پٹھان کوٹ حملے کے مضمرات

پٹھان کوٹ ایئربیس پر حملے، جس کا الزام پنnajam sethiجاب میں اپنی موجودگی رکھنے والی انتہا پسند تنظیم، جیشِ محمد پر ہے، کی وجہ سے اب دونوں ممالک، انڈیا اور پاکستان، کے رہنما ؤں کو اپنے تعلقات معمول پر لانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑے گا۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب دونوں ممالک کے وزرائے اعظم مختصر وقت کے لیے لاہور میں مل چکے تھے، اور مودی کی لاہور یاترا سے بہت سی امیدیں پیدا ہوگئی تھیں۔ طرفین کا کہنا تھا کہ درپیش تمام مسائل، خاص طور پر دھشت گردی پر بات کرنے کے لیے اُن کے سیکرٹری خارجہ کی جلد ملاقات ہوگی۔ یہ ملاقات پندرہ جنوری 2016ء کوہونی تھی ، لیکن اسے ملتوی کردیا گیا ۔ اب پاکستان کی طرف سے سپیشل انوسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) کی رپورٹ آنے تک یہ ملاقات نہیں ہوگی۔ یہ التوا ایک طرح سے ماضی کے رویوں میں تبدیلی کا مظہر ہے کیونکہ ماضی ایسا کوئی واقعہ ہر قسم کے روابط کو ختم کرنے کا باعث بنتا تھا۔
اس مرتبہ طرفین نے محتاط رویے کا مظاہرہ کرتے ہوئے درست ردِ عمل کا اظہار کیا ہے تاکہ تعلقات کو جلد معمول پر لانا ممکن ہوسکے۔ پاکستانی حکام نے بھارتیوں کو بتایا ہے کہ جیشِ محمد کے قائد مولانا مسعود اظہر اور اُس کے کچھ اہم ساتھیوں کو حراست میں لیا گیا ہے اور پنجاب کے وزیرِ داخلہ، رانا ثنا اﷲ کا کہنا تھا کہ ایس آئی ٹی کی رپورٹ تک عوام کو جلد رسائی دی جائے گی۔ دوسری طرف بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے حملے میں ملوث دھشت گردوں کی تفصیل پاکستانیوں کے حوالے کی ہیں۔ اس میں آواز کے نمونے بھی شامل ہیں جو حملہ آوروں کے مبینہ پاکستانی سرپرستوں کے ساتھ گفتگوکے ہیں۔ اس کے علاوہ بھارتی پاکستان کی ٹیم کو پٹھان کوٹ بیس تک رسائی دینے کی اجازت دے دیں گے۔
دونوں ممالک کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان کم نہ تھا۔ پاکستان کی دفاعی اسٹبلشمنٹ نے ماضی میں کبھی جہادی تنظیموں پر دباؤ نہیں ڈالا تھاکیونکہ وہ انہیں اپنے سٹریٹیجک اثاثے سمجھتے تھے، چنانچہ ان کے رہنماؤں کی گرفتاری کا توسوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ان کے ذریعے کشمیر کے مسلے پر بھارت پر دباؤ ڈالنا مقصود تھا۔ جنرل مشرف ، جو قدرے لبرل نظریات کے مالک تھے، کے دور میں بھی مولانا مسعود اظہر جیسے انتہا پسند وں پر ہاتھ نہ ڈالا گیاحالانکہ جیش کے کارکنوں پر صدر مشرف کی جان لینے کا الزام تھا۔ اس طرح بھارتی بھی قدرے معقولیت کا مظاہر ہ کرتے ہوئے پاکستانی فوج کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا کہ اس کا نادیدہ ہاتھ مذاکرات اور امن کے عمل کو سبوتاژ کرنے پر تلا ہوا ہے۔ درحقیقت وزیرِ اعظم نریندر مودی نے حسبِ معمول غیر معمولی بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان اور بھارت میں ایک دوسرے کے ساتھ تصادم چاہنے والے عناصر کی حوصلہ افزائی نہیں ہونے دیں گے، یعنی تعلقات کو معمول کی سطح پر لانے کے عمل کو پٹری سے اتارنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انڈیا کے وزیرِ دفاع اور وزیرِ داخلہ منوہر پاریکر اور راگ ناتھ سنگھ کے عوامی سطح پر دیے گئے جارحانہ بیانات دینے اور پاکستان کی ٹیم کو پٹھان کوٹ بیس تک رسائی دینے کی مخالفت کرنے پر مودی نے طاقت ور پیغام دے کر اُن کے موقف کو رد کردیا۔ بھارتی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ وہ نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر، اجیت دول اور وزیرِ دفاع اور وزیرِ داخلہ کے ساتھ مل کر قدم آگے بڑھائیں گے۔
ان تمام حوصلہ افزا امور کے باوجود پٹھان کوٹ حملے کے مضمرات کو آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر پاکستان نے جلد ی کارروائی نہ کی اور مطلوبہ نتائج نہ دیے کہ وہ جہادی عناصر کو لگام ڈالنے میں سنجیدہ ہے تو انڈین اپنی روایتی دشمنی اور عدم اعتمادعالمی برادری کے سامنے رکھنے سے گریز نہیں کریں گے،اور خدشہ ہے کہ عالمی برادری اُن کی بات توجہ سے سنے گی۔ اس سے پہلے ممبئی حملوں کی انکوائری اور ذکی الرحمن لکھوی کی سزا بھی پاکستان پر ایک بوجھ کی طرح ہے۔ ان دونوں معاملات میں بھارت کو شکایت رہی ہے کہ پاکستان اس کے ساتھ تعاون کرنے میں سنجیدہ نہیں۔ اب پاکستان پٹھان کوٹ کا بوجھ اپنے شانوں پر اٹھا کر عالمی برداری کا سامنا نہیں کرسکتا۔ اس طرح پاکستان کے سامنے کوئی آسان کام نہیں ہے۔اس سے پہلے جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور میں جہادی گروہوں کی سرپرستی سے ہاتھ کھنچ کر کشمیر کا آؤٹ آف دی باکس حل تلاش کرنے کی کوشش کی ، لیکن اس دوران پنجاب اور آزاد کشمیر میں اپنی موجودگی رکھنے والی جہادی تنظیموں کے خلاف کارروائی نہ کی گئی۔ ان میں سے کچھ نے بہت سے جہادیوں نے طالبان کی صفوں میں شمولیت اختیار کرکے پاکستان کے خلاف جنگ شروع کردی۔ یہی گروہ ممبئی، گرداسپور اور پٹھان کوٹ کے واقعات میں ملوث ہوسکتے ہیں۔ ماضی میں تو اسٹبلشمنٹ ان کی کارروائیوں سے اغماض برتتی تھی تاکہ ان کے ذریعے انڈین دباؤ کا مقابلہ کیا جائے ۔ تاہم جب بھی ان گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے کی کوشش کی گئی ، انھوں نے فوج پر بھی حملے کرنے سے گریز نہیں کیا۔
حال ہی میں چارسدہ یونیورسٹی پر حملے اسی حقیقت کا ایک سفاک اظہار ہے کہ اپنے پالے ہوئے سانپ ہمیں ہی ڈس رہے ہیں۔ ان حالات میں انڈیا کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس وقت پاکستانی فوج ملک کو ان مسائل سے نکالنے کی پوری کوشش کررہی ہے جس میں ماضی کی غلط پالیسیوں نے اسے دھکیل دیا تھا۔ تاہم پاک فوج یہ توقع نہیں کرسکتی ہے کہ اسے انڈیا سے کسی قسم کا تعاون ملے گااور نہ ہی عالمی برداری اس کی کاوشوں کو سراہے گی جب تک یہ جہادی تنظیموں کے خلاف سخت اقدامات نہیں اٹھاتی۔ اب ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جانا چاہیے، ورنہ ممبئی حملوں کی طرح پٹھان کوٹ کا واقعہ اعتماد کو مزید نقصان پہنچائے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *