طلبہ یونینز۔۔۔ چند تلخ حقائق

rasool baksh rais

سیاسی طبقے نے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبہ یونین بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ ملک میں ’’جمہوریت‘‘ کے فروغ کے لیے کی جانے والی اس کوشش سے سکولوں کو محفوظ رکھا جائے گا۔ اگر حکمران اشرافیہ اور اسمبلیوں میں ان کے اتحادی جمہوریت کی مضبوطی چاہتے ہیں تو وہ اس کا آغاز سیاسی جماعتوں سے کریں، وہاں جمہوریت کی زیادہ ضرورت ہے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ انہیں اپنی جماعتوں کے اندر جمہوریت راس نہیں آتی اور نہ ہی وہ اس بات کا تعین کرپاتے ہیں کہ جس پارٹی کا عہدہ کس کے پاس ہویا ایوان میں عوام کی نمائندگی کے لیے ٹکٹ کسے دیا جائے، دراصل تمام اختیارات اور عہدے پارٹی کے مرکزی قائد کی مٹھی میں بند ہوتے ہیں۔ نہ ہی ریاستی ادارے جمہوری اقدار کے مطابق چلائے جاتے ہیں۔ اس طرح جمہوری حکمران ہونے کے باوجود اُنہیں جمہوریت سے کوئی لگاؤ نہیں۔وہ عوام کو سیاسی طور پرتقویت پاتے نہیں دیکھنا چاہتے۔
جمہوریت سے بدکنے والی سیاسی اشرافیہ، مذہبی اور لسانی تنظیمیں تعلیمی اداروں میں جمہوریت اس لیے چاہتی ہیں تاکہ وہ ان اداروں میں اپنا کنٹرول حاصل کرسکیں اور جب چاہیں شہر کو مفلوج کر دیں۔ جب کچھ عرصہ پہلے طلبہ یونین پر پابندی لگی تو اس کی وجہ یہ تھی کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ تنظیمیں سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی رکھتی تھیں اور کالج انتخابات’’سیاسی‘‘بنیادوں پر ہوتے تھے۔ طلبہ تنظیموں پر سرمایہ کاری کی جاتی، اُنہیں بھاری فنڈز مہیا کیے جاتے، ہتھیار فراہم کیے جاتے اور قانون کی گرفت میں آنے والے طلبہ رہنماؤں کو سزا سے بچایا جاتا۔ چونکہ طلبہ رہنما اپنے اپنے علاقوں میں ایک طاقتور شخصیت بن جاتے ، اس لیے سیاسی جماعتیں اُن کی طاقت کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتیں۔ طلبہ تنظیموں کو پی پی پی، جماعتِ اسلامی، پی ایم ایل ،مذہبی اور لسانی جماعتوں کی حمایت حاصل ہوتی۔سابق دورمیں ان جماعتوں نے طلبہ کی طاقت کوبہت بے رحمی سے استعمال کرتے ہوئے اپنے سیاسی مخالفین کو دبایا اور اپنے نظریات کو پروان چڑھایا۔ باد ی النظر طلبہ کو سیاسی راہوں پر گامزن کرنے میں کوئی حرج نہیں ہوتا لیکن جس طرح اور جن مقاصد کے لیے طلبہ کو سیاسی جماعتیں استعمال کرتی ہیں، وہ یقیناًجمہوری اقدار کے منافی ہے۔ جماعت اسلامی نے طلبہ ونگ ( جو جمعیت کہلاتا) کے ذریعے اپنے مخصوص نظریات کا پرچار کیا ۔ان کے ذریعے جمامعات کا ماحول گھٹن زدہ ہوگیا۔ طلبہ تنظیموں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ خیبر پختونخواہ سے لے کر کراچی تک سیاسی جماعتیں اپنے طلبہ ونگ کے ذریعے مظاہرے کرتے ہوئے بتاتیں کہ وہ عوام ، خاص طور پر نوجوان طبقے ، میں کتنی مقبول ہیں۔
سیاسی جماعتوں نے طلبہ تنظیموں پر سرمایہ کاری سے کیا حاصل کیا؟ سب سے پہلے ہم دیکھتے ہیں طلبہ تنظیموں کی طاقت کا مظاہرہ ایوب خان کے خلاف دیکھنے میں آیا۔ میری نسل کے طلبہ کو احتجاجی مظاہروں کے وہ دن یا دہوں گے۔ اُس وقت طلبہ کی سیاسی سرگرمیوں کو سیاسی جماعتوں کی حمایت اور پشت پناہی حاصل نہیں تھی۔ وہ دراصل سیاسی مداخلت سے بڑی حد تک پاک تحریک تھی۔ اُن دنوں گلیوں اور سڑکوں پر مارچ کرنے والے طلبہ رہنماؤں کسی سیاسی جماعت کے عزائم کی نمائندگی نہیں کرتے تھے لیکن اتفاقی مطابقت ضرور پائی جاتی تھی۔ اُس تحریک کی شدت اور اثر انگیزی نے سیاسی جماعتوں کو طلبہ کی طرف متوجہ کردیا۔ منشور کی مطابقت نے سیاسی جماعتوں کو مخصوص طلبہ تنظیموں کو اپنی چھتری تلے لینے پر مائل کیا۔
سیاسی جماعتوں کی مداخلت سے طلبہ کی سیاسی سرگرمیوں میں جدت اور تخلیقی فکرختم ہوگئی اورنوجوان نسل کے ہاتھ میں قلم اور کتاب کی بجائے ہتھیار دکھائی دینے لگے۔ اس کے بعد ووٹ کی بجائے ہتھیاروں کی طاقت سے کیمپس فتح کرنے کی تحریک دکھائی دی اورسیاسی آقاؤں کی شہ پر طلبہ تنظیمیں مورچہ بند ہوکر لڑتی دکھائی دیں۔ بہت سے نامی گرامی ڈان ان کی صفوں سے ابھرے ، دھشت پھیلائی ، سرمایہ کاری کرنے والوں کے سیاسی مقاصد پورے کیے ،حریفوں کو ٹھکانے لگایا، لیکن ہم نے کسی کے خلاف قانون کو حرکت میں آتے نہ دیکھا، اور جب اُن کی ضرورت نہ رہی ، یا وہ سیاسی جماعت کے لیے خطرہ بنتے دکھائی دیے تو کسی مبینہ پولیس مقابلے میں پار کردیے گئے۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا ہمارے شہروں کی دیواریں بہت سے طلبہ ’’شہدا‘‘ کے پیغامات سے سیاہ تھیں۔ ان طلبہ رہنماؤں کی طاقت کے سامنے عام طلبہ ، حتی کہ کالج انتظامیہ بھی بے بس تھی۔ کراچی، لاہور، پشاور اور دیگر بڑے شہروں کے تعلیمی اداروں کے ’’صدر‘‘ بے پناہ طاقت رکھتے تھے۔
مجھے یقین ہے کہ جمہوریت کو فروغ دینے کے لیے اور بھی بہت سے طریقے ہیں ۔ اسے گراس روٹ لیول سے ہی پروان چڑھانا چاہیے۔ تسلیم کہ طلبہ تنظیموں کے لیے ذریعے بھی جمہوریت کی آبیاری کی جاسکتی ہے ، لیکن افسوس، ہمارا ماضی کا تجربہ بہت تلخ ہے۔ طلبہ تنظیموں کو سیاسی جماعتوں کے ونگ نہیں بننا چاہیے، لیکن اس کے سوا سیاسی اشرافیہ کا اور مقصد کیا ہے؟ کیا ہم ایک مرتبہ پھر اپنے کیمپسز کو میدانِ جنگ میں تبدیل ہوتے دیکھنے والے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *