پٹرولیم کی مصنوعات پر عائد بھاری ٹیکس

Ikramڈاکٹر اکرام الحق

یہ ایک افسوس ناک بات ہے کہ حکومت پٹرولیم کی مصنوعات پر بھاری ٹیکس وصول کرتے ہوئے مالیاتی خسارہ کم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ایسا کرتے ہوئے وہ اس حقیقت کو نظر انداز کررہی ہے کہ ان مصنوعات کی قیمت میں اضافے کا معیشت پر بالعموم اور غریب عوام پر بالخصوص منفی اثرپڑتا ہے جبکہ تمام شعبوں میں ترقی کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ ہمارا ٹیکس کا نظام امیر افراد کو فائدہ پہنچاتا ہے جبکہ غریب عوام پر بلواسطہ ٹیکسز کا بھاری بوجھ ڈالتا ہے۔ دولت مند اور بااثر طبقے سے انکم ٹیکس وصول کرنے کی بجائے حکومت پٹرولیم کی مصنوعات کی قیمت میں اضافہ کردیتی ہے۔ اس سے طاقتور آئل کمپنیوں کو غیر معمولی فائدہ پہنچتا ہے۔ اگر حکومت ٹیکس کے نظام میں موجود اُن خامیوں کی اصلاح کردے جن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دولت مند افراد اور کمپنیاں ٹیکس بچالیتی ہیں تو حکومت کے پاس اتنا ریونیو اکٹھا ہو سکتا ہے کہ وہ عوام کے لیے ٹرانسپورٹ کا بہتر نظام قائم کرسکے۔ اس سے حکومت کو اربوں ڈالر، جو خام تیل کی درآمد پر صرف ہوجاتے ہیں، کی بچت ہوسکتی ہے ۔
سی این جی اسٹیشنز کی بندش سے تیس جون 2014 تک ہماری تیل کی ضروریات میں سات فیصد تک اضافہ ہوجائے گا ۔ اس کا مطلب ہے کہ تیل کی کھپت ساڑھے اینس ملین ٹن سے بڑھ کر اکیس ملین ٹن ہوجائے گی ۔ اس سے زیرِ گردشی قرضو ں میں اضافہ ہوگا۔ گزشتہ اٹھ سال کے دوران ملک میں پٹرولیم کی مصنوعات میں چار سے پانچ فیصد سالانہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ’’او سی اے سی‘‘ ( ائل کمپنیز ایڈوائزری کمیٹی)سے حاصل ہونے والے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان نے جولائی سے لے کر نومبر تک تیل کی 8.9 ملین ٹن مصنوعات کا استعمال کیا جبکہ 2012 میں اسی عرصہ کے دوران ان مصنوعات کا استعمال 8.1 ملین ٹن تھا۔ اگر اگلے چار ماہ تک سی این جی اسٹیشنز بند رہتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ حکومت دو بلین ڈالر مالیت کا مزید تیل درآمدکرنے پر مجبور ہو گی۔ 2012-13 میں ملک میں 1.6 ملین موٹر سائیکلز تیار ہوئے جبکہ 2003-04 میں تقریباً اَڑھائی لاکھ موٹر سائیکل تیار ہوئے تھے۔ ملک میں پٹرول کی پچپن فیصد کھپت کی ذمہ دار یہی دو پہیوں والی سواری ہے۔
پٹرولیم کی مصنوعات پر عائدکیے جانے والے بھاری بھرکم ٹیکسز نے عام آدمی کی جیب کاٹ لی ہے، چناچہ اس کی زندگی پہلے سے بھی زیادہ دشوار ہو چکی ہے ، جبکہ پٹرولیم کمپنیوں کے منافع اور حکومت کے محصولات میں کھربوں روپوں کا اضافہ ہو چکا ہے(2009 میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں پیش کی جانے والی رانا بگوان داس کمیشن رپورٹ اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے)۔ ایف بی آر نے ’’ Year Book 2012-13‘‘ میں اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ’’ وفاقی حکومت کے محصولات کا سب سے بڑا ذریعہ سیلز ٹیکس ہے۔ 2012-13 کے مالی سال کے دوران سیلز ٹیکس کے ذریعے کل محصولات کا چوالیس فیصد جمع کیا گیا۔ اس مالی سال کے دوران کل سیلز ٹیکس 871 بلین روپے جبکہ نیٹ سیلز ٹیکس 841.3 بلین روپے رہا۔اس طرح سیلز ٹیکس کی وصولی میں گزشتہ مالی سال کی نسبت بالترتیب 2.5 فیصد اور 4.5 فیصد اضافہ دیکھنے میں میں آیا۔ وصول ہونے والے سیلز ٹیکس میں سے نصف کے قریب درآمد کی جانے والی اشیا پر جبکہ نصف ملک میں فروخت ہونے والی اشیا پر وصول کیا گیا۔
2013-14کے مالی سال کے پہلے چھے ماہ کے دوران ایف بی آر کی ریونیو کی وصولی میں ’’سترہ فیصد اضافے ‘‘ ، جس پروزیرِ اعظم نواز شریف اور ان کے مالیاتی امور کے ماہر اسحاق ڈار کو بہت ناز ہے، کی بھی یہی کہانی ہے۔ اُنہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہے کہ پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کی وجہ سے معیشت تباہ ہورہی ہے، لاکھوں پاکستانی غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں اور معاشرے میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ دس جولائی 2009 کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں پیش کی جانے والی رانا بگوان داس کمیشن رپورٹ کے مطابق درآمد کیے جانے والے خام تیل سے لے کرریفائنری میں سے تیار ہوکر نکلنے والے مصنوعات پر حکومت کوکل وصول ہونے والے سیلز ٹیکس کا نصف سے زائد حاصل ہوتا ہے۔ یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ2002 سے لے کر 2009 تک حکومت نے پٹرولیم کی مصنوعات پر 10.23 ٹریلین روپے ٹیکس وصول کیا۔
یہ نہایت شرمناک بات ہے کہ ہم گزشتہ چونسٹھ برسوں کے دوران شہریوں پر ہر قسم کے ٹیکسز کا بوجھ لادنے کے باوجود دو بڑے شہروں،کراچی سے لاہور ، تک عوامی ٹرانسپورٹ اور ہر شہر اور قصبے تک بس سروس کا تسلی بخش نظام بھی قائم نہیں کرسکے ہیں۔ اس کے برعکس مشرف اورشوکت عزیز کے دور میں گاڑیاں خریدنے کے لیے بہت بڑی تعداد میں قرضے دیے گئے۔ ان سے نہ صرف عوام کے پاس ذاتی ٹرانسپورٹ میں اضافہ ہوا بلکہ کار ساز اداروں اور آئل کمپنیوں نے بھر پور نفع کمایا۔ ہمارے ہاں قائم ہونے والی کسی بھی حکومت کی ترجیح عوامی ٹرانسپورٹ کا قیام نہیں ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے نہ صرف عام آدمی ، جو ذاتی ٹرانسپورٹ کی استطاعت نہیں رکھتا، کی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے، بلکہ ہمارا پٹرولیم کا درآمدی بل بھی بڑھ رہا ہے۔2012-13 کے مالی سال کے دوران پاکستان نے 14.914 بلین ڈالر کا تیل درآمدکیا۔ اس میں سے 9.525 بلین ڈالر کی پٹرولیم کی تیار مصنوعات جبکہ 5.392 بلین ڈالر کا خام تیل خریدا گیا۔ اس مالی سال کے دوران پاکستان نے 44.95 بلین ڈالر کی درآمدات کیں۔ اس طرح پٹرولیم کی درآمد کل درآمدات کا کم و بیش تیسرا حصہ ہے۔
درآمدی بل میں کمی لانے کے لیے ہمیں عمدہ عوامی ٹرانسپورٹ کا نظام قائم کرنا پڑے گا تاکہ عوام ذاتی ٹرانسپورٹ سڑکوں پر نہ لائیں۔ چناچہ ہمارے سامنے درپیش چیلنج یہ ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کی حالت بہتر بناتے ہوئے کلین انرجی پر مشتمل معیشت کو فروغ دیں۔ اگر حکومت انتہائی امیر افراد سے صرف 200 بلین روپے مزید نکلوانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت بالترتیب پچیس اور تیس روپے فی لٹرکم کرسکتی ہے۔ اس سے عام آدمی کا بوجھ کم ہوگااور ضروریاتِ زندگی کی قیمت میں نمایا ں کمی واقع ہوگی۔ اس سے بجلی کی پیداوار پر آنے والی لاگت بھی کم ہوگی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *