ہوا میں اڑتے پتے (9)

mirza

وہ تینوں لوٹ کر اپنے اپنے کمروں میں گئے تھے۔ طغرل نے اس ملک میں پہلی بار درختوں تلے، لوہے کی چادروں کی اوٹ میں  کھلے آسمان تلے بنے غسل خانے میں نہا کر کپڑے تبدیل کے تھے۔ پھر وہ تینوں اکٹھے ہوئے تھے اور کھانا کھانے میس میں چلے گئے تھے۔ میس میں کھانا کھانے والوں کے لیے نشستیں مخصوص تھیں۔ کھانا خالصتا" روسی نوعیت کا تھا یعنی پہلے سوپ دیا گیا، پھر گوشت کے تلے ہوئے قتلے اور آلو کا پھیکا ملیدہ، ساتھ میں ڈبل روٹی کے ٹکڑے اور پینے کی خاطر ، پھلوں کو پانی میں ابال کر بنایا گیا ہلکا گرم شربت جسے "کمپوت" کہا جاتا ہے۔ کھانا تقریبا" بے ذائقہ تھا جس پر پسی ہوئی سیاہ مرچیں چھڑک کر ذائقے کا بس گمان کیا جا سکتا تھا، البتہ کھانا غذائیت سے بھرپور ضرور ہوگا کیونکہ بقول اس ملک کے لوگوں کے ایسے کھانے میں "ویتامین" یعنی حیاتین محفوظ رہتی ہیں۔ نتاشا متنبہ کر چکی تھی کہ شام کا کھانا سات بجے تک ہی مل سکتا ہے، نزدیک کھانے پینے کی کسی چیزکا دستیاب ہونا ممکن نہیں تھا اس لیے رات کو بھوک مٹانے کی خاطر میس کی میز سے خشک غذا جو بھی اور جتنی بھی مل سکے، اٹھا کر کمرے میں اپنے ساتھ لے جانے میں کوئی مضائقہ نہیں تھا

مگر طغرل ایسا کرنے سے قاصر رہا تھا کیونکہ اسے ایسا کرنا چوری کرنا لگتا تھا، لگتا کیا تھا تھی ہی چوری۔

جب اندھیرا چھا گیا تو کہیں سے موسیقی کی آواز آنے لگی تھی۔ رہائش گاہوں کے بیچوں بیچ، سیمنٹ کا ایک گول چبوترہ تھا، جس کے گردا گرد ایک نیچی جالی دار دیوار تھی، اس میں اندر داخل ہونے کی خاطر چار جگہ سے کھلا رکھا گیا تھا۔ یہ رقص گاہ یعنی دسکو تیکا (Discotheque ) تھی جہاں رات کے گیارہ بجے تک، کھلے آسمان تلے، درحتوں کے جلو میں، آنکھیں خیرہ کر دینے والی روشنی کے نیچے مقبول عام روسی اور مغربی دھنوں پر رقص کی محفل جمتی تھی۔

طغرل دو تین روز تو اس محفل میں شریک ہونے سے ہچکچاتا رہا تھا مگر پھر رقص کناں لوگون میں شامل ہو کر ہاتھ پاؤں ہلانے شروع کر ہی دیے تھے۔ اجتماعی رقص میں تو موسیقی کے آہنگ پر تھرکنا کچھ اس قدر دشوار نہیں تھا  لیکن جب دو تین ہیجان خیز گیتوں کے بعد مدھم موسیقی پر جوڑوں کا رقص شروع ہوتا تھا تو طغرل کسی دوشیزہ کو دعوت رقص دینے سے جھینپتے ہوئے حلقہ رقص سے نکل کر دیوار کے ساتھ کھڑا ہو جایا کرتا تھا۔

ایک روز ایک بھرے بھرے جسم اور سنہری بالوں والی لڑکی نے ہاتھ بڑھا کر اسے رقص کی دعوت دی تھی۔ ظاہر ہے کہ وہ اس کے بولے ہوئے الفاظ سمجھنے سے قاصر تھا مگر ماحول کی ضرورت اور اپنی جانب بڑھائے گئے ہاتھ سے اسے لڑکی کا مدعا معلوم ہو گیا تھا اور اس نے اس کا ہاتھ تھام لیا تھا۔ ایک نوجوان لڑکی کا سر عام ہلکورے لیتے ہوئے، طغرل کے ساتھ چمٹ جانے کا یہ تجربہ اس کا پہلا ایسا تجربہ تھا۔ اس کے جسم میں پتہ نہیں کونسی لہریں دوڑ رہی تھیں۔ مدغم رقص کے دوران قدموں کا اٹھانا اور گرانا کوئی اتنا مشکل نہیں لگا تھا۔ موسیقی ختم ہوتے ہی وہ اس کا شکریہ ادا کر کے حلقہ رقص سے نکل آیا تھا مگر اس تجربے سے اس میں لڑکیوں کو رقص کی خاطر دعوت دینے کی ہمت ضرور پیدا ہو گئی تھی۔

چند روز بعد طغرل اور حسام آڑو خریدنے گئے تھے۔ آڑو بیچنے والی مقامی بڑھیا کے پاس ہری مرچیں بھی تھیں۔ تفریح گاہ کے مطعم میں کھانا چونکہ عام طور پر روکھا پھیکا ہوتا تھا اس لیے طغرل نے کھانے کو "مرچیلا" کرنے کی غرض اس سے پانچ چھ ہری مرچیں پکڑ لی تھیں۔ جب وہ دونوں اوپر کو چڑھتی سڑک پر چل رہے تھے تو انہیں پیراکی کے لباس میں ملبوس دو لڑکیاں سامنے سے آتی کھائی دی تھیں۔ طغرل نے انہیں "ہائی" کہا تھا تو وہ بھی "ہائی کہتے ہوئے، کھلکھلا کر ہنس پڑی تھیں۔ طغرل نے بات بڑھانے کی خاطر ہاتھ بڑھاتے ہوئے ان دونوں کو ایک ایک ہری مرچ پیش کی تھی۔ طغرل کا تحفہ دونوں نے ہی مسکراتے ہوئے قبول کر لیا تھا۔ بھرپور جسم اور گول چہرے والی لڑکی نے مرچ کی نوک کو دانت سے کترا تھا اور زور زور سی سی سی کرنے لگی تھی جبکہ اکہرے بدن والی سروقد لڑکی نے جس کے لمبے گہرے بھورے بال تھے، جس کے "کتا دانت" نوکیلے تھے اور جس کے چہرے کے نقوش کچھ کچھ تاتاروں کے نقوش سے ملتے تھے، پوری مرچ کرچ کرچ کر کے کھا لی تھی پھر بھی اپنی مسکراہٹ قائم رکھی تھی۔ طغرل نے جوش و خروش کے ساتھ اس سے ہاتھ ملایا تھا کیونکہ اس کی یہ "مشرقی ہمت" اسے بھا گئی تھی۔

رات کو وہ ایک بار پھر حلقہ رقص میں نظر آئی تھی۔ طغرل نے اسے دعوت رقص دی تھی۔ ہلکورے لینے کے دوران اس سے اگلے روز پانچ بجے شام تفریح گاہ کے مرکز میں ملنے کا وعدہ لے لیا تھا۔ اگلے روز وہ اپنی سہیلی، جس کا نام ماریا تھا جو وہی تھی جس سے ہری مرچ کی تلخی برداشت نہ ہو سکی تھی، کو ساتھ لے کرمقام مقررہ پر پہنچ گئی تھی، اس بہادر لڑکی کا نام یولیا تھا۔ دونوں ہی بن ٹھن کر آئی تھیں۔ طغرل انہیں لے کر سمندر کی جانب چل پڑا تھا۔

سمندر سے آخری پیراکوں کی واپسی ہو رہی تھی۔ ساحل سے دور، جہاں سے ساحل پر جانے کے لیے اترائی شروع ہوتی تھی، بیٹھی ہوئی گاؤں کی بوڑھی عورتیں، نیلگوں سفید شیشے کے بھدے چھوٹے مرتبانوں میں بھری خوں رنگ شراب بیچ رہی تھیں۔ سمندر آتے جاتے طغرل کبھی کبھار، گھر میں تیار کی گئی یہ انگور کی شراب ان بوڑھیوں سے خرید کر نوش جان کر لیا کرتا تھا۔ پیتے ہوئے اس میں سے تمباکو کی ہمک آتی تھی لیکن اس کا سرور بہت مدھم اور کیف آور ہوتا تھا۔ بعید نہیں کہ انگور کے رس کو "تاؤ" دینے کی خاطر اس میں تمباکو کے چند پتے ڈال دیے جاتے ہوں۔

ماریا اور یولیا سمندر کے کنارے ہوا خوری کرنے کی خاطر طغرل کے ہمراہ تھیں۔ اس ملک میں مروج قاعدوں کے خلاف تھا کہ لڑکیوں کی خاطر مدارت نہ کی جائے چنانچہ اس نے شراب ناب سے بھرے ایسے دو مرتبان خرید لیے تھے۔ ساحل سمندر پر وہ اس جانب چلے گئے تھے جہاں لوگ تھے ہی نہیں، بس بڑے بڑے پتھر تھے جن کے ساتھ سمندر کی لہریں ٹکرا کر واپس ہوتے ہی نزدیکی گہرائی میں ڈوب جاتی تھیں البتہ اپنے پیچھے نمکین پانی کی پھوار اور مرتی ہوئی جھاگ چھوڑ جاتی تھیں۔ وہ تینوں ایک پتھر پر بیٹھ کر مرتبان کو باری باری منہ لگا کر جرعہ ہائے شراب حلق سے نیچے اتارنے لگے تھے۔ سیر کا ذوق، ماحول کا سحر اور طبیعت کا وفور ویسے ہی کم نہیں تھے، اوپر سے انگور کی بیٹی نے ان تینوں کے احساسات سے چہلیں شروع کر دی تھیں۔ طغرل نے دونوں پر شباب لڑکیون کی کمروں میں دھیرے سے بازو ڈال کرکے انہیں اپنی جانب کھینچ لیا تھا پھر باری باری دونوں کے ہونٹوں کے ساتھ اپنے ہونٹ چپکا دیے تھے۔ ایک ایک بوسے کے جادو سے وہ دونوں اس کے دائیں بائیں زانووں پر اپنی نشستیں ٹکا کے بیٹھ گئی تھیں۔ دو جوان بدنوں کا گداز اور حدت اس قدر قریب اور اس قدر ہوش ربا، اس پر طرح یہ کہ وہ دونوں باری باری اس کا منہ اپنی جانب موڑ کر اسے اپنے ہونٹوں سے آب حیات پلا رہی تھیں جس میں انگور کی شراب کی چہل شامل تھی۔ وقت طویل ہو گیا تھا۔ دخت رز کی چہل ماند پڑ چکی تھی۔ وہ تینوں خوشی خوشی تفریح گاہ کے مرکز واپس آ کر ایک دوسرے سے کل ملنے کے وعدے کر کے جدا ہو گئے تھے۔

 

استراحت کی خاطر سفر سے پہلے حسام نے طغرل کو بتایا تھا کہ سمندر پر، لطف انگیزی اور عیش کوشی کے لیے بہت سی ماہ جبینیں دستیاب ہوں گی مگر یہاں اپسرائیں تھیں تو بہت لیکن دسترس ممکن دکھائی نہیں دیتی تھی۔ جب طغرل نے شکوہ کیا تو حسام نے کہا تھا، "جناب اب تو آپ کو اپنا شکار خود ہی کرنا ہوگا" یہ کہہ کر وہ ہنس دیا تھا دوسرے لفظوں میں اس نے اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی مدد کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔

اگلے روز کوئی دو بجے دوپہر، جب حسام پیراکی کرکے اور طغرل  ساحل کے قریب سمندر کے پانی میں بیٹھ کر غوطے لگانے سے تھک گئے تو آ کر سیڑھیوں کے نزدیک بنی استراحت گاہ کے پھٹوں پر لیٹ گئے تھے۔ سمندر کی جانب سے مسحور کن ہوا چل رہی تھی۔ طغرل کو سگریٹ پینے کی طلب ہو رہی تھی۔ اس ملک میں اشیاء کی عدم دستیابی کے حالات کے سبب سگریٹ اور ماچس کا کال تھا۔ یہ دونوں اشیاء بسا اوقات دوسروں سے مانگنی پڑ جاتی تھیں اور اس گداگری سے کسی کو خجالت نہیں ہوتی تھی کیونکہ یہ حالات کی مجبوری کا دستور بن چکا تھا۔ طغرل نے ادھر ادھر نگاہ دوڑائی تو ان سے کچھ ہی دور ایک نوجوان خاتون پیٹ کے بل لیٹی سگریٹ کا دھواں اڑا رہی تھی۔ اس کی کمر پر انگیا کی پٹی اور اس کے سرینوں پر مڑھا جانگیہ انتہائی چمکدار نارنجی رنگ کے تھے۔ اس کے انڈے کی مانند سفید بدن پر یہ رنگ کچھ  جچ نہیں رہا تھا مگر طغرل کو تو ماچس درکار تھی۔ اس نے پاس جا کر لفظ "سپیچکی" یعنی ماچس بول کر دست طلب دراز کر دیا تھا، خاتون نے ایک معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ ماچس کی ڈبیہ اس کی جانب بڑھا دی تھی۔ طغرل نے اپنا نام بتایا تھا، اس نے بھی اپنا نام بتا کر کہا تھا "بیلاروس"۔ مختصر لفظوں میں شام کو ڈسکو میں ملنے کا طے ہو گیا تھا۔ جب اس نے سمندر سے لوٹ کر حسام اور نتاشا کو بتایا  کہ اس نے تن تنہا لڑکی سے شناسائی کرنے کا معرکہ سر کر لیا ہے تو نتاشا نے اسے شاباش دیتے ہوئے کہا تھا، لاؤ دو اتنے روبل جن سے میں وادکا کی بوتل خریدوں گی، رقص گاہ بند ہونے کے بعد تم اسے مے نوشی کی خاطر مدعو کر لینا۔ طغرل نے اس کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے مطلوبہ رقم اس کے ہاتھ پر دھر دی تھی۔

رات کو نتاشا کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے طغرل نے گومل شہر کی اس بیلا روسی دوشیزہ کو شراب نوشی کی دعوت دے ڈالی تھی۔ طغرل کی رہائش گاہ کے سامنے کے نیم روشن پارک میں ایک کمبل بچھا کر انہوں نے محفل سجائی تھی جس میں طغرل اور بیلاروس یعنی سفید روس کی سفید لڑکی کے علاوہ حسام اور نتاشا شریک تھے۔ شغل مے نوشی کے دوران نتاشا نے طغرل کو انگریزی زبان میں اگلی ہدایت دی تھی اور ہدایت دیتے ہوئے کھلکھلا کر ہنسی بھی تھی۔ ہدایت یہ تھی کہ بوتل ختم ہوتے ہی اپنی "عارضی محبوبہ" کو ساحل سمندر پر ساتھ چلنے کی دعوت دے دینا۔ طغرل نے ایسا ہی کیا تھا اور وہ بخوشی رضامند ہو گئی تھی۔ جب وہ دونوں مٹر گشتی کی خاطر روانہ ہونے لگے تھے تو نتاشا نے چابکدستی سے کام لیتے ہوئے، کمبل کو تہہ لگا کر عقب سے طغرل کی بغل میں اڑس دیا تھا۔ طغرل اس کم بخت انتہائی چٹی چمڑی کے ساتھ چپکا ہوا، اس کی نازک کمر کو اپنے بازو کے حلقے میں تھامے اور اس کے نرم  و گرم لبوں کے بوسے لیتے ہوئے، آئندہ کارروائی کا ذوق دل میں لیے، خراماں خراماں ساحل سمندر کی طرف اترنے والی پتھر کی سیڑھیاں اتر رہا تھا۔ وہ طغرل کی لب جوئی اور دست درازی کو بہ خندہ اور مسرور ہو کر قبول کر رہی تھی۔ اتنے میں وہ دونوں سمندر کے کنارے آ لگے تھے۔ آسمان پر پورا ماہتاب جگمگا رہا تھا جس کی روشنی میں سمندر کی جھاگ دار موجیں رقص کرتے ہوئے آ کر ساحل سے ٹکرا رہی تھیں۔

سمندر کے ساحل پر زمین کے کٹاؤ سے بننے والی ایک اوٹ میں ستے پتھروں پر طغرل نے کمبل بچھا دیا تھا اور دونوں اس پر بغل در بغل لیٹ گئے تھے۔ طغرل نے دست درازیوں کو وسیع تر کر دیا تھا۔ لڑکی اس کی گرمجوشی سے جیسے گھلے جا رہی تھی مگر وہ سرعام بوس و کنار کرنے اور فحاشی کا مرتکب ہونے سے گھبرا رہا تھا لیکن دور دور سے اسی طرح کے کٹاؤں سے آتی مدھم صداؤن نے اسے بالآخر بے خوف کر ہی دیا تھا۔ اس وقت ساحل سمندر داد عیش دینے والے جوڑوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ چاند کی چاندنی میں انتہائی سپید عریاں بدن، کرنوں کی اٹھکیھیلیوں سے چمکتی ہوئی اس کی سنہری زلفیں، ہیجان میں سنسناتی ہوئی سانسیں، ابدان کے مساموں سے پھوٹتے پسینے کی بوندوں کو خنک کرتی ہوئی سمندر سے اٹھتی ہوا اور حسینہ کے حلق سے برآمد ہوتی ہوئی کو کو کی سی کیف آگیں صداؤں نے داد عییش کی لذت کو دوچند کر دیا تھا۔ پھر اس نے پیراہن سے بے نیاز اٹھ کر، اپنی کمر تک بکھرے سنہری بالوں کے جلو میں سمندر کی لہروں کے ساحل سے ٹکراؤ سے آگے تک کا سفر کیا تھا اور اکڑوں بیٹھ کر سمندر کے پانی سے خود کو دھویا تھا۔ اس کا پیٹھ کر کے جانا، سمندر کی آتی لہر میں بیٹھنا اور لہر گذر جانے کے بعد اٹھنا اور مڑ کر آنا ایسا منظر تھا جو آج بھی آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح متحرک دکھائی دے جاتا ہے۔ وہ ایک بار پھر اک دوجے کے ساتھ لگے، میلے سے واپس آنے والوں کی سی تکان کے ساتھ ہولے ہولے چلتے ہوئے رہائش گاہوں کے نزدیک پہنچ کر ایک طویل الوداعی بوسے کے بعد اپنی اپنی راہ پر چل دیے تھے البتہ اگلے روز دوپہر کے کھانے کے وقت ملنے کا وعدہ کرنا نہیں بھولے تھے۔

اگلے دن کھانے کے بعد طغرل اسے اپنے کمرے میں لے گیا تھا کیونکہ اس وقت کمرے کے دوسرے تمام ساتھی باہر تھے البتہ کمرے کے باہر ہال میں ساتھ کے کمرے میں مقیم تین چار لڑکیاں طغرل کے کمرے کی دیوار کے ساتھ چپکے میز کے گرد کرسیاں بچھا کر تاش کھیلنے میں مصروف تھیں۔ طغرل نے کمرے کی چٹخنی چڑھا دی تھی اور دونوں ایک بار پھر محبت کے کھیل کے اصولوں کو کھوجنا شروع ہو گئے تھے۔ پلنگ کی چولیں ڈھیلی تھیں جو جسموں کی ہلچل سے بے طرح چرچرا رہا تھا۔ طغرل کو لگتا تھا جیسے تاش کھیلنے والیوں کے کان بس اس چرچراہٹ کی جانب لگے ہوئے ہیں۔  تاش کھیلتے ہوئے ان کے قہقہوں کی آوازیں سن کر اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ اس کے کھیل کی ہنسی اڑا رہی ہوں۔ طغرل مشرقی تھا اس لیے اس کی سوچ بھی ایسی تھی جبکہ وہ ایسے ماحول کی پروردہ تھی جہاں سب اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ دوسروں کے کاموں کی جانب نہ تو کسی کو توجہ دینے کا شوق ہوتا ہے اور نہ ہی وقت ہوتا ہے چنانچہ طغرل کی شریک عمل کو بس اپنی کیف آگینی سے سروکار تھا۔

ویسے بھی دن کی روشنی میں اس کے جسم کی بے حد سفید رنگت اسے اوبھ رہی تھی۔ اس سفیدی کے سبب اس کے اندام سرخی کے ساتھ زردی کا پرتو لیے ہوئے تھے۔ طغرل کو ایک قاز کی یاد آ رہی تھی جس کے سفید پروں کے بیچ سے نکل کر کلبلاتا ہوا عضو اس نے اپنے بچپن میں پہلی اور آخری بار دیکھا تھا تو اسے قے آتے آتے رہ گئی تھی۔ جب وہ دونوں "شرفاء" کا روپ دھار کرکمرے سے باہر نکلے تھے تو ہال میں بیٹھی ہوئی لڑکیوں نے انہیں کنکھیوں سے دیکھتے ہوئے اپنے قہقہوں کو دبا کر مسکراہٹ میں تبدیل کر لیا تھا۔ طغرل کٹ کر رہ گیا تھا لیکن "سفید قاز" نے ان سب کی جانب ایک فخریہ مسکراہٹ اچھال دی تھی جیسے کوئی بہت بڑا کام سرانجام دے کر جا رہی ہو۔

اس ہی رات طغرل نے اسے حلقہ رقص میں کسی اور کے شانے سے لگے ہلکورے لیتے دیکھا تھا۔ ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ طغرل نے اس کے عریاں سفید بدن سے اوبھ کر اور لڑکیوں کے دبے ہوئے قہقہوں کے  مسکراہٹ میں بدل جانے سے خجل ہو کر اس سے رات کو ملنے کا وعدہ نہیں لیا تھا یا پھر یہ کہ وہ اپنے "تفریحی رومان" کی کہانی محض ایک شخص تک محدود نہیں رکھنا چاہ رہی تھی۔ بعد میں وہ ایک دوبار طغرل کو دکھائی تو ضرور دی تھی لیکن آمنا سامنا کبھی نہیں ہوا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *