’’ آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے‘‘

M J Akbarایم جے اکبر

ہو سکتاہے کہ ووٹ دینے والا ہر شخص ویسی حکومت حاصل نہ کرسکے جس کا وہ مستحق ہوتا ہے۔ اس ک وجہ یہ ہے کہ ووٹ دینے والے دراصل چکمے میں آتے ہوئے کسی نہ کسی وعدے پر یقین کر لیتے ہیں ۔ اگر وہ کسی وعدے پر پوری شدت سے یقین نہ کرتے تو وہ حکومت کو اتنی بری سزا نہ دیتے۔ تاہم ہر سیاسی جماعت کی قسمت میں کوئی نہ کوئی شہرت لکھی ہوتی ہے جو مل کر رہتی ہے۔ کانگرس کی قسمت میں 2014 کی انتخابی مہم کے دوران مرکزی شخصیت ، جن کے گرد شہرت کی لکیر کھنچی گئی ، وہ راہول گاندھی تھے لیکن ایک مشہور ایڈورٹائزنگ ایجنسی Dentsu کی پوری کوشش کے باوجود وہ ایک عظیم قائد کے طور پر سامنے نہ آسکے۔ اس کی بجائے وہ مخالفین کے مذاق کا نشانہ بنتے رہے۔ ایسا کرتے ہوئے اس ایجنسی نے بھی اپنی حماقتیں طشت از بام کر دیں۔ مثال کے طور پرگجرات کے لیے بنائے گئے پوسٹر ، جس میں راہول گاندھی کو نرندرا مودی کے ساتھ کھڑا دکھایا تھا، کے نیچے یہ الفاظ درج تھے...’’میں نہیں ہم‘‘۔ یہ نعرہ ایسا ہونا چاہیے تھا...’’میں نہیں، ہم‘‘ ، لیکن تشہیر کرنے والی ایجنسی نے درمیان میں کامہ (،) لگانے کی زحمت نہیں کی ۔ تاہم اس غلطی پر صرف ایجنسی کو ہی موردِ الزام ٹھہرانا درست نہیں کیونکہ ایک باورچی ویسا ہی کھانا پکاتا ہے جیسا گاہک مطالبہ کرے۔ اس اشتہار سے پتہ چلتا ہے کہ نہ تو راہول گاندھی اور نہ ان کی ٹیم میں موجود کوئی اور شخص سیاسی یادداشت کا مالک ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو الارم بج چکا ہوتا ... کسی نہ کسی کو لاشعوری طور پر خطرے کا احساس ہو گیا ہوتا اور ایجنسی سے کہا جاتا ہے کہ وہ درج کرنے والے نعروں کے الفاظ پر اچھی طرح غور کرے۔ ایسی بات نہیں کہ یہ نعرہ ایک عشرے پرانے نعرے کی کاربن کاپی تھا بلکہ مودی نے 2011 میں بھی یہ نعرہ استعمال کیا تھا۔
دراصل مورثی سیاست میں سب سے خطرناک روایت یہ ہے کہ یہاں احتساب، جو سیاسی تطہیر کے لیے ضروری ہے، وفاداری کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ اصولی طور پر اگر سیاست میں کامیابی پر انعام ملتا ہے تو پھر ناکامی پر سزا بھی ہونی چاہیے، لیکن اگر آپ کے اردگرد ’’جی حضوری ‘‘ کرنے والوں کا تانتا بندھا ہوتو پھر اپنی غلطی کبھی دکھائی نہیں دیتی ۔2009 میں ’’یوپی اے ‘‘ کے میدان میں دوبارہ آنے کے بعد سے راہول گاندھی اور ان کی تمام ٹیم انتخابی سیاست کے حوالے سے سنگین قسم کی غلطیاں کی ہیں۔ سب سے پہلے تو پنجاب میں شکست ہوئی... اسے کانگرس کی شکست کا نکت�ۂ آغاز قرار دیا جانا چاہیے۔یقیناًپنجاب میں شکست کی ذمہ داری صرف راہول پر عائد نہیں ہوتی لیکن جب یو پی( اتر پردیش )میں انتخابات ہوئے تو ٹیم کی قیادت بہرحال وہی کررہے تھے۔
یوپی سے آنے والی صدا ذاتی نوعیت کی تھی اور اگر کوئی سننا چاہتا تو آسانی سے سن سکتا تھا، لیکن میڈیا اور بہت سے دیگر سننے والوں نے یہ سنا کہ کانگرس یہاں سے سو کے قریب نشستیں جیت سکتی ہے اور اگربدترین صورتِ حال بھی پیش آگئی تو بھی اسّی کہیں نہیں گئیں۔ اس سے کانگرس کے پاس اتنی سیٹیں ہو سکتیں ہیں کہ راہول وزیرِ ا عظم بن جائیں۔ لیکن جو کچھ ہوا، وہ ہم سب جانتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم ایک اور بات جانتے ہیں کہ اس سے پہلے جن خوشامدیوں نے آسمان سر پر اٹھایا ہوا تھا، وہ بھی اپنی جگہ پر موجود ہیں۔ کسی کو شکست پر کوئی چرکا تک نہیں لگا، بلکہ کسی نے ندامت تک محسوس نہیں کی... ہو سکتا ہے کہ کی ہو لیکن کم از کم اس کا اظہار نہیں کیا گیا۔اس کی بجائے گلہ پھاڑ کر یہی کہا گیا...’’ اگلی مرتبہ ہم آپ کو دکھائیں گے کہ....‘‘۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخری مرتبہ جب آپ نے ’’اگلی مرتبہ ‘‘ کہا تھا تو اس چیلنج کا کیا ہوا؟ چلیں چھوڑیں، آپ یہ بتادیں کہ آپ اُس مذکورہ اشتہار میں کامہ ڈالیں گے...’’میں نہیں، ہم ‘‘؟اگر شرمندگی محسوس کی جانے والی چیز ہے تو کامہ ڈالا جانا چاہیے۔ تاہم جو کوئی غلطی کا ایک بیج بوسکتا ہے، وہ ایک جنگل بھی اُگانے پر قادر ہو سکتا ہے۔
راہول گاندھی کا انتخابی معروضہ اس نکتے پر مرتکز ہے کہ کوئی ایک شخص بھارت پر حکمرانی نہیں کرسکتا۔ ہو سکتا ہے یہ بات کرتے ہوئے ان کا اشارہ اپنی طرف ہو اور وہ اپنے عظیم پر داداپنڈت جواہر لال نہرو یا اپنی دادای اندراگاندھی یا اپنے والد راجیو گاندھی کو بھول رہے ہوں۔ یہ تمام شخصیات اپنی ٹیم کے اہم ترین افراد تھے۔ اندرا گاندھی کے بارے میں تو کہا جاتا تھا کہ وہ اپنی کابینہ کی واحد ’’مرد ‘‘ ہیں۔ اگر راہول گاندھی مودی کی طرزِ حکومت کو نظر انداز کررہے ہیں تو اس اچھے کام کے لیے اُنھوں نے غلط سال کا انتخاب کیا ہے کیونکہ ووٹر ایک مضبوط حکومت چاہتے ہیں۔
تشہیر کرنے والی کمپنی نے ایک اور غلطی بھی کی ۔ کسی بھی تصویر میں راہول کے ساتھ کسی سکھ رہنما کو پیش نہیں کیا گیا۔ کیا یہ محض بشری غلطی تھی یا کانگرس یہ سمجھ رہی تھی کہ اُن کو پنجاب میں سکھ ووٹوں کی کوئی ضرورت نہیں ؟پھر خیال آتا ہے کہ اگر غلطی تھی تو اگلی تشہیری مہم میں دور کی جاسکتی تھی، لیکن ایسا نہ ہوا۔ اب عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان فروری کے آخری ہفتے میں کیا جانا ہے جبکہ پولنگ اپریل کے شروع میں ہوگی۔ چناچہ ابھی بھی وقت ہے، اگر زیادہ نہیں، لیکن پھر کامہ لگانے اور اس طرح کی دیگر غلطیاں درست کرنے کے لیے تو کافی ہے۔ ان غلطیوں کو دور کرنے کے علاوہ کانگرس کے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ ان افراد کو سامنے لائے جنھوں نے یہ غلطی نہیں کی تھی۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *