جنوری اور دلاسے

ali

انگریزی مہینے کا ایک علیحدہ موسم، مزاج اور مزہ ہوتا ہے اس لئے اس کے ہر مہینے کے اپنے تاثیری تقاضے ہوتے ہیں۔ کہا جاتا ہے جس مہینے میں R یا’’ ر ‘‘آئے اس مہینے میں مچھلی بغیر کسی مشورے سے کھائی جاسکتی لیکن اس کا شوقین اسلامی مہینوں یعنی صفر تا رمضان بھی فائدہ اٹھا یا جا سکتا ہے ۔اگرانگریزی یا اسلامی مہینے شوق کے آڑھے آئیں تو دیسی مہینوں سے بھی فائدہ اٹھایاجا سکتا ہے کیونکہ کھانے کے شوق کے آگے ہر ڈاکٹربے بس ہوتا ہے لیکن دوسری طر ف ان باتوں سے بے نیازگوادر اور پسنی والے پورا سال مچھلی سے لطف اندوز رہتے ہیں۔نجومیوں کے نزدیک سال کا پہلا مہینہ مبینہ طور پر جنوری ہے لیکن ان کے بقول سال کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب شمس برج حمل میں داخل ہوتا ہے جیسا کہ ہمارے دیسی مہینوں کا آغاز اسی بنیاد پر ہوتا ہے ۔ جنوری اور دسمبر کی ’’شکلیں‘‘ کافی حد تک ملتی ہیں کیونکہ دونوں اکتیس دنوں کے اورکافی ٹھنڈے ہوتے ہیں۔ اسی طرح پہلا اور آخری اعلان بینکوں کی چھٹی کا ہوتا ہے اس چھٹی کی وجہ سے مچھلی کے کئی شوقین اپنے شوق سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔حالانکہ جنوری انگریزی سال کا پہلا ہی مہینہ ہے لیکن اس مہینے میں پھر بھی بڑے بڑے لوگ پیدا ہو چکے ہیں اور آئندہ جنوری میں پہلے سے بھی زیادہ اور سائنسی طریقے سے پیدا ہونے کے امکانات ہیں۔ایک معروف این ۔ جی ۔او۔انجمن ڈی۔ٹی ۔ٹی یعنی (انجمن دلاسے تلسی تشفی) نے لوگوں کی فلاح کے لئے خوشیوں بھرے دلاسوں کاایک سپرے ایجاد کیا ہیں جنہیں طفل تسلی قطعا نہ سمجھا جائے اور اسے ہر تکلیف پر باآسانی چھڑکا جا سکتا ہے ۔اس انجمن کے پا س بینک بیلنس کی کوئی کمی نہیں لیکن دیتی صرف دلاسے ہے ۔ماہ جنوری میں اس انجمن کی جانب سے پیش کی جانیوالے دلاسوں کا خلاصہ حاضر خدمت ہے۔
کاشتکاروں کے لئے یوریائی دلاسے
اب آپ کے سرپر ٹیکس کی تلوار لٹک چکی ہے اور صرف رسی کٹنے کی کسر باقی ہے لہذا آپ حضرات سے گزارش ہے کہ جن کاشتکاروں نے ابھی تک گندم نہیں بوئی وہ اس کا ارادہ فی الفورترک کر دیں کیونکہ جتنی فصل زیادہ ہو گی اتنا ہی ٹیکس لگے گا اور کیا ضرورت ہے معمولی ٹیکس کے لئے بڑی جانفشانی کی ۔ اس میں شک نہیں کہ آپ لوگ عشروں سے گاجرین کھا رہے ہیں اور گاجریں کھانے والے کو کبھی کبھار پیٹ کا مسئلہ بھی ہو جاتا ہے چنانچہ اب آپ کو ایک آدھ گاجر کم کرنا پڑے گی اور ہو سکتا ہے اس وجہ سے کھیت میں گاجروں کے ساتھ کچھ مرچیں بھی لگیں لیکن ہماری ہمدردیاں آپ کے ساتھ ہیں وقت سے پہلے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔
حجاموں کے لئے گنگھریالے دلاسے
انجمن ڈی ۔ٹی۔ ٹی کا گمان ہے کہ شاید بال کٹنے پرساڑھے تین فی صد ٹیکس عائد کرنیکا معاملہ بھی زیر غور ہے جیسا کہ فصل کاٹنے والوں پر ۔ لہذا اب آپ کو بھی اپنے آدھے بازو والی حجامت کے لئے تیار رہنا ہو گا کیونکہ آپ کی ایسوسی ایشن بھی ہر تین مہینے بعد اپنے استرے تیزکرکے اجرت بڑھا نے کا اعلان کر دیتی ہے اور اس سلسلے میں چھوٹے بڑے (Sir) کی کوئی تمیز نہیں کرتی بلکہ آپ لوگ چوراہے میں سر مونڈھنے سے بھی گریز نہیں کرتے جس کیوجہ سے لوگوں کی جیب بھی کلین سویپ ہو جاتی ہے ۔ وہ دن دور نہیں جب ٹیکس محبوب کی لمبی ذولفوں کی طرح آپ پر سایہ فگن ہو گا ۔آپ سے گزارش ہے کہ آپ ہمیشہ ہماری انجمن سے دلاسا لیا کریں اور جعل سازوں کے بہکاوے میں نہ آئیں۔
پٹرول پمپ مالکان کے لئے ملاوٹی دلاسے
پچھلے دنوں حکومت نے پٹرول کی قیمت میں کمی کر کے عوام کو دلاسہ دیا لیکن آپ کے منافع کو اچانک دھچکا لگا آپ سے گزارش ہے کہ اپنا دل چھوٹا نہ کریں ۔چھوٹا ہو آپ کا ’’پیمانہ ‘‘ فکر نہ کریں اگلے ماہ آپ کا دل خود بخود بڑا ہو جائے گا پھر پیمانے کے متعلق جو آپ کے مزا ج میں آئے وہ کیجئے گا اور آپ کے پیمانے کا کیا ہے کبھی تو اسے ’’چوٹ‘‘ لگے گی اور عوام آپ کے پمپ پر شانہ بشانہ لائن میں لگی دکھائی دے گی ۔ہماری انجمن کا مشورہ ہے کہ آپ اپنے کاروبا ر میں ایل ۔پی ۔جی یونٹ کا اضافہ کر لیں کیونکہ اس کی قیمت میں اضافہ ہی اضافہ ہے اور ان کے مالکان کے پاس سرمایہ رکھنے کے لئے ایک خالی سلنڈر بھی نہیں ...
نجومیوں کے لئے صرف عددی دلاسے
یہ پہلی دفعہ ہو رہا ہے کہ نجومیوں کو ہماری انجمن کی طرف سے مفت دلاسے مل رہے ہیں قبل ازیں ان دلاسوں سے صرف فلم انڈسٹری مستفید ہوتی چلی آئی ہے ۔ نجومیوں کو انجمن ڈی ٹی ٹی نے آگاہ کیا ہے کہ وہ جنوری میں ستاروں کی چالوں سے بچتے بچتے کسی سیاسی چال میں پھنسنے سے مکمل بچیں۔ ہو سکتا ہے کہ ستاروں کی چال آپ کو پسند نہ آئے اور آپ ان کی چال بھول کر کہیں نجوم سے چالو ہی نہ ہو جائیں۔ کسی کو معلوم نہیں کہ جہاں نجومی بیٹھتا ہے اسے دوکان کہتے ہیں یا دفتر لیکن اتنا اندازہ ضرور ہے کہ جب وہ اپنا اڈا کھولتے ہیں تو اس امر کو طلوع کہا جاتا ہے اور وہ اسے بند کرتے ہی غروب ہو جاتے ہیں یعنی ان کی ایک اپنی شمسی چال ہوتی ہے۔نجومی سیاسی پروفیسر بھی ہوتے ہیں یہ برکت کی بیوی کو کہہ رہے ہوتے ہیں کہ آپ کے لئے یہ سال برکت والا نہیں لگتا اسی طرح مبارک کی بیوی کو کہہ رہے ہوتے ہیں کہ یہ صرف تمہارے لئے مبارک ہو گا جبکہ برکت کی مبارک کسی دوسرے کودے رہے ہوتے ہیں۔ اگر انہوں نے کوئی پیشن گوئی کرنا ہو تو اس کا اظہار کم از کم دو علوم سے کرتے ہیں ۔ایک علم سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ شادی کامیاب ہو گی اور علم اعداد کی روشنی میں ناکامی ظاہر کر دیتے ہیں لہذا ان کی ایک پیشن گوئی سو فی صد درست ثابت ہوتی ہے۔ آجکل جو بڑی تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے وہ امریکی چینلوں پر نجومیوں کا غلبہ ہے اور ان سے یہ سوال بار بار پوچھا جا رہا ہے کہ موجودہ سال امریکہ کے لئے کیسا رہے گا۔ لگتا ہے اب امریکیو ں کو بھی کئی خدشات لاحق ہو چکے ہیں جو شاید پہلے کبھی ان کے ذہن کو چھوئے تک نہیں تھے ۔امریکہ کا کوئی بھی صدر جو قبل ازیں آٹھ سال تک کرسی پر براجمان رہتا تھا لیکن موجودہ صدر کے مستقبل کے متعلق نجومیوں سے استفادہ حاصل کرنا ضروری خیال کیاجا رہا ہے ۔ اس بات پر یقین رکھیں کہ انجمن ڈی ۔ٹی۔ ٹی نجومیوں کے خاکی برُج الٹانے کا ارادہ رکھنے والوں پر اپنی اور ستاروں کی نظر رکھتی ہے لہذا گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں اور امید ہے آپ انجمن کے نگران اعلی پروفیسر عطارد کی عطا۔رد نہیں کریں گے۔
بچوں کے لئے ایک معصوم دلاسہ
ہمیں معلوم ہے کہ آپ کی گولیاں ٹافیاں دن بدن چھوٹی ہو رہی ہیں اور محسوس ہوتا ہے کہ فیکٹریوں نے ان کا سائز ملیریا کی گولی کے برابر کر دیا ہے لیکن آپ بھی اپنا دل چھوٹا نہ کریں کیونکہ دوسری طرف آپ کی رنگ برنگی اوربڑے سائز کی دوائیاں مارکیٹ میں موجود ہیں اور آپ کو ملاوٹ والی خوراک ملنے کی وجہ سے اکثر دوائیوں کے ذائقوں کے مستفید ہونا پڑتا ہے اور ہو سکتا ہے مستقبل میں دوائیاں آئسکریم کی شکل میں آپ کا دل لبھا ئیں۔ چینی کی قیمت دار چینی کے برابر لانے کی کوشش میں آپ کے شوق کا کچھ حرج ہو رہا ہے چلیں اس مرحلے میں آپ کے دانت خراب ہونے سے کافی بچ جائیں گے آپ انہیں کھٹا ہونے سے بھی بچائیں۔
دل جلوں کے لئے دِلی دلاسہ
دل جلے ہر معاشرے بلکہ گھر گھر اپنے جلے ہوئے دل کی ’’ بُو‘‘ پھیلا نے کا ذریعہ ہوتے ہیں اگر ان کی مردم شماری کی جائے تو ’’دل جلے ‘‘ کے کالم میں ہر مرد کے آگے ہاں کا ذکر لکھا ملے گا۔اس سے احساس ہو گاکہ شوہر ،شاہ و شاطر اور شاعروغیرہ کے قریب سے جیسے شگفتگی گزری ہی نہ ہو۔ان میں سے ٹاپ پر وہ شوہر ہوتا ہے جو ابھی شادی کی امید لگا ئے ہوتاہے ۔ہماری انجمن ان سب کے لئے دلوں پر اپناسہروں سے سجا سپرے کرنے کاارادہ رکھتی ہے لیکن ہمیں یہ بھی اندازہ ہے کہ دل جلوں کو دلاسہ دینا دل جلوں ہی کا کام ہے۔
گیس صارفین کے لئے ٹھنڈا دلاسہ
اس سال پنجاب کے گیس صارفین کو پہلی دفعہ گیس کے اٹھارہ گھنٹے جلنے والے شعلے سے یہ اندازہ ہوا کہ اس کا نام’’ سوئی ‘‘ گیس کیوں ہے اور واقعی اس شعلے کی ’’قدوقامت‘‘ نے اس کے قدیم نام کے بھید بھی کھول دیے ہیں ۔گیس صارفین اس سال متعارف ہونے والے بالکل سوئی جیسے ’’کونیکل بیفل‘‘ کے راز سے بھی آگاہ ہوچکے ہیں۔چولہے ٹھنڈے ہونے کا محاورہ ہر درمیانے درجے کا شہری جانتا ہے اور اب وہ اس کاعملی مظاہرہ بھی دیکھ چکا ہے ۔فکر مت کریں آپ جلد ہی اس سوئی کے ناکے سے اونٹ کے گزرنے کا تماشا دیکھ بھی لیں گے لیکن گیس کی عدم دستیابی سے آپ کے بٹوے نے بھی ’نوٹ شیڈنگ‘‘ کی ریہرسل کر لی ہے ....بس جنوری گیا فکر کاہے کی ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *