ہوا میں اڑتے پتے (11)

mirza

طغرل کو اس ملک میں پہنچے بمشکل ڈیڑھ ماہ بیتے ہونگے کہ اسے اس تاریخی واقعے کا عینی شاہد بننا پڑ گیا تھا۔ ویسے تو اس نے کمیونسٹوں کو زندگی میں پہلی بار تب برا بھلا کہا تھا جب اسے مکھن کی ایک ٹکیا خریدنے کی خاطر پچیسیوں میٹر لمبی قطار میں لگنا پڑا تھا اور عین اس وقت جب دو ڈھائی گھنٹوں کے بعد وہ اس کھڑکی تک پہنچا تھا جس میں سے مکھن بیچا جا رہا تھا تو اندر موجود دکان کی اہلکارہ نے یہ کہتے ہوئے کہ "ماسلا" یعنی مکھن ختم ہو گیا ہے اس کے چہرے کے سامنے موجود چھوٹی سی کھڑکی پٹاخ سے بند کر دی تھی۔ یہ مکھن اسے اپنے لیے نہیں خریدنا تھا بلکہ ہوسٹل میں مقیم ایک ہم وطن لڑکی کے لیے خریدنا تھا جو حسام اور نتاشا کے مقام استراحت پر ہونے کی وجہ سے اس کی رضاکارانہ رفیق بنی ہوئی تھی۔ موصوفہ بڑی عمر کے ایک طالبعلم سے بیاہی ہوئی تھی اور اس کے ایک بچے کی ماں تھی۔ اس کے خاوند کو عمر میں بڑا ہونے کی وجہ سے "بڈھا شہباز" کہا جاتا تھا کیونکہ نوجوان شہباز چاق و چوبند، حاضر جواب اور پھرتیلا میر شہباز تھا جسے دراصل بلغاریہ سے یہاں درآمد کیا گیا تھا کیونکہ طغرل کے ملک کے کمیونسٹوں میں تقسیم ہو چکی تھی جن کے اقلیتی حصے کے موقف کو اس ملک میں موجود ہم وطن طلباء میں مقبول بنانے کی خاطر مناسب خیال کیا گیا تھا کہ میر شہباز کو یہاں بلایا جائے۔

چند روز بعد حسام اور نتاشا باقی طلباء کے ہمراہ تفریح گاہ سے لوٹ آئے تھے۔ چونکہ "بڈھے شہباز" کی اہلیہ نے ان کی عدم موجودگی میں طغرل کی اکتاہٹ دور کرنے کی خاطر اس کا ساتھ دیا تھا اس لیے وہ کبھی کبھار ملاقات کرنے ان کے کمرے میں چلا جایا کرتا تھا۔ ایسی ہی ایک ملاقات سے لوٹنے کے بعد وہ رضائی اوڑھ کر لیٹا ہوا تھا کہ "بڈھے شہباز" نے آ کر دروازہ کھولا تھا اور اول فول بکنے لگا تھا۔ طغرل کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ معاملہ کیا ہے۔ لگتا تھا کہ اسے کوئی غلط فہمی ہو گئی تھی کہ وہ اس کی بیوی کے ساتھ دست درازی کر کے آیا تھا۔ وہ غیرت کا مظاہرہ کرنے کے لیے طغرل کے ساتھ دست و گریبان ہونے آیا تھا۔ اس سے پہلے کہ طغرل اس کا جواب دینے کے لیے بستر سے بلند ہوتا حسام نے کاریڈور سے آ کر اسے پکڑ لیا تھا اور گھسیٹا ہوا، بے عزت کرتے ہوئے اس کے کمرے تک چھوڑ آیا تھا۔ شاید "بڈھا شہباز" پیے ہوئے تھا۔ اس کے بعد طغرل ان میاں بیوی سے کبھی نہیں ملاتھا۔

ایک روز ہوسٹل کے ایک اور کمرے میں طغرل کی ملاقات میر شہباز کے ساتھ ہوئی تھی۔ طغرل سمیت سب پیے ہوئے تھے۔ طغرل نے پیار کے کسی پرتشدد انداز میں  اس کے گلے میں پڑے مفلر کو بل دے کر اس کی گردن کے گرد کس دیا تھا  مگر وہ کمال تعظیم سے برداشت کرتا رہا تھا۔ ایسا کرنے کی وجہ کیا تھی اس کے بعد ان دونوں کو کچھ بھی یاد نہیں رہا تھا۔

حسام اور نتاشا نے طغرل کو روس کی معروف سرکس دکھانے کے لیے اس پرتشدد ملاقات سے اگلے روز کے ٹکٹ خریدے ہوئے تھے۔ حسام نے بتایا تھا کہ سرکس اس ہوسٹل کے نزدیک واقع ہے جہاں میر شہباز رہتا تھا۔ طغرل حسام کے بتائے ہوئے پتے پر میر شہباز سے ملنے چلا گیا تھا۔ میر شہباز اپنے کمرے میں لیٹا ہوا ملا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ وہ کسی "نئی لڑکی" کے آنے کا انتظار کر رہا تھا۔ اس کے کمرے میں بیئر کے کریٹ رکھے ہوئے۔ ان دونوں نے بیئر پینا شروع کر دی تھی۔ طے یہ تھا کہ طغرل مقررہ وقت پر سرکس کی عمارت کے باہر حسام اور نتاشا سے آ ملے گا اور وہ پھر سرکس دیکھیں گے۔ آب جو پینے کے دوران میر شہباز نے طغرل سے کہا تھا کہ بندروں، کتوں کا تماشا دیکھ کر آپ کو کیا لطف آئے گا؟ بہر حال وہ سرکس کے باہر ان دونوں سے ملا تھا اور سرکس کی عمارت میں داخل ہو کر ان کے ساتھ بیٹھا بھی تھا مگر الکحل کے اثر سے اسے ہر چیز دو دو چار چار دکھائی دے رہی تھی اور جونہی جانوروں کے کرتب شروع ہوئے تھے وہ جھلاتے ہوئے سرکس سے نکل کر ایک بار پھر میر شہباز کے پاس پہنچ گیا تھا۔ پھر سے بیئر کے دور شروع ہو گئے تھے۔ کہیں رات گئے وہ حسام کے کمرے میں پہنچا تھا اور دھڑام سے گر کر سو رہا تھا۔

طغرل چونکہ اپنی بیوی کے ساتھ اختلافات اور جھگڑوں کے تشنج سے بچنے کے لیے ملک چھوڑ کر یہاں آیا تھا اس لیے وہ جب کچھ زیادہ چڑھا لیتا تھا تو اس کے سارے دکھ مغز کے کسی نہاں خانے سے برآمد ہو کر لطف آمیزی کو اکثر لطف شکنی میں بدل دیا کرتے تھے۔ ویسے بھی شراب خانہ خراب ایک خاص حد تک برداشت کی جا سکتی ہے۔ اس حد کو پار کر جانے سے شراب اپنے پینے والے کو برداشت کرنے سے انکاری ہو جاتی ہے۔ الکحل کی کیمیا سے مقابلہ کرنا عقلمندی ہے ہی نہیں۔ دوسرے یہ کہ "شراب نا آشنا" معاشرے کے افراد شراب نوشی کے کلچر سے نہ تو شناسا ہیں اور نہ ہی ہم آہنگ۔

روسی وادکا کا اثر سر چڑھ کر بولتا تھا اور طغرل کی اکثر حسام سے ٹھن جایا کرتی تھی۔ وہ بیچارہ تو اس کی آسائش کی خاطر جو کچھ اس سے بن پڑتا تھا کیا کرتا تھا مگر طغرل کو بھی تو اپنا نزلہ گرانے کے لیے وہی میسّر تھا۔ ایسی ہی ایک چپقلش کے بعد طغرل کہیں اور جانے کے لیے جب اس کے کمرے سے نکل کر لفٹ تک گیا تھا تو اس کے دماغ نے کچھ کام کیا تھا کہ کہاں جا رہے ہو؟ کیوں کسی اور کے پاس جا کر اپنے میزبان کی مہمان نوازی کو داغدار کرنے کی حماقت کر رہے ہو اور وہ لوٹ آیا تھا۔

 

میری آنکھوں میں لہو کے کچے ڈوروں کا یہ جال

وادکا کی دین" ہے یا "آنسووں کا انتقال"

آنکھ میں پیچھے کہیں پر پردہ اعصاب پر

تیری یادوں کے جھماکے، اس طرح جل بجھ رہے ہیں

جیسے برقی ویلڈنگ ۔ ۔ ۔

کاش میری آنکھوں میں پیچھے کہیں

سوچوں پہ ہرجائی پنے کے کالے موٹے لینز ہوتے

میں کبھی بھی رت جگے سے، مے کشی سے

اور گریاں باری سے واقف نہ ہوتا

اور شکی لوگوں کے شک کا نہ ہوتا احتمال

 

طغرل کو حالات ہرجائی پن کی جانب دھکیل رہے تھے ورنہ وہ تو گذشتہ تیرہ برس سے ایک ہی در کے سنگ آستاں پر سجدہ ریز تھا۔ بلعم باعور کی تمام عبادت خاک میں مل رہی تھی۔ عزت غیر ملک کے ایک دارالحکومت میں پامال ہو رہی تھی مگر اس بارے میں جاننے والا بھی کون تھا؟ ایک حسام اور دوسری نتاشا۔ وہ اپنے جھگڑوں کی کسی کو ہوا تک نہیں لگنے دیتے تھے۔ اس رات جب طغرل کہیں اور جانے کی خاطر اٹیچی کیس میں کپڑے ٹھونس رہا تھا، اسے احساس ہوا تھا کہ بہت سے کپڑے میلے ہو چکے ہیں۔ اگلی صبح کو ہوشمندی کے عالم میں اس نے حسام سے کہا تھا کہ شست شوئی کا کوئی بندوبست کیا جانا چاہیے۔ اس نے جواب دیا تھا کہ کل بعد از سہ پہر چلیں گے۔

بعد از سہ پہر حسام نے میلے کپڑوں کو ایک رگ سیک میں ٹھونس کر پیٹھ پر لاد لیا تھا اور وہ دونوں پیدل چلتے ہوئے شست شوئی (کپڑے دھونے ) کی ایک "ہال" نما دکان تک پہنچے تھے جس کے داخلی دروازے پر ہی ایک عورت نے ہاتھ جھلاتے ہوئے جھلاہٹ کے انداز میں کہا تھا کہ دکان بند ہو چکی ہے۔ غالبا" چھٹی کا دن تھا ، دکان کو مندرج معمول کے مطابق پانچ بجے بند ہونا تھا مگر ابھی پانچ بجنے میں دس پندرہ منٹ باقی تھے۔  حسام نے طغرل سے کہا تھا کہ آپ یہاں ٹھہریں، میں ابھی آتا ہوں۔ چند منٹ بعد وہ سستے سے تین پھول بمع پتیوں بھری دنٹھلوں کے لے کر آ گیا تھا۔ اس نے جھلائی ہوئی عورت کو وہ پھول پیش کرکے اس کے گال پر بوسہ دیا تھا تو عورت نے مسکراتے ہوئے کہا تھا کہ میلے کپڑے جلدی سے وہان رکھے ہوئے ایک دھاتی ڈبے میں ڈھیر کر دو، ساتھ ہی اس نے جلدی سے ایک رسید بنا دی تھی اور ان کے نکلتے ہی دروازہ بند کرکے اندر "زکریتو" یعنی بند ہے کی پھٹی آویزاں کر دی تھی۔

دوکانداری کا یہ انداز طغرل کے لیے بالکل انوکھا تھا۔ دراصل جب تک ذاتی منفعت پیش نظر نہ ہو لوگوں کے لیے کیا جانے والا کام محض یکسانیت بن کر رہ جاتا ہے چنانچہ لوگ کام کو مصیبت سمجھتے ہوئے اس سے جتنی جلدی ممکن ہو سکے مختلف حیلے بہانے بنا کر جان چھڑانے کی سعی کرنے لگتے ہیں۔ کپڑے دھونے والی دکان کی ملازمہ کو دیے گئے تین سستے پھول  اور ایک غیر جذباتی بوسہ اس کا شخصی مفاد بن گئے تھے یوں اس نے اپنے طور پر اوقات کار کی بندش کا اعلان کیے جانے کے باوجود ان کے میلے کپڑے دھونے کی خاطر قبول کر لیے تھے۔ مقررہ دن جب وہ دھوئے ہوئے کپڑے وصول کرنے گئے  تھے تو اس عورت نے بڑی حیرت سے پوچھا تھا کہ ان کپڑوں میں ایک دوہری قسم کا عجیب و غریب پردہ کیا ہے۔ وہ اس سے بھی زیادہ حیران ہوئے تھے کہ پردہ وہ کس لباس کو کہہ رہی تھی۔ حسام نے بندھا ہوا بنڈل کھڑے کھڑے کھول لیا تھا۔ ان دنوں یہاں پیکٹ نہیں ہوتے تھے اس لیے ہر چیز اور خاص طور پر کپڑے، خاکی رنگ کے موٹے کاغذ میں لپیٹ کر سیڑھ سے باندھ کر دینے کا رواج تھا۔ جب بنڈل کھول کر اس سے استفسار کیا تھا کہ کس پارچے کو وہ پردہ کہہ رہی تھی تو اس نے ان میں سے طغرل کی شلوار نکال کر دکھا دی تھی جسے اس نے پردے کی مانند ہی استری کر دیا تھا۔ اس کے لیے اس قسم کی "چیز" بالکل ہی نئی شے تھی اس لیے اسے اس پر پردہ پونے کا گمان ہو تھا۔ جب حسام نے اسے بتایا تھا کہ یہ انکے "قومی لباس" کا زیریں جزو ہے تو وہ خاصی شرمندہ دکھائی دینے لگی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *