پیسہ اور بدعنوانی

money in the handsسٹورٹ جیفریز

پیسے نے ہمیں بدعنوان بنا دیا ہے۔ ہم اب یہ جانتے ہی نہیں کہ کسی چیز کے قیمتی ہونے کا اصل معیار کیا ہوتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے کہ جب ہم پیسے کما رہے ہیں اور ہم یہی چاہتے ہیں تاکہ کہیں ہماری حیثیت یا عزت کم نہ ہو جائے۔سوال یہ ہے کہ پیسہ کس لئے اچھا ہے؟
گلی کے اس پار والا گھر ابھی ابھی850000ڈالر میں فروخت ہوا ہے۔ایک دلدلی مقام پر، قدیم وکٹورین طرز کا،قدیم طرز کی بالکونیوں والا، اسلنگٹن کے ٹوٹے پھوٹے مقام پر بنا ہوا گھر جس کے تنگ سے صحن کو باغ بنادیا گیا ہے، اس گھر کی لاگت اتنی زیادہ ہے جیسا کہ گویا یہ مڈلزبرو یا سٹوک کی کسی گلی میں بنا ہوا کوئی گھر ہو۔
جب کارل مارکس نے 1844ء میں اپنی معاشی اور فلسفیانہ تحریروں میں لکھاکہ پیسہ ’’نظر آنے والا دیوتا ہے‘‘جس کی صلاحیتوں میں شامل ہے، ’’تمام انسانی اور فطری خصوصیات کو ان کی متضاد حالتوں میں ڈھال دینا، عالمگیر تبدیلیاں لانااور چیزوں کو جھٹلا دینا یا ان پر دیوانگی طاری کر دینا: یہ دشمنوں کو دوست بھی بنادیتا ہے،‘‘کارل مارکس یہ پیش گوئی نہیں کر رہا تھا کہ 2013ء میں شمالی لندن کی پراپرٹی مارکیٹ کس طرح جوش میں آجائے گی لیکن وہ غیر ارادی یا اتفاقی طور پر پہلے ہی یہ سب کچھ جانتا تھا۔ ہماری اخلاقی اور سماجی اقدار کا کیا ہوا؟ کیا یہ مالی اقدار سے زیادہ سے زیادہ دور ہو سکتی ہیں؟یا انتہائی خوفناک انداز میں، کیا ہماری اقدار صرف یہ جاننے تک محدود ہیں کہ ہم پیسے سے کیاکچھ خرید سکتے ہیں؟
2014ء میں یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس پاگل پن کو ختم کریں، پیسے پر گرفت کریں،مارکس کے اس دکھائی دینے والے دیوتا پر پوری طرح قابو پائیں اور اسے اپنا طابع بنائیں اور اس سے بچیں جو یہ گزشتہ سالوں میں ہمارے ساتھ کرتا رہا ہے۔ہمیں دیوانہ بناتا رہا، جھٹلاتا رہا، شرمندگی میں مبتلا کرتا رہا، کمینہ بناتا رہا اور بے عزت کرتا رہا۔لیکن ہمیں یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اس لڑائی میں دونوں فریقین برابر نہیں ہوں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *