لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈیننس اور متناسب نمائندگی

(ساحل منیر کے قلم سے )

sahil Muneer

پنجاب کے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں اِن اداروں کے سربراہان کا خفیہ رائے شماری کی بجائے شو آف ہینڈز کے ذریعے انتخاب اور مخصوص نشستوں کو متناسب نمائندگی کے تحت سیاسی جماعتوں میں بانٹنے کے لوکل گورنمنٹ پنجاب ترمیمی آرڈیننس کو مختلف سیاسی وسماجی حلقوں اور قانونی و آئینی ماہرین کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ سابق صدر پرویزمشرف کے دور سے قانون ساز اداروں میں مذہبی اقلیتوں پر متناسب نمائندگی کے نام نہاد طریقِ انتخاب کی تجربہ آزمائی جاری ہے جِس پر اقلیتی حلقوں کی طرف سے مسلسل تحفظات کا اِظہار کیا جاتا رہا ہے۔مگر اِس غیر جمہوری طریقِ کار کے خلاف اِس نوع کا شدید عوامی ردِ عمل پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے ۔جِس نے ثابت کردیا ہے کہ متناسب نمائندگی کے حوالے سے اقلیتی کمیونٹی کے خدشات و تحفظات بِلا جواز نہیں ہیں اور اِس قِسم کے مفاد پرستانہ اقدامات جمہوری عمل کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہیں ۔اِس ترمیمی آرڈیننس کے تحت اقلیتوں سمیت دیگر خصوصی نشستوں کو ووٹ کی بجائے متناسب نمائندگی کے ذریعے پر کرنے کا عمل صریحاًمنتخب بلدیاتی نمائندگان کی حق تلفی ہے جو ہرگز قابلِ ستائش نہ ہے ۔علاوہ ازیں بلدیاتی اداروں کے آزاد حیثیت سے منتخب ہونیوالے اراکین کو سیاسی جماعتوں میں شمولیت پر مجبور کرنا بھی ان کے آئینی و قانونی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔حکومتِ پنجاب اِس سلسلہ میں عوام کے قانونی، آئینی اور جمہوری حقوق کا احترام کرے اور لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈیننس کی متنازع شقوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے بلدیاتی اداروں کی تشکیل میں شفافیت و غیر جانبداری کے امر کو ملحوظِ خاطر رکھے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ بلدیاتی نظام میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور اِس نظام کی فعالیت کے حوالے سے عدلیہ بھی مختلف پہلوؤں پر غور کررہی ہے اور سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاق سمیت چاروں صوبائی ایڈووکیٹ جنرلزو سیکرٹریز لوکل باڈیز کوذاتی حیثیت سے پیش ہو کربلدیاتی نظام کے فعال ہونے سے متعلق رپورٹ طلب کر لی ہے۔علاوہ ازیں پاکستان تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ(ق) کی طرف سے بھی لاہور ہائیکورٹ میں اِسی نوع کا کیس زیرِ سماعت ہے جِس میں اِن دونوں جماعتوں نے بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات اور اِن اداروں کی تشکیل کے لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈیننس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
جہاں تک پاکستانی اقلیتوں کا تعلق ہے تو انہوں نے کبھی بھی متناسب نمائندگی کے طریقِ انتخاب کو دِل سے قبول نہیں کیا اور اقلیتی نمائندگان کے انتخاب کو ہمیشہ براہِ راست ووٹ سے مشروط کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔بلدیاتی ادارے ہوں یا قانون ساز ی کے ایوان۔۔۔متناسب نمائندگی کے نام نہاد طریقِ انتخاب کی کِسی قیمت پر بھی پذیرائی نہیں کی جاسکتی کیونکہ عوامی رائے کے بغیر سیاسی جماعتوں کی آشیر باد سے منتخب ہونیوالے اراکین کو عوامی مسائل و مشکلات سے ہرگزکوئی سروکار نہیں ہوتا اور وہ کبھی بھی عوامی توقعات پر پورے نہیں اترتے ۔ بدیں وجہ پنجاب حکومت کے لوکل باڈیز ترمیمی آرڈیننس سمیت ایسے تمام قوانین پر نظر ثانی کی ضرورت ہے جو عوام کو ان کے آئینی و جمہوری حقوق کی نفی کرتے ہیں۔

لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈیننس اور متناسب نمائندگی” پر ایک تبصرہ

  • جنوری 30, 2016 at 10:42 AM
    Permalink

    .Good writing of Sahil Munir about concerns on proportionate representation

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *