پاکستان اپنے وجود کے مقصد سے دور کیوں؟

(سعد رفیق کے قلم سے )

saad rafique

  پاکستان دنیا کے نقشے پر ایسا ملک ہے جو اپنے قیام کے پہلے دن سے ہی مسائل کا شکار اور مشکلات میں گھرا رہا ہے، یہ تو ایک واضح حقیقت ہے کہ پاکستان کے قیام کی اصل و جہ اور اسکا اصل سبب دو قومی نظریہ ہے اور پاکستان کا قیام اسی کے مرہون منت ہے. قیام پاکستان سے لیکر اب تک جتنے بھی حکومتیں بر سر اقتدار آئیں خواہ وہ فوجی حکومتیں ہوں یا نام نہاد جمہوری حکومتیں کم و بیش سب ہی مملکت خداداد پاکستان کو درپیش مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی ہیں، اس کی وجہ حکمران طبقے کی جانب سے مسائل کی طرف اصل توجہ نا دینا اور فرائض سے غفلت برتنا بھی ہی اور حکمرانوں کے دلوں میں وطن کے لئے خلوص اور حب الوطنی کے مادے کا نہ پایا جانا بھی ہے. حکمران ہمیشہ سے ہی اپنی زات میں مگن رہے آئے ہیں اور بد قسمتی سے یہ روش آج تک چلی آرہی ہے، جبکہ عوام ہمیشہ انکی غلط اور دوغلی پالیسیوں کی بھینٹ چڑھتی گئی، پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اسکے معرض وجود میں آنے کے بعد ایسے لوگ اس پر مسلط کردیئے گئے جو ہمیشہ سے انگریز کے وفادار رہے ہیں، اور یہ طبقہ ہمیشہ سے پاکستان کی غریب اور ان پڑھ عوام کا استحصال کرتا آیا ہے، یہ طبقہ جاگیر داروں اور وڈیروں اور نواب اور خانوں پر مشتمل ہے، جاگیر داری نے بلاشبہ پاکستانی سیاست پر انتہائی منفی اثرات مرتب کئے ہیں جسکے نتیجے میں ہمیشہ اشرافیہ طبقہ یعنی جاگیر دار طبقہ ہی حکومت میں رہا ہے یہ مٹھی بھر طبقے صرف اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے سرگرم رہتا ہے جبکہ پاکستان کی عوام جن میں اکثریت نا خواندہ ہے کو زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم رکھا گیا ہے. مملکت خداداد وجود میں آنے کے بعد آج تک مختلف تجربات سے گزرچکا ہے، کبھی فوجی آمر آئے تو کبھی نام نہاد فوجی حکومتیں، بار بار حکومتوں کا بدلنا اور فوجی بغاوتیں بھی مثبت نتائج کا سبب نہی بنیں. یہ بهی ایک واضح حقیقت ہےحکمرانوں کے رویے میں کبھی تغیر پیدا نہی ہوا. اغیار کی ریشہ دوانیاں تو اپنی جگہ خود وطن عزیز کے ان حکمرانوں نے بھی ملک کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہی چهوڑی ، عوام دشمن پالیسیوں کا ایک نتیجہ یہ بھی بر آمد ہوا کہ ملک کے مختلف حصوں میں استحصال کے شکار پسے ہوئے بنیادی سہولیات سے محروم مختلف گروہوں نے بغاوت کا راستہ بھی اختیار کیا جس سے ملک دشمن عناصر نے خوب فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور اسکو موقع غنیمت جان کر ملک کو توڑنے کی سازشیں تیز کردیں تاکہ انکے شیطانی مقاصد پورے ہوسکیں اور انکا یہ خواب کہ پاکستان کو وجود کا خاتمہ کرکے اسکو دوبارہ ہندوستان میں ضم کردیا جائے. یہ تو ایک خواب ہے اور خدا کے اذن سے ایک خواب ہی رہے گا. ان ظالم و جابر حکمرانوں کے خلاف اگر کوئی آواز بلند کرے تو ریاستی مشینری حرکت میں آجاتی ہے تاکہ ایسی اٹھنے والی آوازوں کو دبایا جا سکے. حقیقت یہ ہے کہ فوجی آمر کی حکومت ہو یا پھر جعلی انتخابات کے ذریعے سے اقتدار میں آنے والی نام نہاد جمہوری حکومتوں عوام ہمیشہ سے انکا تختہ مشق بنی رہی ہیں. یہی نام نہاد جمہوری حکمران جوکہ جاگیرداروں اور وڈیروں کا ایک ٹولا ملک پر لعنت کی طرح مسلط ہے ، یہ ٹولا اپنے وجود کو اس وقت بڑے خطرے میں پاتا ہے جب فوجی آمر حکومت میں ہو تب ہم "جمہوریت بہترین انتقام ہے" جیسے نعرے بلند ہوتے ہوئے سنتے ہیں بڑا افسوس ہوتا ہے یہ حقیقت جان کر کہ جب بھی نام نہاد حکمران دوبارا حکومت پر قابض ہوتے ہیں تو عوام کو ہی اپنے انتقام کی بھینٹ چڑھادیتے ہیں. یہ تاثر بھی اب عوام میں عام پایا جاتا ہے کہ قابض حکمرانوں کو عوام یہ ملکی مفاد سے زیادہ امریکی مفاد عزیز ہے، بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ان حکمرانوں کا طاقت میں آنے کا اصل مقصد امریکی خوشنودی حاصل کرنا ہے اور ایسا کرنے میں کوئی کسر بھی نہی چهوڑی جاتی چاہے اپنے شہریوں ہی کو کیوں نہ بیچنا پڑے. پاکستان کہنے کو تو ایک فلاحی ریاست ہے مگر صرف کتابوں میں جبکہ فی الواقع صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کی عوام کو انکی بنیادی ضروریات بھی میسر نہیں، یہی وجہ ہے کہ ملک کے مختلف حصوں سے ہمیں یہ بھیانک خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ غربت کی شکار ایک ماں نے اپنے 2 کمسن بچوں سمیت پل سے چھلانگ لگا کر زندگی کا چراغ گل کردیا. کتنی بد قسمتی کی بات ہے کہ ایک ایسا ملک جس کے لئے ہمارے آباو اجداد نے لاکھوں قربانیاں دیں تاکہ ہندوؤں کے تسلط سے آزاد ایک ایسا وطن حاصل کریں جہاں ہمیں آزادی سے زندگی جینے کا حق حاصل ہو اور جہاں ہم بحیثیت مسلمان اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق بلا کسی روک ٹوک اور تشدد کے زندگی بسر کر سکیں، مگر یہ تحریر کرتے ہوئے افسوس بھی ہوتا ہے اور دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ وہی مملکت خداداد پاکستان آج وہ کچھ ہورہا ہے جسکا کبھی ہمارے آباو اجداد نے سوچا بھی نہی ہوگا میں پورے یقین سے یہ بات کہسکتا ہوں اگر انکو اس بات کا زرا سا بھی اندازہ ہوتا تو وہ کبھی بھی اتنی بڑی تحریک نہ چلاتے پاکستان کے قیام کا مطالبہ نہ کرتے اور لاکھوں جانوں کی قربانی نہ دیتے. اگر غلام ہی بن کر جینا تھا تو پهر ہمیں یہ سوال اٹھانے کا حق حاصل ہے کہ اتنی قربانیاں دینے کا اصل حاصل کیا تھا ؟؟؟ کیا یہ قربانیاں اور کیا مسلم لیگ کی لیڈرشپ کی انتھک محنتوں کا مقصد اور انکا انگریز اور ہندو کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کرنا تاکہ مسلم کو ایک علیحدہ وطن میں رہنے کا حق حاصل ہو کی غایت اس طبقے کو اقتدار کی مسند پر بٹھانا تھا تاکہ وہ جب چاہیں جیسے بھی چاہیں پاکستان کی عوام کا استحصال کریں پاکستان کے وسائل پر قبضہ جمالیں تاکہ انکے مفادات کی تکمیل ہو؟؟؟ ہر گز نہی پاکستان اقبال کے خواب کی تعبیر اور محمد علی جناح جوکہ بے پناہ صلاحیتوں کی حامل شخصیت تھی کے انتھک محنتوں کا نتیجہ ہے اور انکے ان ساری جدوجہد اور سعی کا مقصد بر صغیر یعنی ہندوستان کے مسلمانوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم دلانا تھا جہاں وہ غیر کے اثر سے آزاد ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کریں جو کہ تمام دنیا کے کئے ایک مثال بن جائے. آج بھی دیر نہی ہوئی پاکستان کو اللہ تعالٰی نے بے پناہ وسائل سے نوازا ہے اور پاکستان کی آبادی کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے جنہوں نے ہر شعبے میں ثابت کرکے دکھایا ہے کہ انکے اندر بھی آگے بڑنے کی صلاحیت ہے اگر انکو بہتر سہولیات فراہم کئے جائیں اور مزید مواقع فراہم کئے جائیں تو بلا شک و شبہ ان میں کائنات کو تسخیر کرنے اور دنیا کی باقی قوموں کے شانہ بشانہ چلنے کی استعداد ہے چاہے وہ کوئی بھی شعبہ ہو کھیل کا میدان ہو یا پھر تعلیمی میدان الغرض ہر شعبے میں پاکستان کے نوجوان طلبا و طالبات آگے بڑھنے اور کمال کے درجے پر پہنچنے کی بے پناہ صلاحیتیں اپنے اندر لئے ہوئے ہیں. پاکستان کے لوگ زندہ دل لوگ ہیں شجاعت بہادری جیسی خصوصیات کے حامل دین اسلام سے محبت کرنے والے اور اس پر اپنا تن من دھن قربان کرنے کے لئے ہر لحظہ ہر لمحہ تیار رہتے ہیں. یہی وجہ یے کہ تمام تر مسائل اور مشکلات اور بد عنوان بے غیرت اور ضمیر فروش حکمرانوں کے ہاتھوں صعوبتیں کا شکار رہنے کے باوجود بھی اپنی ایک شناخت قائم رکھے ہوئے ہیں ، انکی طاقت انکا رب کائنات اللہ پر ایمان ہے، بس جس چیز کا فقدان ہے وہ ہے ایک صالح اور ایماندار لیڈرشپ جس دن پاکستان کی غیور عوام کو اللہ سے خوف کھانے والے حکمران میسر آگئے جو پیسوں کے لئے اپنے وطن کے باسی نا بیچتے ہوں جو صرف اللہ کے سامنے جھکنا جانتے ہوں اور جنکو پاکستان کی رعایا کا مفاد اپنے مفاد سے زیادہ عزیز ہو یہی وہ دن ہوگا جب اقبال کے خواب کی تکمیل ہوگی اور محمد علی جناح کی انتھک محنتوں کا صلہ ہمیں ملے گا اور ہم سب سر اٹھا کر جینے کے قابل ہو جائیں گیں انشاءاللہ.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *