جمہوری اور لبرل سوچ ہی 'پاکستانیات' ہے

(ساحل منیر کے قلم سے)

sahil munir

اکیسویں صدی کے اِس دوسرے عشرے میں تغیراتِ دوراں نے ہر ذی شعور کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ ریاستی ڈھانچے کو مخصوص عقائد و نظریات کی بھینٹ چڑھا کر ترقی، امن اور خوشحالی کے خواب کو شرمندہء تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔اِس ضِمن میں وطنِ عزیز بھی جِس دہشت گردی،انتہاپسندی اور بدامنی کا شکار ہے اسکا موجب یہی تنگ نظر ذہنیت ہے جِس نے اپنے نفرت انگیز بیانیے میں ریاستی باشندوں کو بطور مساوی شہری تسلیم کرنے کی بجائے مذہبی و فرقہ وارانہ تقسیم کا کڑوا بیج بویا۔واضح رہے کہ بانیء پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح نے تحریکِ پاکستان کی تمام تر جدوجہد میں اس وقت کی مذہبی اقلیتوں کو اپنے بھرپور اعتماد کا یقین دلایا اور قیامِ پاکستان کے بعد ریاستی امور میں انکی شمولیت ممکن بنائی۔ایک ہندو شہری جوگندر ناتھ منڈل کی نوزائیدہ مملکت پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے اجلاس کی صدارت اور وزارت قانون کے قلمدان کا اعزازجناح کی اقلیت پروری اور روشن خیالی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔انہوں نے 11اگست 1947ء کی اپنی تاریخی تقریر میں مذہب کوکِسی بھی فرد کا ذاتی معاملہ گردانتے ہوئے پاکستان کے تمام شہریوں کو بِلا امتیاز مذہب و عقیدہ مساوی قرار دیا۔مگر بدقسمتی سے قائدِ اعظم کی رحلت کے بعدمخصوص تنگ نظرذہنیت کی حامل مذہبی اشرافیہ نے معاشرے کی تقسیم در تقسیم کا عمل شروع کرتے ہوئے اقلیتوں کو دوسرے درجے کے شہری بنا دیا۔جِس کی وجہ سے سماج میں مذہبی انتہا پسندی اور عدم برداشت کے تباہ کن کلچر نے فروغ پایا۔
اِس فکری و نظریاتی انحطاط اور سیاسی و سماجی زوال پذیری کی سب سے زیادہ قیمت پاکستان کی مذہبی اقلیتوں کو چکانا پڑی جنہیں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت دیوار سے لگا دیاگیا۔اقلیتوں کے خلاف ایسے ایسے امتیازی قوانین رائج کیے گئے جنکی آڑ میں انکے جلاؤ گھیراؤکا ایک لامتناہی سِلسلہ شروع ہوگیا۔معاشرے میں عدم برداشت اور متعصبانہ رحجانات کے اِن عوامل نے سانحہء شانتی نگر،جوزف کالونی اور گوجرہ سمیت ایسے لاتعداد واقعات کو جنم دیا جو عالمی برادری میں ملک کی بدنامی کا سبب بنے۔
آج بھی وطنِ عزیز میں اقلیتوں پر ایسے امتیازی قوانین کی مشقِ سِتم جاری ہے جِن کے غلط استعمال نے انہیں شدید عدمِ تحفظ کے احساس میں مبتلا کر رکھا ہے۔درسی کتب میں پاکستانیت کی تعلیم دینے کی بجائے اقلیتوں کو ایک مخصوص تناظر میں پیش کرتے ہوئے قومی دھارے سے کاٹنے کی کوشش نے اِن محروم و پسمانہ طبقات کو ایک عجیب طرح کے احساسِ کمتری میں مبتلا کر رکھا ہے ۔اِس تشویشناک صورتحال میں وزیرِ اعظم نواز شریف کی طرف سے پاکستان کو ایک لِبرل جمہوری ملک بنانے کا بیان یقینناًحوصلہ افزا ہے ۔اسلا م آباد میں پاک امریکہ بزنس کونسل کے وفد کے اعزاز میں دئیے گئے ظہرانہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ہمارا مستقبل جمہوری، لِبرل اور ترقی پسند پاکستان ہے۔اِس حبس زدہ ماحول میں سربراہِ مملکت کی طرف سے دیا جانے والا یہ بیان فی الحقیقت تازہ ہوا کے جھونکے کی حیثیت رکھتا ہے اور اِس کا بھرپور خیر مقدم کیا جانا چاہیے۔لیکن مکرر عرض ہے کہ تاریخ و نصاب میں پائے جانے والے نفرت، تعصب اور عدم برداشت کے حامل مواد کو حذف کئے بغیر اِس بیان کی حقیقی روح پر صحیح معنوں میں عمل در آمد ناممکن ہے۔چنانچہ وقت آگیا ہے کہ دہشت گردی و انتہا پسندی کے درخت کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے ذہن و کردار سازی کے تمام اداروں میں صرف اور صرف پاکستانیت کوفروغ دینے کا قومی بیانیہ مرتب کیا جائے۔

جمہوری اور لبرل سوچ ہی 'پاکستانیات' ہے” پر ایک تبصرہ

  • جنوری 16, 2016 at 5:39 PM
    Permalink

    او بھائ قائد اعظم نے 11 اگست کے علاوہ بھی تقریریں کی ہیں۔ اگر توفیق ہو تو پڑھ لو۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *