پاکستانی طالبان، مختصر تعارف

11-10-13-shahid-ullah-shahid-ttp-spokesman-670تحریکِ طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) کے کئی دھڑے اس وقت قبائلی علاقوں میں سرگرم ہیں ان میں سے ایک طالبان رسالے کے مدیر ہیں تو دوسرے ٹی ٹی پی کے چیف جسٹس ہیں۔طالبان کے اہم اراکین کے نام اور مختصر تعارف کچھ اس طرح ہے۔

ملا فضل اللہ

ملا فضل اللہ سوات کے یوسفزئی ہیں جنہوں نے گزشتہ برس حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد ٹی ٹی پی کے امیربنے ہیں۔ دوہزارنو میں ملٹری آپریشن کے بعد افغانستان فرار ہونے سے قبل مالاکنڈ ڈویژن کا ایک وسیع علاقہ کم از کم تین سال تک ان کے کنٹرول میں رہا۔ سوات کے جی او سی میجر جنرل ثنا اللہ خان نیازی پر حملے کے ماسٹر مائنڈ بھی فضل اللہ ہی ہیں۔ افغان طالبان سے ان کے مضبوط روابط ہیں اور وہ ٹی ٹی پی میں اپنا اثراور احترام رکھتے ہیں۔

شیخ خالد حقانی

صوبہ خیبرپختونخواہ کے ضلع صوابی سے ان کا تعلق ہے ۔ یہ ٹی ٹی پی کے نائب سربراہ اور طالبان شوریٰ کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے اکوڑہ خٹک کے دارالعلوم حقانیہ سے گریجویشن کیا ہے۔ کالعدم تنظیم میں انہیں بہ یک وقت ایک عسکری کمانڈر اور مذہبی اسکالر کا درجہ بھی حاصل ہے۔ حال ہی میں میڈیا کیخلاف فتویٰ بھی انہوں نے ہی لکھا ہے۔

عمرخالد خراسانی

عمرخالد ٹی ٹی پی کی بنیاد رکھنےوالوں میں شامل ہیں۔ عمرخالد خراسانی ( عرف عبدالولی) مہمند ایجنسی میں صحافی بھی رہے ہیں۔ تنظیم میں وہ عسکری کمانڈر کی شہرت رکھتے ہیں۔ انہیں تھوڑے عرصے کیلئے خیبر ایجنسی کا اضافی چارج دیا گیا تھا جہاں انہوں نے حکومت کی حمایت کرنے والے لشکروں کیخلاف ایک خونی مہم چلائی تھی اور ان کو قتل کیا تھا۔

قاری شکیل احمد حقانی

عمرخالد خراسانی کے قریبی ساتھی۔ اس وقت یہ ٹی ٹی پی کی سیاسی شوریٰ کے سربراہ ٹی ٹی پی مہمند کے نائب سربراہ ہیں۔

شاہد اللہ شاہد

اس وقت ٹی ٹی پی کے مرکزی ترجمان ہے، وہ شیخ مقبول اورکزئی کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں ۔ ٹی ٹی پی کے حلقوں میں انہیں 'پروفیسر' کہا جاتا ہے اور عرب جنگجوؤں سے ان کے گہرے تعلقات ہیں۔

خان سعید

ٹی ٹی پی جنوبی وزیرستان کے سربراہ۔۔

مولوی ابو بکر

ان کا نام سننے میں کم کم ہی آتا ہے۔ افغانستان میں فقیر محمد کی ہلاکت کے بعد انہیں باجوڑ میں ٹی ٹی پی کا مرکزی رہنما بنایا گیا۔ وہ میڈیا سے دور رہتے ہیں اور منظرِ عام پر بھی کم کم آتے ہیں۔

حافظ سعید

اورکزئی ایجنسی میں ٹی ٹی پی کے سربراہ۔

عدنان رشید

پاکستان ایئرفورس میں پہلے ٹیکنیشن رہ چکے ہیں۔ وہ سابق فوجی آمر اور صدر پرویز مشرف کیخلاف قاتلانہ حملہ کرنے والوں کے اہم منصوبہ ساز ہیں۔بنوں جیل میں طالبان حملے کے بعد جب تین سو جنگجوؤں کو رہا کرایا گیا تو ان میں سے ایک عدنان رشید بھی تھے۔اس وقت وہ انصار الاثیر ( قیدیوں کے مددگار) یونٹ کے سربراہ ہیں جس کا کام طالبان قیدیوں کو جیلوں سے رہا کرانا ہے۔

قاضی حماد

اپنے نام کی طرح یہ ٹی ٹی پی کے ' چیف جسٹس' ہیں اور وہ اندرونی معاملات اور تنازعات کو طالبان کورٹ میں لاکر ان کا فیصلہ کرتےہیں۔

احسان اللہ احسان

احسان اس سے قبل ٹی ٹی پی کے ترجمان رہے ہیں۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے افغانستان میں موجود طالبان سے پاکستانی طالبان کے تعلقات خراب کئے ہیں اور انہیں اسی بنیاد ترجمان کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا اور یہ الزام بے بنیاد ثابت ہوئے۔ وہ ٹی ٹی پی میڈیا حلقوں میں بہت مقبول ہیں۔

مولانا صالح قسام

قسام ' احیائے خلافت' کے ایڈیٹر ہے جو ٹی ٹی پی کا ماہانہ رسالہ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *