’’ناشکری‘‘ اپوزیشن کو سبق سکھانے کی حکمت عملی

بتایا ہمیں یہ گیا تھا کہ دوماہ کے طویل وقفے کے بعدپیر کے روز سے شروع ہونے والے قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاس فقط کرونا کو زیر بحث لائیں گے۔ اسی باعث فیصلہ یہ بھی ہوا کہ پارلیمانی روایات سے قطعی برعکس رواں سیشن کے دوران دونوں ایوانوں کی کارروائی کا آغاز وقفہ سوالات سے نہیں ہوگا۔ تحاریکِ استحقاق اور التوا بھی پیش نہیں کی جائیں گی۔ صرف کرونا کے موضوعات پر تقاریر ہوں گی۔

فقط کرونا ہی اگر پارلیمان میں زیر بحث لانا واقعتا مقصود ہوتا تو پیر کے روز حکومتی صفوں میں بحث کا آغاز مخدوم شاہ محمود قریشی صاحب نہیں اسد عمر کرتے۔وزیر اعظم نے وزیر منصوبہ بندی کوکرونا سے سے نبردآزما والے ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول (NCOC)کا سربراہ بنارکھا ہے۔وہ روزانہ کی بنیاد پر اس کے اجلاس کی صدارت کرتے ہیں۔ملک بھر میں صحت عامہ سے متعلق تمام ادارے (NCOC)کو کرونا کی زد میں آئے افراد کے تازہ ترین اعدادوشمار سے آگاہ کرتے ہیں۔انٹیلی جنس اداروں نے مریضوں کی تلاش (Tracing)اور اس کی بدولت لازمی ٹھہرائے اقدامات پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے TTQکے عنوان سے ایک نظام قائم کیا ہے۔موبائل فونز کی نگرانی پر مشتمل یہ نظام متاثر کن حد تک جدید ترین ہے۔مجھے گماں ہے کہ پاکستان کے علاوہ صرف اسرائیل نے ایسا نظام متعارف کروایا۔ان دونوں ممالک سے قبل چین نے اسے اپنانے کی کوشش کی تھی۔بے تحاشہ آبادی والے ملک میں لیکن یہ مؤثر ثابت نہیں ہوا۔چینی کمیونسٹ پارٹی کو محلوں کی سطح پر متحرک ہوتے ہوئے کرونا کی زد میں آئے لوگوں کا پتہ لگانا پڑا۔

ٹھوس اعدادوشمار کی بنیاد پر اسد عمر صاحب قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہی ہمیں کرونا کے حوالے سے پاکستان میں نمودار ہوئی Big Pictureکو تفصیلات سمیت بیان کرسکتے تھے۔ ان کے بیان کردہ اجمالی خاکے کو نگاہ میں رکھتے ہوئے اپوزیشن اراکین مزید معلومات کے حصول کے لئے مناسب سوالات اٹھانے کی ضرورت محسوس کرتے۔ اسد عمر کے بیان کردہ منظر میں نظر آئی کوتاہیوں پر توجہ بھی دیتے۔ حکومت نے مگر شاہ محمود قریشی صاحب کو پارلیمان کے لئے اپنا ’’ترجمان اعلیٰ‘‘ مقرر کردیا۔نظر بظاہر وہ عمران حکومت کے سینئر ترین وزیر ہیں۔قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کے بائیں ہاتھ رکھی کرسی پر بیٹھتے ہیں۔تحریک انصاف کے نائب صدر بھی ہیں۔یہ مراتب انہیں وزیر اعظم کی عدم موجودگی میں ’’قائد ا یوان‘‘ بنادیتے ہیں۔قومی اسمبلی میں کرونا پر بحث کا آغاز لہذا ان کی تقریر ہی سے ہونا چاہیے تھا

سیاست میں لیکن جو نظر آتا ہے اس کے پیچھے بہت کچھ ہوتا ہے جو بیشتر صورتوں میں ہمیں نظر نہیں آتا۔ چند ذرائع سے مجھے خبر ملی ہے شاہ محمود قریشی صاحب نے حکومتی مؤقف کی پارلیمان میں ترجمانی کا فریضہ بہت ہوشیاری سے تقریباََ ہائی جیک کرلیا۔

تحریک انصاف میں جو گروپ بندی ہے اس کا مؤثر ترین دھڑا کئی برسوں سے جہانگیر ترین کی شفقت کو بے چین رہتا تھا۔چینی سکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد وہ راندئہ درگاہ ہوگئے۔ ان کی فراغت ہوئی تو شاہ محمود قریشی صاحب کے لئے اپنی جماعت میں گلیاں ہوگئیں سنجیاں والا ماحول بن گیا۔کرونا کی وباء نازل ہوجانے کے بعد مگر وہ اپنی اہمیت مؤثرانداز میں دکھا نہیں پائے۔کرونا سے نبردآزما ہونے کے لئے (NCOC)کے نام سے جو اعلیٰ سطحی ادارہ قائم ہوا اس کی سربراہی اسد عمر کو سونپ دی گئی۔مذکورہ ذمہ داری کے طفیل شاہ محمود قریشی صاحب کے بجائے اسد عمر ’’نائب وزیر اعظم‘‘ کے مرتبے سے لطف اندوز ہوتے نظر آئے۔

ملتان کے ایک قدیمی اشراف گھرانے کے فرزند-قریشی صاحب- پنجابی محاورے میں بتائے ’’ٹھنڈی کرکے کھانے‘‘والوں میں سے ہیں۔ نہایت خاموشی سے اس Spaceکے منتظر رہتے ہیں جو ان کی اہمیت کو اجاگر کرنے کا موقع دے۔وہ ہمارے وزیر خارجہ ہیں۔ IMFسے قرض یا امدادی رقم لینے کے لئے مگر مشیر برائے خزانہ کو متحرک ہونا پڑتا ہے۔ورلڈ بینک اور G-20ممالک سے پاکستان نے جو قرض حاصل کررکھا ہے اس کی اقساط یا سود کی ادائیگی سے جڑے معاملات بھی وزارتِ خزانہ کے ذریعے طے ہوتے ہیں۔IMFنے وعدہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کو کرونا کی وجہ سے سنگین تر ہوئی معاشی مشکلات کے ازالہ کے لئے ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم ’’ایمرجنسی ریلیف‘‘ کی صورت فراہم کردے گا۔ورلڈ بینک اور G-20ممالک نے بھی سود اور اقساط کی ادائیگی کے بارے میں نرمی دکھانے کا عندیہ دیا۔

عالمی اداروں کی جانب سے ہوئے وعدوں نے یقینا عمران حکومت کے لئے ایک Feel Good Storyفراہم کی ۔ مخدوم صاحب نے مگر حفیظ شیخ کو اس کا کریڈٹ لینے نہیں دیا۔عالمی اداروں سے خیر کی خبر آتے ہی ایک پریس کانفرنس فرمادی۔ہمیں یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ بطور وزیرخارجہ انہوں نے اپنی سفارت کارانہ مہارت سے پاکستان کے لئے ممکنہ ریلیف کا بندوبست کیا ہے۔وزیر اعظم کی اس ضمن میں مداح سرائی بھی لیکن ضروری تھی۔ پیغام یہ دیا کہ عمران خان صاحب نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو پاکستان جیسے غریب ممالک کی مدد کے لئے متحرک کیا۔ وزیر خارجہ عمران خان صاحب کی جانب سے اٹھائی پیش قدمی کا ٹیلی فون ڈپلومیسی کے ذریعے Follow Upکرتے رہے اور بالآخر پاکستان کو اقتصادی حوالوں سے مناسب Spaceمل گئی۔

ہم سادہ لوح پاکستانیوں کی اکثریت کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی ’’اصل اوقات‘‘ کا علم نہیں۔ IMFکی فیصلہ سازی میں اقوام متحدہ نہیں امریکہ حتمی کردار ادا کرتا ہے۔ G-20ممالک کی بھی اپنی ترجیحات ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک کو رعایتیں دینے کے لئے وہ صرف اسی صورت مائل ہوتے ہیں اگر ان کی Geostrategic ترجیحات کے حوالے سے کسی ملک کے تعاون کی ضرورت محسوس ہو۔ افغانستان سے اپنی افواج نکالنے کو بے چین ٹرمپ اوراس کے نیٹو ممالک والے اتحادی طالبان کو صلح پر رضا مند کرنے کے لئے ان دنوں ایک بار پھر پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں۔اس ضمن میں ہماری اہمیت کو نظر میں رکھتے ہوئے IMF’’ایمرجنسی ریلیف‘‘ فراہم کرنے کو مجبور تھا۔ ڈاکٹر حفیظ شیخ کے ساتھ گفتگو کے بعد اس نے ممکنہ ریلیف کی جزئیات طے کیں۔میڈیا میں لیکن اس تناظر میں مخدوم شاہ محمود قریشی ’’بازی لیتے‘‘ نظر آ ئے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کا آغاز شاہ محمود قریشی صاحب کے بجائے اسد عمر صاحب کی تقریر سے ہوتا تو پیغام یہ جاتا کہ وباء کی وجہ سے مسلط ہوئے بحران سے نبردآزما ہونے کی ذمہ داری وزیر اعظم نے ان کے سپرد کردی ہے۔کرونا کے تناظر میں عمران حکومت کے حتمی Point Personفقط اسد عمر صاحب ہیں۔مخدوم صاحب نے مگر ایک کائیاں سیاستدان ہوتے ہوئے ان کا ’’دیا‘‘ جلنے نہیں دیا۔ پارلیمان میں کرونا کے حوالے سے حکومتی مؤقف کی ترجمانی کوتقریباََ اچک لیا۔

اسد عمر کے بجائے شاہ محمود قریشی کی جانب سے ہوئی تقریر نے سیاسی امور پر نگاہ رکھنے والے صحافیوں کو واضح انداز میں یہ سمجھادیا کہ قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاسوں کے ذریعے عمران حکومت اپوزیشن جماعتوں سے ’’اجتماعی بصیرت‘‘ کی طلب گار نہیں۔وہ سنجیدگی سے یہ محسوس کرتی ہے کہ ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کی دس سالہ حکمرانی کی وجہ سے خالی ہوئے قومی خزانے کے باوجود وہ کرونا بحران سے کماحقہ نبردآزما ہونے میں کامیاب رہی۔ عالمی سطح پر کرونا کی وجہ سے ہوئی اموات کی جو اوسط شرح ابھری ہے اس کے تقابل میں ہمارے ہاںایسی اموات کی تعداد پریشان کن نہیں رہی۔نسبتاََ قابل برداشت دِکھتی اس شرح کو نگاہ میں رکھتے ہوئے لاک ڈائون میں نرمی لانے کا فیصلہ ہوا۔لاک ڈائون میں یہ نرمی دیہاڑی داروں اور کم آمدنی والوں کی مشکلات کے ازالے کی ایک صورت بھی ہے۔ان کی مصیبت کا احساس کرتے ہوئے عمران حکومت نے حیران کن سرعت کے ساتھ ایک کروڑ سے زائد غریب دیہاڑی داروں کو چند دن قبل ہی نقد رقوم فراہم کی ہیں۔

شاہ محمود قریشی صاحب جو بیانیہ پیش کررہے ہیں اسے غور سے سنیں تو دریافت ہوجاتا ہے کہ اپنے تئیں کرونا بحران سے نبردآزما ہونے کے لئے عمران حکومت نے جو حکمت عملی اپنائی وہ ہر حوالے سے کامیاب ہے۔ایک کامیاب حکمت عملی کی دریافت اور اس پر مؤثر عملدرآمد کے بعد اسے اپوزیشن جماعتوں سے رہنمائی کی درخواست کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

اپوزیشن جماعتیں خاص طورپر پاکستان پیپلز پارٹی کے لیڈر بلکہ ’’بے بنیاد الزامات‘‘ کے ذریعے عمران حکومت کی کامیابی سے جلن کا اظہار کررہے ہیں۔ اس ’’حقیقت‘‘ کا اعتراف کرنے کی جرأت بھی نہیں دکھارہے کہ آئین میں اٹھارویں ترمیم متعارف ہوجانے کے بعد صحت عامہ سے جڑے مسائل سے نبردآزما ہونا بنیادی طورپر صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری تھی۔ وفاقی حکومت اس ضمن میں فقط مشاورت اور تعاون فراہم کرنے کی ذمہ دار تھی۔’’ناشکری‘‘ اپوزیشن کو سبق سکھانے کے لئے مخدوم صاحب نے منگل کے دن سینٹ میں سینہ پھلا کر بالآخر اعلان کردیا کہ پیپلز پارٹی ’’تیاری کرلو‘‘ تحریک انصاف اب سندھ میں بھی چھانے والی ہے۔