اہمیت کا مغالطہ

Yasir Pirzadaیاسر پیر زادہ

پاکستان میں دو قسم کے لوگ بکثرت پائے جاتے ہیں ،ایک وہ جنہیں ’’بے اہمیتی کا مغالطہ ‘‘ یعنیFallacy of Insignificanceہے اور دوسرے وہ جنہیں ’’اہمیت کا مغالطہ‘‘ یعنی Fallacy of Significanceہے۔ پہلی قسم کے لوگ وہ ہیں جنہوں نے اپنے بارے میں یہ فرض کر لیا ہے کہ وہ کوئی بڑا کام کرنے کے اہل نہیں ،ایسے لوگ اپنے آپ کو غیر اہم اور کسی حد تک نالائق سمجھتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش ہی نہیں کرتے ،انہیں یہ بات ہضم ہی نہیں ہوتی کہ وہ زندگی میں کوئی معرکہ انجام دینے کے قابل ہیں ، اپنے اس مغالطے کے نتیجے میں وہ زندگی میںکبھی اس مقام تک نہیں پہنچ پاتے جس کے وہ اہل ہوتے ہیں لہٰذاان کے مقابلے میں بسا اوقات معمولی ذہن رکھنے والا شخص کامیابی کی سیڑھیاں پھلانگتا چلا جاتا ہے اور بے اہمیتی کے مغالطے کا شکار شخص اسے حسرت بھری نگاہوںسے دیکھتے ہوئے سوچتا ہے کہ آخر اس میں ایسا کیا ہے جو مجھ میں نہیں ! دراصل وہ یہ جان ہی نہیں پاتا کہ وہ اپنی ذات کے غیر اہم ہونے کے مغالطے کا شکار ہے ،یہی وجہ ہے کہ جب وہ اپنے جیسے اوسط درجے کے لوگوں کو ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے دیکھتا ہے تو حسد کا شکار ہو کر ان پر مختلف قسم کے الزامات کی بوچھاڑ کر دیتا ہے جس سے کسی حد تک اس کی انا کو تسکین تو مل جاتی ہے مگر حقیقت اپنی جگہ اٹل ہی رہتی ہے۔ بے اہمیتی کے مغالطے میں مبتلا لوگ اپنے نقصان کے خود ذمہ دار ہوتے ہیں ،ان کی بربادی میں سماج یا تقدیر کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ،یہ فقط ان کی غلط فہمی ہوتی ہے کہ وہ اس قابل نہیں کہ اپنی ذہنی استعداداور محنت کے بل بوتے پر زندگی میں کوئی معرکہ سر انجام دے سکیں،جب انسان کا دل و دماغ عملاً شکست قبول کر لے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اسے کامیابی سے ہمکنار نہیں کروا پاتی،یہی ایسے لوگوں کا المیہ ہے۔
دوسر ی قسم کے لوگ وہ ہیں جواپنی ذات کی اہمیت کے مغالطے کا شکار ہیں ،اس مغالطے کی تین شکلیں ہیں،پہلی شکل ان لوگوں کی ہے جنہیں یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ وہ بہت بڑے لوگ ہیںاور دنیا کے لئے نا گزیراور بے حد اہم بھی ، ان کے خیال میں دنیا کا ہر بندہ ہر وقت انہی کے بارے میں سوچتا ہے ،ہر محفل میں صرف انہی کا ذکر ہوتا ہے ،ہر حکمران انہیں راضی رکھنے کی فکر میں ہوتا ہے ،ہر کسی کے لب پر انہی کا قصیدہ ہوتا ہے اوردنیا کی ہر خاتون انہیں اپنے خوابوں کا شہزادہ تصور کرتی ہے ،اس قسم کے مغالطے میں مبتلا رہنے والوں کی یہ superlative formہے۔ اس سے نچلے درجے کے لوگ وہ ہیں جو اپنے آپ کو نا گزیر تو نہیں سمجھتے البتہ ان کا اپنے بارے یہ خیال ضرور ہوتا ہے کہ وہ کم از کم اپنے شعبے میں بہترین ہیں،ان کی فیلڈمیں ان کا کوئی ثانی نہیں اور کوئی جاہل ہی ان کی ذات کی اہمیت سے انکار کر سکتا ہے۔جبکہ اس مغالطے کی تیسری شکل وہ ہے جس میں ایساشخص اپنے آپ کو خواہ مخواہ بڑا سمجھنے لگتا ہے ،وہ اپنے بارے میں فرض کر لیتا ہے کہ وہ عظیم آدمی ہے لہٰذا جب معاشرہ اسے وہ ’’عظمت‘‘ نہیں دیتا تو وہ معاشرے کو ہی اپنا دشمن سمجھنا شروع کردیتا ہے ، اسے ہر وہ شخص ظالم اور برا لگتا ہے جو اسے وہ اہمیت نہ دے جس کا حقدار وہ خود کو سمجھتا ہے،اس قسم کی غلط فہمی کے شکار لوگ آپ کو ہر گلی محلی میں مل جائیں گے ۔
اہمیت کے مغالطے میں مبتلالوگوں کی مثالیںجتنی اپنے ہاں دستیاب ہیں شائد ہی دنیا کے کسی اور خطے میں ہوں۔کل ہی میری ملاقات اپنے ایک پرانے شناسا سے ہوئی جسے اپنے بار ے میں یہ گمان ہے کہ وزیر اعظم اور آرمی چیف کے بعد وہ ملک کا سب سے اہم شخص ہے ، موصوف ایف ایم ریڈیو پر کسی نا معلوم فریکوئنسی سے موسیقی کا ایک پروگرام پیش کرتے ہیں جو صبح ساڑھے تین بجے سے فجر کی اذان تک ہر ماہ کی آخری جمعرات کو نشر ہوتا ہے ، اپنے اس پروگرام کے بل بوتے پر موصوف کا اپنے بارے میں دعوی ٰ ہے کہ انہوں نے حکمرانوں کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں ،طاقت کے ایوانوں میں لرزہ طاری ہے ،حکومتی اہلکار اس سے پناہ مانگتے ہیں جبکہ وزراء اس کے آگے بھیگی بلی بنے پھرتے ہیں ۔موصوف نے یہ بھی دعوی ٰ کیا کہ ان کے پروگرام سے تنگ آ کر حکومت نے مذکورہ ایف ایم ریڈیو کا لائسنس منسوخ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا مگر ’’میں نے اسی دن اپنے پروگرام میں ایک ’’مزاحمتی غزل‘‘ چلا دی ،جس کے بعد حکومت کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے !‘‘میرے دوست نے قہقہہ لگاتے ہوئے بتایا۔ ’’کون سی مزاحمتی غزل چلائی تم نے ؟‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا۔’’مینوں نوٹ وکھا، میرا موڈ بنے!‘‘ میرے دوست نے اطمینان سے جواب دیا۔
اہمیت کے مغالطے میں مبتلا شخص کی بہترین مثال فوجی آمر کی ہے ،ڈکٹیٹر کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اگر خدا نخواستہ وہ فوت ہو گیا یا اسے اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑا تو اس صورت میں ملک نہیں چل سکے گا ! اسے یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ قدرت نے پوری کائنات میں صرف اسے یہ صلاحیت ودیعت کی ہے جو کاروبار مملکت چلانے کے لئے درکار ہے لہٰذا وہ ملک کے لئے نا گزیر ہے ،ڈکٹیٹرکی یہ غلط فہمی اسے اقتدار سے اس وقت تک چمٹائے رکھتی ہے جب تک عوام اسے چمٹے سے پکڑ کر اقتدارسے علیحدہ نہیں کر دیتے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے جیسے ممالک میں اس ’’بزتی‘‘ کے باوجود فوجی آمروں کو یقین نہیں آتا کہ ان کی اہمیت ختم ہو چکی ہے لہذاوہ اسی Fallacy of Significanceکے تحت دوبارہ اقتدار پر براجمان ہونے کی خواہش لے کر نمودار ہوتے ہیں ،ان کا خیا ل ہوتا ہے کہ اس مرتبہ ان کی وردی نہیں بھی ہے تو کیا ہوا،عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر انہیں اپنے کندھوں پر اٹھا کر کرسی پر بٹھادے گا۔لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہوتا اور پھر ایک دن وہ بھی آتا ہے جب فوجی آمر اپنے پیٹی بند بھائیوں کو مدد کے لئے پکارتا ہے کہ وہ اسے اس دلدل سے نکالیں جس میں اس نے اپنی ذات کی اہمیت کے مغالطے کا شکار ہو کر چھلانگ لگائی تھی ۔
ہمارے ہاں کچھ نا سمجھ سیاست دان بھی اہمیت کے مغالطے میں مبتلا ہیں ،ان کا خیال ہے کہ اگر وہ عوام کی رہنمائی کے لئے آگے نہ آتے تو یہ قوم کب کی تباہ و برباد ہوچکی ہوتی حالانکہ قوم کی برباد ی میں اصل ہاتھ ان کی احمقانہ لیڈری کا ہے ۔ان سیاست دانوں کے خیال میں سچائی صرف انہی پر آشکار ہوتی ہے،اخلاص اور تدبر صرف انہی کے پاس ہے اورلیڈری کی تمام خصوصیات چونکہ خدا نے انہی کو گفٹ کی ہیںلہٰذاان کے علاوہ باقی تمام لوگ بدنیت اور جھوٹے ہیں اور جو ان پر تنقید کرتا ہے وہ بکائو مال ہے ۔یہ وہ انسانی رویہ ہے جو سماج کے لئے زہر قاتل ہے ، یہی وجہ ہے کہ غیر اہمیتی کے مغالطے میں مبتلا رہنے والے لوگوں کو صرف ان کی ذات کے لئے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے جبکہ اہمیت کے مغالطے کا شکار لوگ معاشرے کے لئے زہر قاتل تصور کئے جاتے ہیں ،خدا ہمیں ایسے ذہنی مریضوں سے محفوظ رکھے!
نوٹ: گزشتہ اتوار کے کالم ’’کوئی ہے جو عشق کا دم بھر سکے‘‘ میں سرسید کی ایک کتا ب کا ذکر کیا گیاتھا،بے شمار لوگوں نے اس کی بابت دریافت کیا ہے ،اس کتاب کا نام ’’خطبات احمدیہ‘‘ ہے ،اس کتا ب کو انگریزی اور اردو زبان میںاردو بازار لاہور کے ایک پبلشر نے دوبارہ شائع کیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *