دشمن ملک سے واپسی

Pervaiz hoodbohy

پاکستان سے انڈیا جانے والوں کو اجازت ذرا مشکل سے ہی ملتی ہے اسی لیے شائد جب مجھے انڈیا میں حیدرآباد کے ایک تعلیمی سیمینار سے بات کرنے کے لیے بلایا گیا تو مجھے بے حد خوشی ہوئی اور خوشی اس چیز کی بھی تھی کہ میں اب دونوں ممالک کے درمیان موجود تضادات کا بھی باریکی سے مشاہدہ کر پاؤں گا۔ مجھے چار شہروں کا ویزا جاری کیا گیا تھا اسلیے مجھے انڈیا کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔
میرا پہلا خطاب اردو میں مولانا آزاد یونیورسٹی میں تھا جہاں جا کے مجھے محسوس ہی نہیں ہوا کہ میں کسی دوسرے ملک میں ہوں کیونکہ آدھی سے زیادہ لڑکیاں برقعے میں تھیں اور لڑکوں میں زیادہ تر کی داڑھیاں تھیں۔
یہ ادارہ حیدر آباد میں اردو کی ترویج کے لیے کام کرتا ہے اور فی الحال پاکستان میں ایسا کوئی ادارہ نہیں جبکہ ہمارا الگ ملک کا مطالبہ اس لیے بھی تھا کہ اردو زبان کو زندہ رکھا جا سکے۔ اس ادارے میں زیادہ تر لوگ مدرسوں سے پڑھ کر آتے ہیں ، جبکہ ہمارے اداروں میں مدرسوں سے پڑھ کے آنیوالوں کو پذیرائی نہیں ملتی اور نا ہی اُن کے لیے الگ سے ادارے ہوتے ہیں۔ مجھے اُس ادارے میں تب بہت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب طلباء نے مجھ سے اردو میں اچھی تعارفی کتب کے نام مانگیں اور میں نا دے سکا ، کہاں سے دیتا کیونکہ ایسی کوئی کتابیں ہیں ہی نہیں۔
میرا دوسرا لیکچر انڈین انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تھا اور یہ ادارہ مزکورہ ادارے سے بالکل مختلف تھا۔ یہاں پر انگریزی سکولوں سے پڑھ کے آنیوالے لائق فائق نوجوان آگے سے آگے بڑھنے کی لگن میں نظر آئے۔ یہ ایک بڑا ہائی پروفائل ادارہ تھا اور یہاں سے نکلنے والے طلباء یہاں سے نکلتے ہیں اچھی نوکریوں پہ فائز ہو جاتے ہیں۔ ایسا ہی کلچر آپ کو انڈیا کے اکثر اداروں میں دیکھنے کو ملے گا۔
پروفیسر رگھو بیر شرن کا کہنا تھا کہ IIT نقل پسندی کا قائل ہے اور پاہر کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی جانے والی چیزوں کو ویسے کا ویسا ہی پڑھا دیا جاتا ہے۔ میرے ایک دوست پروفیسر دیش دیپ کا کہنا ہے کہ IIT کے طلباء رٹی رٹائی چیزوں کو صحیح مانتے ہیں، یہاں کے طلباء جدّت پسند نہیں ہیں۔
مگر ماننے والی بات یہ ہے یہ ادارہ باہر سے پڑھنے آنیوالوں کے معاملے میں خود کفیل ہے کیونکہ IIT میں دنیا کے ساتھ چلنے کی صلاحیت ہے جبکہ ہمارے ملک میں باہر سے پڑھنے آنیوالوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اسلیے ہمارے اداروں میں چیدہ چیدہ لوگ ہی باہر سے آئے نظر آتے ہیں۔
مثال کے طور پر قائدِ اعظم یونیورسٹی کے زیرِ انتظام نیشنل سنٹر فار فزکس میں طلباء کے ساتھ اتنی سختی کی جاتی ہے کہ وہ موقع ملتے ہی جیل توڑ کر فرار ہو جاتے ہیں۔
مودی کے انڈیا میں لادینی اور مذہبی طاقتیں زور پر ہیں۔ لیکن کوئی باہر سے آنیوالا یہ اندازہ نہیں لگا سکتا کہ یہ آگ کتنی بھڑکی ہوئی۔ میں نے اس آگ کی کچھ چنگاریاں تب دیکھی تھیں جب مشہور ناول نگار Nayantara Sahgal نے اپنا صدارتی ایوارڈ واپس کیا تھا۔
بھارتی کلچر کے کئی اصل حقائق اب نقلی سائنس کے ساتھ ضم ہو چکے ہیں۔ حیران کن طور پر انڈین سائنس کانگریس میں ایک لیکچر کے دوران کہا گیا کہ بھگوان شیو دنیا کے سب سے بڑے ماہرِ ماحولیات تھے۔
یہ بات ٹھیک ہے کہ پاکستان اور انڈیا مختلف سمتوں میں آگے بڑھ رہے ہیں مگر دونوں ممالک کے درمیان مشابہت ابھی بھی موجود ہے۔ پٹھان کوٹ واقعے پر دونوں ممالک کے مدّبرانہ جواب نے کچھ امید پیدا کی ہے کہ شائد یہ دونوں ممالک ایک ساتھ اچھے ہمسایوں کی طرح رہ سکتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *