختوں سے جب پھل اتارا جاتا ہے تو اس وقت اسے خشک کرنے کے لیے پانچ سے سات دن درکار ہوتے ہیں۔ اس دوران اگر بارش ہو جائے تو پھل کو نقصان پہنچتا ہے۔ آخری سیزن میں بھی یہی ہوا کہ جب پھل درختوں سے اتار لیا گیا تو بارشیں شروع ہو گئیں اور اس سے کھجور کو نقصان پہنچا۔

پاکستان میں کھجور کی صنعت کو درپیش مسائل

صدرالدین کے مطابق کاشت کاروں کا سب سے بڑا مسئلہ تو یہ ہے کہ ’ان کے پاس ایسا کوئی انتظام موجود نہیں جس سے وہ اپنے پھل کو محفوظ کرکے مناسب موقع پر فروخت کر سکیں۔ اگر سیزن اچھا ہوا ہے، پھل وافر ہے تو ظاہر ہے سیزن کے وقت قیمتیں کم ہوں گی۔ کاشت کار کے پاس اسے محفوظ کرنے کی کوئی سہولت ہی نہیں ہے جس سے فائدہ آڑھتی اٹھائے گا‘۔

سندھ میں کچھ کاشت کار جدید ٹیکنالوجی جیسے کہ سولر ٹنل اور ڈرائر استعمال کررہے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح کاشت کار کی ملک کی براہ راست منڈیوں یہاں تک کہ خیرپور کی منڈی تک بھی رسائی نہیں ہے۔ مڈل مین کاشت کار سے پھل لے کر منڈیوں کے بپوپاریوں تک پہنچاتا ہے۔ وہ کاشت کاروں سے سستے داموں پھل خریدتا ہے جیسے کہ گذشتہ سال تک زیادہ سے زیادہ نرخ تین ہزار روپے من تک تھے اور اب مارکیٹ میں قیمتیں آسمانوں سے بات کررہی ہیں‘۔

ڈاکٹر غلام سرور مرکنڈ کا کہنا تھا کہ کھجور کے کاشت کاروں میں پچاس، سو ایکڑ سے زائد زمین والے کاشتکاروں کی تعداد بہت کم ہو ہے۔ ’زیادہ تر وہ لوگ ہیں جن کے پاس چند کنال زمین ہے اور اس پر چند درخت لگے ہوئے ہیں جن سے کاشت کار کو اپنے باغ پر خرچہ کر کے بھی ایک درخت سے پندرہ سو سے لے کر دو ہزار تک آمدن ہوتی ہے۔ جس وجہ سے وہ بددل ہیں اور اپنے باغات پر محنت نہیں کرتے۔

ڈاکٹر غلام سرور مرکنڈ کے مطابق اس کے علاوہ کھجور کو جب درخت سے اتارا جاتا ہے تو اس وقت اسے خشک کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس سلسلے میں کچھ کاشت کار تو جدید ٹیکنالوجی جیسے کہ سولر ٹنل اور ڈرائر استعمال کر رہے ہیں مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹیکنالوجی کو بہتر کر کے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جائے تاکہ اگر مون سون کی بارشیں ہوں تو بھی پھل محفوظ رہ سکے۔

ان کے مطابق یہ دور موسمیاتی تبدیلیوں کا دور ہے اور ان کے بھی کھجور کی فصل پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

’کاشت کاروں کو اس بات کی تربیت دینے کی ضرورت ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے دور میں وہ کس طرح موافقت طریقہ کار اختیار کرکے اپنی فصل کو بچا سکتے ہیں۔‘

Exit mobile version