یہ سکوت کب تک

Ayaz Amirایازا میر

ہم یہ جنگ اس لئے نہیں ہار رہے ہیں کہ طالبان طاقتور ہیں بلکہ اس لئے کہ ہم کمزور ہیں ، چنانچہ ہماری بنیادی کمزوری کی وجہ سے ہمارا دشمن شیر ہوچکا ہے۔ ہمارے اندر لڑنے کا حوصلہ دم توڑ چکا ہے کیونکہ ہماری زمام ِ اختیار ان افراد کے ہاتھ ہے جوملک کو درپیش خطرے کی نسبت اپنے ذاتی معاملات میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ ہماری نصف ملین سے زائد طاقتور فوج بے بسی سے سب کچھ دیکھ رہی ہے اور نیا حملہ، لگنے والا ہر نیا زخم اس کی تشویش میں اضافہ کررہاہے جبکہ سیاسی قیادت کیفیوژن اور سراسیمگی کا شکار ہے۔ چنانچہ جب بھی کوئی بم دھماکہ ہمارے فوجی جوانوں کی جان لیتا ہے تو فوج وقتی رد ِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے میرعلی کے بازار اور اس کے ملحقہ دیہاتوں پر کچھ بم گراتی ہے اور پھر سکوت طاری ہوجاتا ہے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں شہری ہلاکتیں ہوتی ہیں اور فوج پر الزام آجاتا ہے۔
دوسری طرف طالبان اپنے مقصد میں بالکل واضح اور دوٹوک ہیں اور وہ جانتے ہیںکہ وہ کیا کررہے ہیں۔ وہ پاکستانی ریاست کو فتح کرنے جارہے ہیں اور اُنہیں امید ہے کہ یہ بہت جلد ان کے قدموں میں آن گرے گی۔ اس دوران ، جبکہ ان کی ہلاکت خیز پیش قدمی جاری ہے، پاکستانی سیاسی قیادت خوف سے سہمی ہے۔ انہیں طالبان سے زیادہ اپنی فوج سے ڈر ہے ، کیونکہ اگر جنگ شروع ہو گئی تو فوج چارج سنبھال لے گی اور معاملات سیاست دانوں کے ہاتھ سے نکل کر دفاعی اداروں کے پاس آجائیں گے اور ہماری موجودہ قیادت دفاعی اداروں کے حوالے سے اچھی یادیں نہیں رکھتی ۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والی قیادت کو ایک اور خوف بھی لاحق ہے کہ اگر جنگ شروع کی گئی تو اس کے شعلے فی الحال اس پرسکون صوبے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں گے ، چنانچہ ان کے لئے اپنی حفاظت کی خاطر بزدلی کا مظاہرہ کرنا ہی بہترین حکمت عملی ہے۔ اس بزدلی کو اُنہوں نے ’’مذاکرات ‘‘ کا نقاب پہنا کر اس کی اوٹ لے لی ہے۔تاہم اس ہوشیار اور زیرک گروہ نے عمران خان، جنہیں قدرت کی طرف سے ہمارے گناہوںکی سزا قرار دیا جاسکتا ہے، کو مذاکراتی ٹولے کا قائد بنا کر آگے کردیا اور خان صاحب، جن کی مخبوط الحواسی اب تک ایک سنگین قومی المیہ بن چکی ہے، بڑھ چڑھ کر اُس تنقید کو اپنے سر لے رہے ہیں جس کا رخ وفاقی حکومت کی طرف ہونا چاہئے۔ تاہم یہ سلسلہ مزید کتنی دیر چلے گا؟ہمیں یہ جاننے کے لئے کور کمانڈروں کی میٹنگ میں بیٹھنے کی ضرورت نہیں کہ فوج کی اعلیٰ قیادت کیا چاہتی ہے۔ یقیناً فوج غصے سے دانت پیس رہی ہوگی کہ اُن پر حملے ہورہے ہیں اور وہ ریاست اور معاشرے کے دشمنوں کے خلاف بھرپور کارروائی صرف اس لئے نہیںکرسکتی کیونکہ سیاسی قیادت ذہنی طور پر اس کے لئے تیار نہیں۔ یہ ایک خطرناک معاملہ ہے کیونکہ ایسے معاملات ناقابل ِ تصور نتائج کی طرف چلے جاتے ہیں۔
آصف زرداری کے گرد بدعنوانی نے ایسا گھیرا ڈالا ہوا تھا کہ وہ اپنا اختیار استعمال کرنے کی پوزیشن میں نہ تھے، چنانچہ اُس وقت سیکورٹی پالیسی کیانی صاحب کے ہاتھ میںتھی اور وہ جیسے چاہتے، اُسے چلارہے تھے جبکہ زرداری اینڈ کمپنی صرف ان کی تعریف و توصیف کرتے ہوئے وقت نکال رہی تھی۔نواز شریف کے پاس موقع تھا کہ وہ اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے ملک اور دفاعی اداروں کو ایک سمت دیتے، تاہم اس تصور کے مقابلے میں’’تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ ‘‘ایک تاریخی سچائی لگتا ہے۔ ہیروڈوٹس (Herodotus) سے لے کر اب تک کی تاریخ ِ عالم اس امر کی گواہی دیتی ہے کہ جب بھی کوئی مسلح گروہ یا قوم، جنہیں اپنی فتح کا یقین ہو، وہ ہتھیار نہیں ڈالا کرتے۔ اس وقت طالبان سوچ رہے ہیں کہ وقت ان کے ساتھ ہے، فریق ِ مخالف کی طرف سے مزاحمت نہ ہونے کے برابر ہے اور وہ اپنے شمالی وزیرستان کے ٹھکانوں میں اتنے ہی محفوظ ہیں جتنا کوئی شخص ہائیڈپارک میں ، چنانچہ وہ پاکستانی جوانوں، عورتوں اور بچوں کو خون میں نہلا کر بڑے آرام سے اپنے ٹھکانوں پر واپس آتے ہیں اور کچھ دم لے کر حملے کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ ایک کلاسیکی گوریلا جنگ ہے جو ہم پر مسلط کی جاچکی ہے ۔تاریخ گواہ ہے کہ ایسی جنگیں محض بے معنی مذاکرات سے نہیں ختم ہوتیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ متحارب فریق کو عسکری کارروائی سے اتنا کمزور کردیا جائے تاکہ وہ خود، نہ کہ ریاست،مذاکرات کی درخواست کرے۔ ایسا کرنے کا قدرت نے پاکستان کو ایک موقع دیا تھا کہ آسمان پر سے پاکستانیوں کے گلے کاٹنے والے ا ن خونیوں پر ڈرون برس رہے ہوں اور ہماری فوج زمینی کارروائی کرتے ہوئے ان کے غرور کو خاک میں ملا دے۔ تاہم ، ہم نے حماقتیں اور مزید حماقتیں کرنے میں وہ قیمتی وقت گنوا دیا ۔ اب ایسا کرنے کے لئے ہمارے پاس چند ساعتیں ہی بچی ہیں کیونکہ جیسے ہی امریکی افواج افغانستان سے رخصت ہوں گی، ڈرون کا ڈر ختم ہوجائے گا تو پھر ہم مکمل طور پر ان کے رحم و کرم(اور طالبان ایسے کسی لفظ سے آشنا نہیں)پرہوںگے۔ پھر ہمارے اصحاب ِ غیرت جی بھر کے قومی خودمختاری کے پرچم بلند کرتے ہیں۔
اس وقت ہمارے ہاں ایک ایسی حکومت اقتدار میں ہے جس نے ہنوز قومی سلامتی اور انسداد ِ دہشت گردی کی پالیسی بنانی ہے اور پھر اس پر عمل کرنے کے لئے کانفرنسیں بلانی ہیں، اتفاق ِ رائے حاصل کرنا ہے اور پھر مختلف حلقوں سے اس کی منظور ی لینی ہے۔ کیا قومیں جنگ ، جب کہ دشمن سر پر ہو اور اسکے خونی پنجوںنے شہ رگ کو گرفت میں لے لیا ہو، کی حالت میں اس طرز ِ عمل کا مظاہرہ کرتی ہیں؟جنگ کی صورت میں کسی بھی قوم کے پاس دو ہی آپشنز ہوتے ہیں... لڑیں یا ہتھیار ڈال دیں۔ مذاکرات اُس وقت ہوتے ہیں جب ایک فریق مکمل طور پر شکست تسلیم کرچکا ہو تو پھر مزید جانی نقصان کی بجائے بات چیت کرنا ہی دانائی ہے، یا پھر میدان ِ جنگ میں ایسی صورت ِ حال ہو کہ کوئی پیش رفت نہ ہو سکتی ہو، لہٰذا ’’کچھ دو کچھ لو‘‘ کی حکمت ِ عملی کام دے جاتی ہے۔ یقیناً ان باتوںکے لئے مذاکرات کی میز ہی بہترین جگہ ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم طالبان سے کس موضوع پر بات کریں ؟کیا کوئی اس سوال کا جواب دینے کی پوزیشن میں ہے؟ کیا طالبان ہتھیارڈال رہے ہیں؟ کیا ہم اُن کی عسکری طاقت ختم کرکے اُنہیں اتنا کمزور کرچکے ہیں کہ وہ ریاست کی عملداری کو تسلیم کرلیں ؟یا پھر ہم کسی احمقانہ خوش گمانی میں مبتلاہیں کہ ہماری میٹھی باتیں مولانا فضل اﷲ اور اس کی شوریٰ کے دل کو رام کرلیں گی اور وہ پاکستانی پرچم کو سینے سے لگا کر اس کے آئین کو تسلیم کرلیں گے ؟
ہو سکتا ہے کہ ہم سے بہت سی حماقتیں سرزد ہوئی ہوں لیکن کیا ہم اس انجام کے مستحق ہیں، جس طرف ہمارا ’’میر ِ کارواں ‘‘ ہمیں لے جانا چاہتا ہے؟ہماری قومی حالت دیکھ دیکھ طالبان اپنے ہتھیاروں پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے زیر ِ لب مسکرارہے ہوںگے۔ جب طالبان کے ترجمان میڈیا سے بات کرتے ہیںتو ان کی گفتگومیں طنزو مزاح کی ’’چاشنی ‘‘ ہوتی ہے۔ گزشتہ دوتین روز میںہونے والے خونی حملوں کے بعد اب ٹی وی اسٹوڈیوز کے بقراطوں اور طالبان کی ترجمان مذہبی اور سیاسی جماعتوںکے پاس یہ آپشن بھی نہیں بچا کہ ہم کہہ سکیں کہ یہ ’’امریکی جنگ ہے اور ہمیں اس سے نکل آنا چاہئے۔‘‘درحقیقت ان کی حماقت بھری زبانیں اب بند ہونے والی ہیں کیونکہ امریکی تو یہاں سے جارہے ہیں۔ کیا ہمارے سر میں دماغ اور اس میں عقل نام کی کوئی چیز ہے؟ یا پھر ہم ابھی بھی وہی رٹ لگائے رکھیں ؟ خاطر جمع رکھیںاور اس کے ساتھ ساتھ اُس دن کو بھی یاد رکھیں کہ جب ڈرون حملے بند ہوجائیں گے تو پھر کیسی کیسی بلائیں آزاد ہو کر ہماری جان کو آجائیںگی۔
ہمیں فی الفور جنگ کے لئے ایک کابینہ تشکیل دینی ہوگی اور طالبان سے جنگ کرنے کے لئے ہر چیز کو دائو پر لگانا ہوگا کیونکہ ایسے فیصلہ کن لمحے قوموں کی زندگی میں آیا کرتے ہیں جب اُنھوںنے خون سے اپنے وجود کے ثبوت کی گواہی دینا ہوتی ہے، لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ ہم مذاکرات کی رٹ لگاتے ہوئے اپنے آپ کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ جس دوران ہم ایک خوفناک گھاٹی کے کنارے کی طرف سرک رہے ہیں، ہمارے وزیر اعظم نہایت طمانیت ِ قلب کے ساتھ غیر ملکی دوروں یا کچھ بے سروپا منصوبوں(اسلام آباد میٹرو بس ان میں سے تازہ ترین ہے) میں مصروف ہیں، یا پھر قانون کی بالا دستی ثابت کرنے کے لئے مشرف کو سزا دینا ضروری ہے۔
حکمرانوںکی بے عملی کا عوام پر اثر ہویدا ہے۔ وہ دہشت گردی کو معمول سمجھ کر اس سے سمجھوتہ کرتے جارہے ہیں، یا پھر کچھ لوگ اس سے بھی خطرناک صورت ِ حال کے لئے خود کو تیار کررہے ہیں۔ پاکستان کو سکوت و جمود نقصان پہنچا رہا ہے، شاید ہمیں کسی رستخیز کی ضرورت ہے جو ہمیں جھنجھوڑ کر جگا دے۔ اس سے پہلے ہم دیکھ چکے ہیں کہ مشرف دور میں دفاعی ادارے بے عملی کی علامت بن چکے تھے۔ ان کی دلچسپی کا محور پراپرٹی بزنس تھا لیکن مولانا فضل اﷲ کی قیادت میں سوات کے طالبان نے اُنہیں میدان میں آنے پر مجبور کردیا۔ اب ایک مرتبہ پھر فضل اﷲ تو ہے لیکن اب سیاسی قیادت بے عملی اور خوف کی تصویر بنی دیوار سے لگی ہوئی ہے اورفوج کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ کیا ہمارے پاس اس سکوت کے لئے وقت ہے ؟ کیا طبل ِ جنگ نہیںبچ چکا؟ جو کچھ طالبان ہمارے ساتھ کررہے ہیں، کیا اسے جنگ کے علاوہ بھی کوئی نام دیا جاسکتا ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *