کھجور کاتنا روتا ہے، شجر روتے ہیں

tarar

آج سے چودہ سو برس پیشتر بھی ہم روتے تھے، گر یہ کیا تھا، فریاد کی تھی، آنسو بہائے تھے۔ صرف تمہارے انسانوں کے نہیں کل کائنات کے جتنے بھی چرند پرند اور جاندار ہیں، محمد رسول ؐاللہ سب کے پیغمبر اور پیارے ہیں۔۔۔ تو ذرا یاد کرو آج سے چودہ سو برس پیشتر مسجد نبوی میں کھجور کے درخت کا ایک تنا ہوا کرتا تھا اور تمہارے ہی نہیں ہمارے بھی حضورؐ اس تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے، صحابہ کرامؓ سے باتیں کیا کرتے تھے۔۔۔ ہاں تم کیا جانو کے حضورؐ کے بدن کالمس کیا ہوتا ہے، کھجور کے درخت کا وہ تنا جانتا تھا اور جب حضورؐ اس کے ساتھ ٹیک لگا کر باتیں کرتے تھے اور ان کی باتوں سے پھول جھڑتے تھے تو وہ شجر یکدم پھوٹنے لگتا تھا، اس میں سے کونپلیں جنم لیتی تھیں۔ حضورؐ کے بدن کا لمس ایسا ہوتا تھا۔ اور جب حضورؐ کے لیے لکڑی کا ایک منبر تراشا گیا اور وہ اس تنے سے الگ ہو کر وہاں فروکش ہو گئے۔۔۔ تو جانتے ہو کھجور کے شجر کے اس تنے پر کیا گزری۔۔۔ وہ رونے لگا۔۔۔ اتنے آنسو بہائے کہ سر سے پاؤں تک بھیگ گیا۔۔۔ تو اے لکڑ ہارے اپنے بچوں کے قاتلوں کے شیدائی کیا تم انکار کر سکتے ہو کہ شجر روتے ہیں۔ بے شک مدینے کا سفر اختیار کرو۔ جاؤ مسجد نبویؐ میں جاؤ۔ وہاں آج بھی اس مقام کی نشاندہی کی جاتی ہے جہاں کھجور کا وہ تنا ہوا کرتا تھا جس کے ساتھ ٹیک لگا کر ہمارے سب کے رسولؐ۔ انسانوں، حیوانوں، چرند پرند اور سمندروں، پہاڑوں، بلندیوں پر مہک آور ہونے والے پھولوں، گھاس کی ہر پتی، شبنم کی ہر بوند، پانیوں کی گہرائی میں موجود مخلوق، غرض کہ کائنا توں کے رسولؐ، اس شجر سے ٹیک لگا کر باتیں کرتے تھے۔
تو ہم شجر تب روتے ہیں جب ہمارے دل کو ٹھیس لگے، اتنا بڑا دکھ نازل ہو جائے کہ ہم بے اختیار ہو کر آنسو بہانے لگیں۔ جب رسول اللہؐ نے ہم سے جدائی اختیار کی تب ہم پہلی بار روئے۔ بعد ازاں ہم تب روئے جب کربلا میں اسی رسولؐ اللہ کے خون کو خون کر دیا گیا اور وہاں بھی معصوم بچوں کو قتل کیا گیا۔ کیا تم ایک تسلسل دیکھتے ہو۔ کربلا کے بچوں اور آرمی پبلک سکول اور چارسدہ
یونیورسٹی میں ہلاک کیے جانے والے بچوں کے درمیان۔۔۔ سلسلہ ٹوٹا ہی نہیں خون کی زنجیر کا۔ صرف ایک فرق کے ساتھ کہ آج کے یزید بھی اس یزید کی مانند اسلام کے نام پر بچوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں۔ اُن زمانوں میں شنید ہے کہ سینکڑوں ’’علمائے کرام‘‘ نے امام حسین کو سلطنت کا باغی قرار دے کر اُن کے قتل کا فتویٰ دیا تھا اور آج بھی صورت حال وہی ہے۔ آرمی پبلک سکول کے بچوں کے سروں میں گولیاں مارنے اور اُن کی ایک ٹیچر کو زندہ جلا دینے والوں کے حق میں اسلام آباد کی لال مسجد سے ایک تاویل فتوے کی صورت آجاتی ہے۔۔۔ ہمیں، ہم درختوں کو یقین ہے کہ چارسدہ یونیورسٹی میں ہلاک کیے جانے والے بچوں کے بارے میں بھی کوئی نہ کوئی تاویل آجائے گی، اللہ اکبر۔۔۔ توہم شجر۔۔۔ پاکستان کے گھنے جنگلوں میں جتنے بھی شجر ہیں ہم فریاد کرتے ہیں۔ ہم سے اپنے بچوں کے تابوت نہ بناؤ۔ کوئی منبر بناؤ جس پر براجمان ہو کر کوئی بزرگ قتل کے فرمان جاری نہ کرے، بچوں سے محبت کی تلقین کرے۔ ہم تنگ آ چکے ہیں۔۔۔ ویسے وہ کیسے بزدل لوگ ہیں سکول جانے والی بچیوں پر حملہ آور ہوتے ہیں اور اگر کوئی بچی بچ جائے، اس کا چہرہ بگڑ جائے، وہ مسکرا بھی نہ سکے تو اُن کے مداح اُسے ایک ’’فاحشہ‘‘ قرار دیتے ہیں۔ اس کا قصور یہ تھا کہ وہ ہلاک نہ ہوئی۔ اور یہ دستور ہے کہ اگر آپ جری اور بہادر ہو تو ذرا اپنا نام پتہ تو بتا دو کہ کون ہو۔۔۔ اگر کسی نے بدلہ لینا ہے تو آپ تک پہنچ جائے۔۔۔ نہیں، نہیں۔۔۔ ایک بچی سے ڈرنے والے لوگ کہاں جری اور بہادر ہوتے ہیں۔ ڈرپوک ہوتے ہیں۔ موت سے ڈرتے ہیں۔ برقع پہن کر فرار ہو جانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہم شجر اب چپ ہوتے ہیں، ہم نے چودہ سو برس پیشتر آنسو بہائے اور آج بھی روتے ہیں۔ اب اے لکڑ ہارو تم کوئی بات کرو! ہم کیا بات کریں، ایک باپ کے سب بیٹے اگر مر جائیں تو وہ کیا بات کرے۔۔۔ آج سے چودہ سوسال پیشتر عبدالمطلب کے انتقال پر جو مرثیے لکھے گئے انہیں اپنے بچوں کی ہلاکت کے حوالے سے یاد کرتا ہوں۔۔۔ ’اے آنکھ! سخاوت کر، آنسو بہا، اور بنی مغیرہ کے لیے چھپ چھپ کر رو جو کعب اشرف کی اولاد تھے۔
اے آنکھ! خوب تیزی سے آنسوؤں کے تار باندھ دے اور آفات میں جو لوگ میرے دل کے اندر رہتے ہیں، اُن پر رو۔
اے آنکھ ابو الشعت الشجیات پر رو کہ عورتیں بے چادر یا کھلے منہ قبر بندھی ہوئی اونٹنیوں کی طرح اس پر رو رہی ہیں۔ اس کے غم میں وہ دھاڑیں مار مار کر روتی ہیں، ہائے یہ غم اور یہ چیخیں، کس قدر دراز ہیں۔
رنج و الم میں تارے گن کر رات گزارتا ہوں اور روتا ہوں ۔۔۔
چارسدہ کے سفید کنول کے پھولوں پر خون کے چھینٹے ہیں، چپلیں خون آلود ہیں اور اے آنکھ میں روتا ہوں، جنگل روتے ہیں۔ انہوں نے مزید تابوتوں کے لیے اپنی لکڑی فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے تو اے مرے ترکھان اب ہم ان بچوں کو کس پھول کا کفن دیں۔

کھجور کاتنا روتا ہے، شجر روتے ہیں” پر ایک تبصرہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *