دہشت گردوں کے حمایتیوں کے سات’’ دلائل‘‘

Yasir Pirzadaیاسر پیر زادہ

ہمارے ملک میں سفاک لوگوں کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ جو انسانوں کے گلے کاٹتے ہیں اور دوسرے وہ جو ان سفاک لوگوں کو ’’اپنے لوگ‘‘ کہتے ہیں،ہمارے ملک میں دہشت گردوں کی بھی دو قسمیں ہیں ،ایک وہ جو بم دھماکوں میں بے گناہوں کا خون بہاتے ہیں اور دوسرے وہ جو ان دہشت گردوں کو شہید قرار دے کر ان کے حق میں تاویلیں گھڑتے ہیں۔ ان تمام لوگوں کے پاس اپنی بربریت کے جواز کے طور پر ایک بیانیہ ہے جو کُل سات ’’دلائل‘‘ پر مشتمل ہے جس پر دہشت گردی کی پوری عمارت کھڑی ہے ، ویسے تو یہ بیانیہ بے حدکھوکھلا ہو چکا ہے تاہم اب بھی ضرورت ہے کہ ان دلائل کو بار بار پرکھا جائے جو دہشت گردوں کے حمایتی آئے دن میڈیا پر دہراتے ہیں:
1۔ طالبان کا کوئی وجود نہیں:دہشت گردوں کے (apologists)عذر خواہوں نے یہاں سے سٹارٹ لیا تھا،جب بھی ملک میں کوئی بم دھماکہ ہوتا جس کی ذمہ داری طالبان قبول کرتے تو ان کے عذر خواہ فوراً کہتے کہ یہ جھوٹ ہے ،طالبان کاپاکستان میں کوئی وجود ہی نہیں ،طالبان تو افغانستان میں ہیں جہاں وہ امریکی استعمار کے خلاف جہاد کر رہے ہیں ،اور وہ طالبان ہمارا اثاثہ ہیں جو اُس وقت کام آئیں گے جب امریکہ ان کے آگے گھٹنے ٹیک کر رحم کی بھیک مانگے گا اور ہم سے مدد کا طالب ہوگا کہ ہم اپنے ’’اثاثوں ‘‘ کو حکم دیں کہ اس کی جان خلاصی کرائی جائے، اس وقت ہم چھاتی پھلا کر کہہ سکیں گے کہ سوویت یونین کے بعد ہم نے ایک اور سپر پاور کو پاش پاش کردیا۔بد قسمتی سے وہ نوبت تو نہیں آ سکی البتہ ہم ضرور اس سٹیج پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہماری ریاست کے وجود کو خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔ ’’طالبان کا کوئی وجود نہیں ‘‘ والی دلیل کی دھجیاں ہر اس خود کش حملے کے بعد اڑتی رہیں جن کی ذمہ داری طالبان ببانگ دہل قبول کرتے رہے مگر ہم کوّے کو سفید ہی کہتے رہے۔
2۔ہم کیسے مان لیں کہ یہ واقعی طالبان ہیں جو ذمہ داری قبول کرتے ہیں:جب ’’دلیل‘‘ نمبر ایک جواب دینے لگی تو پھر ہم نے اپنی زنبیل سے یہ دلیل نکالی کی اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ طالبان ہی بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں،یقیناً یہ اسلام دشمن قوتیں ہیں جو انہیں بدنام کرنے کے لئے ان کا نام استعمال کرتی ہیں ۔اس دونمبر دلیل سے ایک بات تو فوراً ثابت ہوگئی کہ دلیل نمبر ایک باطل تھی کیونکہ کوئی گروہ اسی وقت بدنام ہو سکتا ہے جب اس کا وجود ہو ۔ ادھر طالبان بھی دلیل نمبر ایک سن سن کر تنگ آ چکے تھے چنانچہ ایک دن انہوںنے ویڈیو جاری کی جس میں انہوںنے اپنے ترجمان اور کمانڈر کوجپھیاں ڈال کر قہقہے لگاتے ہوئے دکھایا اور کہا کہ ہم ہیں وہ لوگ جو آپ کی گلیوں بازاروں میں دھماکے کرکے ذمہ داری قبول کرتے ہیں ،کوئی غلط فہمی میں نہ رہے ۔اس ویڈیو نے دلیل نمبر دو کے غبار ے سے بھی ہوا نکال دی ۔اس دلیل کے کھوکھلے پن کا اگر مزید ثبوت درکار ہو بے شک کسی دن بطور طالب، دہشت گردی کے واقعے کی ذمہ داری قبول کیجئے اور دیکھئے اس کے بعد کیا ہوتا ہے ؟
3۔جس واقعے کی طالبان نے ذمہ داری قبول نہیں کی وہ انہوںنے نہیں کیا:اوکے ،بہت شکریہ،یعنی بادل نخواستہ ہم طالبان کو دہشت گردی کے ان واقعات کا ذمہ دار سمجھنے لگے جن کی ذمہ داری وہ قبول کرتے ہیں لیکن جن واقعات سے وہ خود کو لا تعلق کردیںتو ہمیں مان لینا چاہئے کہ یہ طالبان نے نہیں کئے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ جو استدلال دلیل نمبر دو میں اپنایا گیا تھا وہ غلط ثابت ہوا کیونکہ دو نمبر دلیل میں ہم طالبان کے حلفیہ بیان کو وزن دینے پر تیار نہیں تھے جبکہ موجودہ دلیل کے تحت ہم ان کی تردید کو چوم چاٹ کر سینے سے لگا نے کو تیارہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ اگر مجرم کے بیان حلفی کو بنیاد بنا کر ہی تمام فیصلے ہونے لگیں تو ملک میں کوئی شخص ایسا نہیں بچے گا جو اپنے جرم کا اقرار کرے گا۔دہشت گردی کا ایک واقعہ چرچ میں ہوتا ہے دوسرا فوج پر،تیسرا بازار میں ،چوتھا دربار میں اورپانچواں تبلیغی مرکز پر اور ان میں سے چار کی ذمہ داری قبول کی جاتی ہے تو پھرپانچویں کا الزام کیا پوپ بینیڈکٹ پر دھرا جائے؟
4۔یہ سب ڈرون کا رد عمل ہے، 9/11سے پہلے کوئی دہشت گردی نہیں تھی:اس سے زیادہ گھسی پٹی دلیل پیش کرنا مشکل ہے ۔صرف 2000ء میں پاکستان میں 14بم دھماکے ہوئے جن میں 79افراد جاں بحق اور 316زخمی ہوئے،اسی سال فرقہ وارانہ تشدد کے 109واقعات میں لگ بھگ ڈیڑھ سو افراد کی ہلاکت اس کے علاوہ ہے ۔اور رہی بات ڈرون کا ردعمل تو یہ دلیل اس مفروضے پر قائم ہے کہ صرف ڈرون میں مرنے والے ہی غیور ہیں جو اپنے پیاروں کا بدلہ ان سے لیتے ہیں جو داتا دربار میں عبادت کرتے ہیں ،لکی مروت میں فٹ بال کھیلتے ہیں یا قصہ خوانی بازار میں خریداری کرتے ہیں ،اس کے علاوہ جو شخص بھی (پشتون یا غیر پشتون) بم دھماکوں میں مارا جاتا ہے اس کے لواحقین خدا نخواستہ بے غیرت ہیں جو اپنے پیاروں کی موت کا بدلہ لینا نہیں جانتے ۔اس دلیل کے ماننے والوں کے نزدیک ڈرون حملے ملکی خود مختاری اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں مگرپاکستانی سرحدی علاقوں سے افغانستان جا کر ’’جہاد‘‘ کرنا فرض ہے!ہمارے بچوں کو مارنے والوں کے خلاف آپریشن ناجائز مگر غیر ملکی دہشت گرداگر کسی ہنگو کے کسی مدرسے میں مارے جائیں تو ظلم!
5۔کوئی مسلمان دہشت گرد نہیں ہو سکتا:دہشت گردوں کے حمایتی جب کسی حملے کی مذمت کرتے ہیں تو اس بات کا خاص خیال رکھتے ہیں کہ براہ راست کسی کا نام نہ لیا جائے اور یہ کہا جائے کہ یہ کام کسی مسلمان کا نہیں ہو سکتا ،اس دلیل میں بنیادی نقص یہ ہے کہ دشمن کو اس کے نام سے پکارنے کی بجائے ایک عمومی بات کرکے پردہ پوشی کی کوشش کی جاتی ہے اور یہ تاثر دیا جاتا ہے جیسے یہ کام اَن دیکھے دشمنوں کا ہے جو نام نہاد مسلمانوں کو آلہ کار بنا کر ہمارے خلاف سازش کررہے ہیں ،اب آپ اس کا جو بھی چاہے مطلب نکال لیں۔ بدقسمتی سے آج تک جتنے دہشت گرد پکڑے گئے وہ سب کے سب مسلمان نکلے جو اپنے تئیں ’’جہاد‘‘ کر رہے تھے ،نہ جانے یہ کون سا جہاد ہے جس میں بے گناہ مسلمان بہن بھائیوں کا خون بہانا جائز ہے !
6۔غربت اور نا انصافی بھی دہشت گردی کی وجہ ہے:یہ دلیل بظاہر خوش کن ہے مگر غلط۔دنیا میں بیشمار ممالک ایسے ہیں جہاں پاکستان سے زیادہ غربت اور ناانصافی ہے مگر وہ اس قسم کی دہشت گردی کا شکار نہیں،اسی دلیل کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ فاٹا کی پسماندگی اور اسلام آباد، لاہور اور کراچی کی چکا چوند بھی دہشت گردی کو ہوا دیتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور بھارت جیسے ممالک میں بھی ایک ریاست کے مقابلے میں دوسری ریاست کی خوشحالی کا فرق وزیرستان اور اسلام آباد کے مابین فرق سے زیادہ ہے مگر وہاں اسے دہشت گردی کا جواز کوئی نہیں بناتا۔
7۔دہشت گردی ایک بہت بڑی عالمی گیم کا حصہ ہے: لیجئے جناب ،جب دہشت گردوںکے حمایتیوں کو کچھ سمجھ نہیں آتا تو با لآخر وہ اس بیان کا سہارالے کر کہتے ہیں کہ دراصل عالمی طاقتوں کی وار گیمز کچھ ایسی پیچیدہ ہوتی ہیں جو سمجھائی نہیں جا سکتیں ،پاکستان انہی وار گیمز کا شکار ہے ۔اس دلیل کے مطابق دہشت گردی کی حالیہ لہر دراصل امریکی ڈرون حملوں کی زمینی شکل ہے جس کا مقصد وزیرستان میں آپریشن کی راہ ہموار کرنا ہے۔ سبحان اللہ، یعنی طالبان اس لئے بم دھماکے کر رہے ہیں تاکہ ان کے خلاف وزیرستان آپریشن کی راہ ہموار کی جا سکے اوراگر یہ کام امریکہ کروا رہا ہے تو پھر آپ طالبان سے مذاکرات کی دہائی کیوں دے رہے ہیں ،مذاکرات تو اس صورت میں امریکہ سے ہونے چاہئیں…ہور کی حال اے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *