Site icon DUNYA PAKISTAN

سپریم کورٹ میں کورونا وائرس پر از خود نوٹس کی سماعت: کووڈ 19 سے نمٹنے کے لیے صوبوں اور وفاق کے درمیان ’ہم آہنگی‘ کا فقدان

Share

پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ کا کہنا ہے کہ انا اور ضد سے حکومتی معاملات نہیں چلتے، کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے صوبوں اور وفاق کے درمیان ہم آہنگی نظر نہیں آرہی۔

پیر کے روز چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں اس از خود نوٹس کی سماعت کرنے والے پانچ رکنی بینچ میں شامل جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اور صوبے کے درمیان تعاون نہ ہونے کی وجہ غرور اور انا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ کون کسی کے بارے میں کیا زبان استعمال کر رہا ہے، سب کو معلوم ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کورونا وائرس سے نمنٹے کے لیے ذاتی عناد کی وجہ سے وفاق کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ھم سیلاب اور زلزلے سے نکل آئے اور اس مسئلے سے بھی نکل آئیں گے لیکن مسئلہ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کا متکبرانہ رویہ ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہفتے میں اگر وفاق اور صوبوں نے اس معاملے سے نمٹنے کے لیے کوئی یکساں پالیسی اختیار نہ کی تو پھر عدالت اس ضمن میں عبوری حکم جاری کرے گی۔

اُنھوں نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بینچ میں موجود تمام ججز شفافیت کی بات کررہے ہیں اور بظاہر لگتا ہے کہ اس معاملے میں تمام ایگزیکٹیو ناکام ہو گئے ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو احساس نہیں، اس حساس معاملے پر جہاں لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں حکومتیں ایک ساتھ بیٹھ کر بات کریں۔ اُنھوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ 9 مئی کو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہو گا جس میں لاک ڈون میں توسیع یا نرمی کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا اور تمام فیصلے اتفاق رائے سے ہوں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ معاملہ افہام تفہیم سے حل کریں اور اس نہج پر نہ پہنچے کہ عدالت کو اس میں مداخلت کرنا پڑے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آج کل ٹی وی دیکھیں تو لگتا ہے ملک میں سیاسی جنگ چل رہی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ سیاسی معاملات ہیں اس لیے بہتر ہو گا کہ عدالت سیاستدانوں کو ہی حل کرنے دے۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی سیاسی معاملے میں نہیں پڑیں گے۔

جسٹس قاضی امین نے استفسار کیا کہ کیا شہریوں کی اموات پر سوال پوچھنا ہماری آئنی ذمہ داری نہیں؟ تو اُنھوں نے کہا کہ باہر کون کیا کہتا ہے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اور صوبے کے درمیان تعاون نہ ہونے کی وجہ غرور اور انا ہے

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کورونا سے متعلقہ سہولیات کی کوئی کمی نہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس قیمت پر عوام کو سہولیات مل رہی ہیں وہ بھی دیکھیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے سیکرٹری ہیلتھ سے استفسار کیا کہ کیا اُنھوں نے اسلام آباد میں واقع حاجی کیمپ جس کو قرنطینہ سنیٹر بنایا ہوا ہے، وہاں کا دورہ کیا ہے؟

جس پر سیکرٹری صحت کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے وہاں کا دورہ کیا ہے اور وہاں بستر اور پانی تو موجود ہے لیکن بجلی نہیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ حاجی کیمپ کو کس کے کہنے پر قرنطینہ سینٹر بنایا گیا تھا تو عدالت کو بتایا گیا کہ ایسا این ڈی ایم اے نے کیا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ این ڈی ایم اے کی طرف سے رپورٹ تو آ جاتی ہے لیکن ان کا نمائندہ موجود نہیں ہوتا۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ اربوں روپے خرچ کر رہے ہیں لیکن کسی کو معلوم نہیں کہ ہو کیا رہا ہے؟

اُنھوں نے کہا کہ کسی چیز میں شفافیت نظر نہیں آ رہی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس سے نمٹنے سے متعلق اخراجات کا آڈٹ کروایا جائے گا تو پتہ چلے گا کہ اصل میں ہوا کیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر تھوک میں خریدے جائیں تو ایک ماسک دو روپے کا ملتا ہے ۔ اُنھوں نے استفسار کیا کہ ان چیزوں پر اربوں روپے کیسے خرچ ہورہے ہیں؟

چیف جسٹس نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پتہ نہیں یہ چیزیں کیسے خریدی جارہی ہیں اور سارے کام لگتا ہے کاغذوں میں ہی ہورہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے این ڈی ایم اے سے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے خریدے گئے سامان کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔

عدالت نے متعقلہ حکام سے کہ کہ وہ آئندہ سماعت پر اس بارے میں میں عدالت کو آگاہ کریں کہ یہ حفاظتی سامان کیسے تقسیم کیا گیا۔

عدالت نے زکوۃ اور بیت المال فنڈز میں مبینہ کرپشن پر وفاقی و صوبائی حکومتوں سے بھی جواب طلب کیا ہے اور کہا ہے کہ آئندہ سماعت پر فیصلہ کریں گے کہ ان اداروں میں ہونے والی بدعنوانی کے معاملات نیب کو دینا ہیں یا ایف آئی اے کو۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کورونا وائرس سے نمٹنے سے متعلق وفاق اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے رپورٹ پیش کی گئی ہیں لیکن ان میں کچھ بھی نہیں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پورے ملک کے حالات ابتر ہو رہے ہیں اور جن کا روزگار گیا ان سے پوچھیں کیسے گزارا کر رہے ہیں۔

سیکرٹری ہیلتھ نے عدالت کو بتایا کہ آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں روزانہ ایک ہزار کورونا کیسز سامنے آ رہے ہیں اور کورونا کیسز مثبت آنے کی شرح دس فیصد ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے جاری کی گئیں ریگولیشنز پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ اُنھوں نے کہا کہ حکومت نے مساجد کھول دیں جبکہ مارکیٹیں بند کر دیں۔

اُنھوں نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا مساجد میں کورونا وائرس نہیں پھیلے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ 90 فیصد مسجد میں ریگولیشنز پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے صوبے میں 37 صنعتیں کھولی گئی ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ باقی صنعتوں کے ساتھ کیا مسئلہ ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیتے ہویے کہا کہ پنجاب میں کورونا وائرس کے مریضوں کیساتھ اموات بھی بڑھ رہی ہے اور یہ خطرناک ہے۔

سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سندھ حکومت نے لاک ڈاون کا فیصلہ 2014 کے قانون کے تحت کیا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کا اختیار اسی حد تک ہے جو آئین دیتا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے جو اقدامات اٹھائے ہیں اس بارے میں وفاق سے تصدیق ضروری ہے۔

اس از خود نوٹس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی گئی۔

Exit mobile version