افغانستان میں ریلوے کیوں نہیں؟

naeem

دنیا میں صرف پانچ قابل ذکر ممالک ایسے ہیں جہاں ریل گاڑی نہیں۔ اس میں Andorra,Cyprus,Iceland,Malta اور افغانستان شامل ہے۔ ان میں صرف افغانستان ایسا ملک ہے جہاں ریلوے ٹریک ممکن تھا لیکن نہیں بنایا گیا۔ اس کی تفصیل بڑی دلچسپ ہے۔
ماضی میں جس طرح چندر گپت موریا نے رعایا پر گائے کا گوشت بند کرکے ان کے ساتھ ظلم عظیم کیا ، اسی طرح افغانستان کے حکمران امیر امان اللہ نے 1920میں ریلوے لائن نہ بچھانے کا فیصلہ کیا ۔یہ فیصلہ بھی عجیب تھا۔ ایران اور اس وقت کے برطانیہ عظمیٰ نے مل کر افغانستان کو انڈیا اور ایران سے ملانے کا منصوبہ بنایا لیکن امان اللہ نے اسے یہ سوچ کر نامنظور کر دیا کہ اس طرح افغانستان پر اس کا اقتدار خطرے میں پڑ جائے چنانچہ اس نے اس وقت کے علماء سے مل کر اپنی رعایاکو یہ سمجھایا کہ ریلوے کا سفر ایک ’’ بدعت ‘‘ ہے ، اور ریل گاڑی میں سفر کرکے افغان گناہ کے مر تکب ہوں گے۔ اس وقت کے علماء نے حکومت کا پورا پورا ساتھ دیا اور یہ منصوبہ ’’کالا باغ ڈیم ‘‘ کی طرح متنازعہ ہو کر ختم ہو گیا۔ لیکن دوسری طرف اسی امان اللہ نے بعد میں کابل سے کچھ میل دور اپنے محل تک ٹرام ٹرین بچھانے کا فیصلہ کیا۔ سات کلومیٹر لمبا ریلوے ٹریک جرمنی کی مدد سے بنایا گیا ۔ چھوٹے انجن اور بوگیاں بھی منگوائیں لیکن اس خود غرض بادشاہ کو اسکی سزا بھی ملی۔ انگریزوں کی مدد سے بچہ سقہ نے اس کا اقتدار اگلے برس چھین لیا اور اس کی ٹرام اور گاڑیاں تباہ و برباد کر دیں لیکن اس وقت تک افغان مذہبی رہنما اور لیڈر دل و جان سے اس بات پر ایمان لا چکے تھے کہ ریل گاڑی ایک بدعت ہے۔ یہ تصور افغانستان میں اس حد تک راسخ ہواکہ پاکستان ، ایران ، روس ، برطانیہ، ترکی، چین سمیت کوئی ملک بھی شدید خواہش کے باوجود وہاں ریلوے لائن نہیں بچھا چکا ۔ روس نے وقتاً فوقتاً 25 کلومیٹر کا جو ٹریک بچھایا ہوا ہے وہ ابھی تک ناکارہ ہے۔
کچھ یہی حال افغانستان میں پرنٹنگ پریس کا ہے ۔ چند ایک حکومتوں کے سوا افغانستان میں کبھی بھی آزاد پریس قائم نہ ہو سکا۔ کتب کی اشاعت اور ان کی خریدو فروخت کا کوئی آزاد ادارہ طالبان کی حکومت تک قائم نہیں تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ افغان عوام میں کوئی شعور پیدا نہ ہو سکا ۔ اگر اٖفغانستان کا تعلق ریل کے ذریعے سے دنیا سے قائم ہو جاتا اور وہاں کسی حد تک آزاد پریس بھی بن جاتا تو افغانستان کی قسمت وہ نہ ہوتی جو اس وقت ہے۔ 70کی دہائی میں ممتاز مصنف اور شاعر ابن انشاء نے افغانستان کا سفر کیا اور لکھا تھا یہ ملک کم از کم ایک صدی پیچھے ہے ، افغانستان جنگ و جدل میں اور نت نئے ہتھیاروں کے استعمال میں شاید دنیا کا جدید ترین ملک ہو لیکن تعلیم اور جدید شعورمیں وہ آج بھی ایک صدی پیچھے ہے۔ امریکہ اور دوسری عالمی طاقتوں نے افغانیوں کو قابو کرنے کے لیے ارب ہا ڈالر خرچ کر دیے لیکن معاملہ اب بھی وہیں کا وہیں ہے ۔ کاش وہ اس سے آدھی رقم افغانیوں کی تعلیم اور دنیا کے ساتھ اس کے رابطے میں خرچ کر دیتے تو نتیجہ اس سے کہیں مختلف ہوتا۔ ذہن میں رہے کہ افغانستان کا دنیا سے بہترین اور آسان ترین رابطہ صرف ٹرین ہی سے ہو سکتا ہے۔ اور د نیا کے ساتھ موثر را بطے کے بغیرافغانوں میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *