ہوا میں اڑتے پتے (14)

mirza

لاہور میں قیام کے دوران اس کی حسب معمول نفیسہ کے ساتھ ملاقات رہی تھی۔ نفیسہ اس کی اور اسکی بیوی کی دوست تھی جو ایک اعلٰی سرکاری عہدے پر مامور تھی۔ اس نے اس سے پوچھا تھا کہ تم وہاں حامد سے نہیں ملے۔ حامد نفیسہ کا شوہر تھا۔ اس نے کہا تھا نہیں تو نفیسہ نے بتایا تھا کہ وہ اب ماسکو میں موجود ہے اور "ہیومن ریسورسز" کا کام کرتا ہے۔ طغرل نے تفصیل میں جانا اس لیے ضروری خیال نہیں کیا تھا کیونکہ ایک تو اس کا پیارا دوست انظر بھٹی ایک زمانے میں وفاقی وزارت برائے مین پاور اینڈ ہیومن ریسورسس میں سیکشن آفیسر رہ چکا تھا، جس کے ہاں اس نے کئی بار کئی کئی روز تک قیام کیا تھا اور اس کی وزارت کے بارے میں اس سے پوچھتا رہا تھا۔ دوسرے اس کے جاننے والوں میں دو ایک ڈرائیور اور ایک دو قاصد قسم کے سرکاری اہلکار تھے جو خود کو "اجنٹ" کہا کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ وہ ٹریول ایجنسیوں کے ایجنٹ کے طور پر مزدوروں کو متحدہ عرب امارت کے لیے "بک" کرتے ہیں چنانچہ وہ یہی سمجھا تھا کہ یہ کوئی قانونی کام ہے جس میں سروس چارجز لے کر لوگوں کو قانونی طور پر غیر ملکوں میں ملازمتوں میں کھپانے کا کام کیا جاتا ہے۔

ماسکو کے ہوائی اڈے پر جہاں حسام اور نتاشا اس کے لیے گرم جیکٹ لیے اسے لینے آئے ہوئے تھے وہاں حامد بھی کالا اوور کوٹ پہنے، پان پراگ مسالہ چباتے ہوئے ایک نوجوان کے ہمراہ طغرل کو لینے کی خاطر مسکراتا ہوا موجود تھا۔ طغرل نے اس کا حسام کے ساتھ تعارف کراتے ہوئے اس کے ساتھ جانے سے معذرت کرتے ہوئے کہا تھا،"مجھے حسام کے ساتھ جانا ہے اس لیے نفیسہ اور تمہارا دونوں کا ازحد شکریہ"۔ حامد نے اسے اگلے روز شام کو اپنے ہاں آنے کی دعوت دی تھی اور حسام نے اس کا پتہ لکھ لیا تھا۔ وہ ٹیکسی میں سوار ہو کر حسام کے ہوسٹل پہنچ گئے تھے۔ راستے میں دبئی ایر پورٹ کی ڈیوٹی فری شاپ سے وہ "آتش" خرید ہی لایا تھا اس لیے وہ اس کی آمد کو "سیلیبریٹ" کرتے ہوئے نیند کی وادی میں اترگئے تھے۔
صبح بیدار ہوئے تھے۔ ناشتے سے فراغت کے بعد حسام نے بتایا تھا کہ اس نے ایک کمرہ کرائے پر لے لیا ہے جو ایک عورت کے کوارتیرے ( کوارٹر کی نسبت سے روسی زبان میں اپرٹمنٹ یا اپرتمان کو کوارتیرا کہا جاتا ہے) کے گھر کے دو کمروں میں سے ایک ہے۔ اس کمرے کو بطور رابطہ دفتر کام میں لایا جا سکے گا البتہ مالکہ مکان سے یہ بات بھی ہو چکی ہے کہ بوقت ضرورت وہاں کبھی کبھار رات بھی بسر کی جا سکے گی۔ اس نے وعدہ کیا تھا کہ ایک دو روز بعد وہ طغرل کو کمرہ دکھا لائے گا کیونکہ آج شام تو انہیں حامد صاحب کے ہاں جانا تھا۔
ویسے تو دنیا جہاں کی خواتین اور لڑکیاں کسی کے ہاں جانے کے لیے بناؤ سنگار کرتی ہی ہیں مگر روسی لڑکیاں کچھ زیادہ ہی بن ٹھن کر جاتی ہیں۔ نتاشا "منی اسکرٹ" پہن کر ہمارے ساتھ گئی تھی۔ حامد نے ایک کمرے میں جسے وہ بطور ڈرائنگ روم استعمال کرتا تھا، میز پر جانی واکر بلیک لیبل وہسکی کی بوتل اور خشک پھل وغیرہ پہلے سے سجا کر رکھے ہوئے تھے۔ وہ بڑے ہی تپاک کے ساتھ ملا تھا۔ نتاشا سے ملتے ہوئے اس کی آنکھ میں طغرل کو میل دکھائی دیا تھا، تھوڑی ہی دیر بعد ان سب نے پہلا جام لے لیا تھا۔ حامد باورچی خانے میں جا کر پکتے ہوئے کھانے کو بھی دیکھ لیتا تھا پھر ان کے ساتھ بیٹھ کر اگلا جام بھی پی لیتا تھا۔ آدھ پونے گھنٹے بعد دو چار جام لینے کے بعد جب حامد کو تھوڑی سی چڑھ گئی تو اس کی کمینگی نے اس کی زبان کے راستے سر باہر نکالا تھا۔ وہ ہاتھ کی پشت سے اپنی باچھوں کو صاف کرتا ہوا، مسکراتے ہوئے اٹھا تھا اور دروازے سے نکل کر باورچی خانے کے لیے مڑتے ہوئے اپنی مسکان کو مزید کمینہ کرتے ہوئے طغرل سے مخاطب ہوا تھا:
یار، اس لڑکی کو کہو اپنی ٹانگیں ڈھانپ لے۔ اس کی ننگی رانیں دل خراب کر رہی ہیں"۔
ایک تو طغرل اور حسام نتاشا سمیت اس کے ہاں مہمان تھے، دوسرے اس کے ہاں "آگے" جانے والے کچھ پاکستانی نوجوان بھی بیٹھے ہوئے تھے، تیسرے حسام ایک لڑاکا قبیلے سے تھا اوپر سے شیعہ بھی۔ ہر دو طرح سے خونخوار، جاگیردارانہ غیرت اور نخوت کا مرقع۔ حامد کے منہ سے یہ گھٹیا فقرہ ادا ہوا ہی تھا کہ وہ تیندوے کی مانند حامد پر جھپٹ پڑنے کی خاطر اٹھا تھا۔ طغرل معاملے کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے حسام کے سامنے آ کر اسے بازووں کی گرفت میں لے کر حامد پر پھٹ پڑا تھا اور اسے سخت سست کہا تھا۔ حامد بوکھلا کر آئیں بائیں شائیں کرنے لگا تھا اور اس نے حسام سے فوری معافی مانگ لی تھی۔
نتاشا کو سمجھ ہی نہیں آ سکا تھا کہ یہ دال کا ابال کیا تھا۔ طغرل نے جب اسے انگریزی زبان میں بتایا کہ حامد نے اس کی گوری اور سڈول رانوں کے بارے میں کیا کہا تھا تو اس نے جہاں ایک طرف حامد کے رویے کی مذمت کی تھی وہاں دوسری طرف یہ تاویل بھی دی تھی کہ چلو کیا ہوا، آخر کار وہ ایک تنہا مرد ہے اور پھر اس نے پی بھی ہوئی ہے۔ جب طغرل نے یہی بات سب کے سامنے سب کی مشترکہ زبان میں کہی تو حامد بری طرح جھینپا تھا اور نتاشا سمیت تینوں مہمانوں نے زوردار قہقہہ بلند کر دیا تھا۔ پاکستانی نوجوان بھی مسکرا رہے تھے۔ ماحول خوشگوار ہو گیا تھا۔ حامد نے اب کھانا پیش کر دیا تھا۔ حامد خوش خوراک شخص تھا اور لذیذ کھانے تیار کرنے کا شوقین بھی۔ مزیدار کھانا کھانے کے بعد بھی وہ کچھ دیر تک بیٹھے باتٰن کرتے رہے تھے پھر ہوسٹل روانگی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔

طغرل نے اس رات عالم خمار میں "مرچ چبانے والی" یولیا کو یاد کیا تھا۔ نتاشا اسے یاد کرتے دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ صبح اس سے پہلے کہ وہ بیدار ہوتے نتاشا کہیں نکل گئی تھی۔ پھر حسام بھی یونیورسٹی چلا گیا تھا۔ جب لوٹا تھا تو وہ اور طغرل اکٹھے کھانا کھانے گئے تھے اور بعد میں کہیں مٹر گشتی کرتے رہے تھے۔ کہیں شام کو لوٹے تھے۔ نتاشا کمرے میں ہی تھی۔ طغرل ان کو "تنہائی" فراہم کرنے کی غرض سے مشرا کے کمرے میں چلا گیا تھا۔ گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے بعد جب وہ حسام کے کمرے میں لوٹا تھا تو حسام نے بتایا تھا کہ آج نتاشا آپ کی یولیا کو ڈھونڈنے گئی تھی۔ اس نے اسے تلاش کر لیا ہے۔ وہ کل آپ سے ملنے آ رہی ہے۔ نتاشا کی دوستی اور سراغرسانی دونوں کی داد طغرل نے "تھینک یو" کہہ کر دی تھی ۔ نتاشا نے اٹھلاتے ہوئے "ڈو نٹ مینشن اٹ" کہہ کر احساس دلایا تھا کہ تھینک یو کہنا تو محض شلغموں سے مٹی اتارے جانے کے مترادف ہے، کوئی پارٹی وارٹی ہونی چاہیے تھی۔ طغرل مسافر تھا ایسے چونچلوں کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا، اس لیے چپ رہا تھا۔
اگلے روز شام کو ہری مرچ خور "یولیا" واقعی ملنے کے لیے پہنچ گئی تھی۔ طغرل اس کے لیے شلوار قمیص، چمڑے کی جیکٹ، لیڈیز پرس وغیرہ بطور تحفہ جات لیتا آیا تھا۔ اس نے حسام اور نتاشا کی موجودگی میں یہ تحفے اسے دیے تھے۔ اس نے شکریے کے طور پر اپنا گال آگے کر دیا تھا جسے طغرل نے چوم لیا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد حسام اور نتاشا نے آپس میں کھسر پسر کی تھی پھر حسام نے کہا تھا،"طغرل صاحب، ہم کچھ دیر کے نکل رہے ہیں تاکہ آپ کو تنہائی میسر آ سکے" یہ کہہ کر وہ ہنسا تھا۔ نتاشا نے اپنی زبان میں یولیا سے کچھ کہا تھا اور ساتھ ہی کھلکھلا کر ہنس دی تھی جبکہ یولیا گلنار ہو گئی تھی۔ پھر میاں بیوی دونوں کمرے سے نکل گئے تھے۔ دروازہ بند کر دیا تھا جو خود بخود اندر سے مقفل ہو جاتا تھا۔
بوس و کنار میں یولیا نے طغرل کا ساتھ دیا تھا لیکن اس سے آگے جانے میں اس نے تعرض برتتے ہوئے "نو، نو" کہتے ہوئے مزاحمتی انداز اختیار کر لیا تھا۔ طغرل ہیجان سے آگ ہوا جا رہا تھا۔ یولیا کے بدن سے بھی حرارت نکل رہی تھی۔ بالآخر اس نے اپنے دہن کی سرگرمی سے طغرل کی حدت کم کی تھی۔ پر طغرل اپنے آپ میں بے حد خجالت محسوس کر رہا تھا کہ اس نے کہیں تحفے دے کر تو اس کو دہن دری پر مجبور نہیں کیا تھا؟ اگرچہ وہ قطعی مجبور نہیں تھی بلکہ اس نے جو بھی کیا تھا، رضاکارانہ طور پر رضامندی کے ساتھ کیا تھا۔
پھر حسام اور نتاشا لوٹ آئے تھے۔ حسام اور طغرل نے وادکا پی تھی اور دونوں لڑکیوں نے وائن۔ کھانا کھایا تھا جس کے بعد طغرل یولیا کے ہمراہ نکل گیا تھا۔ تھوڑی سی چہل قدمی کے بعد طغرل نے اسے ٹیکسی میں بٹھا کر ڈرائیور کو پیشگی کرایہ تھما دیا تھا۔ ان دنوں لڑکیوں کے لیے ٹیکسی سے سفر کرنا تعیش ہوا کرتا تھا چنانچہ کرایہ بالعموم لڑکیوں کے دوست ہی ادا کیا کرتے تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *