دنیا بھر میں پسند کی شادی کا بڑھتا رجحان

ملائشیا مذہب، روایات اور آزاد خیالی کا ایک عجیب امتزاج ہے۔ یہاں کے دیہاتوں میں زناکlove merriage 3اروں کو بیت کی سزا دی جاتی ہے مگر شہر میں حالات مختلف ہیں جہاں کوئی بھی اپنے گھر پر بیٹھ کے اپنے آس پاس کسی اکیلی عورت کا آسانی سے پتہ لگا سکتا ہے۔ مگر ایک بات ہے کہ یہاں dating apps کا استعمال زیادہ تر دوستی کے لیے ہوتا ہے ایک رات کی تفریح کے لیے نہیں۔
آج کا ملائشیا کل کے ملائشیا سے مختلف ہے۔ آج کا ملائشیا اپنے رہنے والوں کو تسخیر کے لیے زیادہ بڑا آسمان دیتا ہے۔ ملائشیا کے آج کے نوجوانوں کے پاس اپنے والدین سے زیادہ مواقع ہیں۔ اسکے علاوہ اور بھی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ پہلی یہ کہ جنسی روابط میں عیسائیت کی جھلک نطر آتی ہے، دوسراشادیاں اب خاندانوں کی رضامندی کے بجائے انفرادی رضامندی سے ہوتی ہیں، اور تیسرا یہ کہ شادی شدہ جوڑوں میں اب کم بچوں کا رجہان فروغ پا رہا ہے۔
دنیا کے زیادہ تر ممالک میں ان سب چیزوں کو لے کر ابھی بھی سوچ میں روایت پسندی کی جھلک نمایاں ہے۔ جیسے کہ شادی سے پہلے کہ جنسی روابط کو آج بھی غلط نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، ہم جنس پرستی کو آج بھی پذیرائی نہیں ملتی اور شادی کے لیے اکثر لڑکی کی مرضی نہیں پوچھی جاتی۔ ایسا ہی کچھ ہوا عائشہ عبدلئی کے ساتھ ہوا جب 13سال کی عمر میں اُس کی شادی بغیر اُس کی رضامندی کے ایک 50 سالہ شخص سے کر دی گئی جس نے جی بھر کے اُسکا جنسی استحصال کیا، اُس کے بچے کو مار دیا اور بعد میں اُسے طلاق دے کر گھر واپس بھیج دیا۔ مگر اسکے بعد دوبارہ اُس کی شادی ایسے ہی کسی شخص سے کر دlove marriage 1ی گئی اور آج 28 سال کی عمر میں وہ دو بچوں اور دو طلاقوں کے بعد اپنے والدین کی دہلیز پر بیٹھی ہے۔ عائشہ کا کہنا ہے کہ اگر اُسکی پہلی شادی صحیح وقت پر اُس کی رضامندی سے کر دی جاتی تو اُس کو اتنے مسائل کا سامنا نا کرنا پڑتا۔
لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اب اس طرح کے کیسز کی تعداد کافی کم ہو گئی ہے۔ 15سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادی کی شرح 12فیصد سے کم ہو کر 8فیصد ہوگئی ہے جبکہ 18سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادی کی شرح میں بھی کافی کمی ہوئی ہے۔ سال 1985میں یہ شرح 33 فیصد تھی جبکہ سال 2010تک یہ شرح کم ہو کر 26فیصد ہو گئی تھی۔ اسی طرح بیسویں صدی کے آغاز میں کیے گئے سروے کے مطابق 72فیصد شادیاں والدین کے فیصلے سے ہوتی تھیں جبکہ اب یہ شرح کم ہو کے 40 فیصد ہو گئی ہے۔ جبکہ چین، انڈونیشیا اور جاپان جیسے ممالک میں تو تقریباََ ختم ہو گئی ہے۔ ایک چینی طالبِ علم Lu Xinyan کا کہنا تھا کہ یہ اُس کی شادی ہے اُس کی فیملی کی نہیں۔
والدین کی پسند کی شادی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ان پیار محبت کے جذبات سے ذرا اوپر کا سوچتے ہیں۔ اسلیے وہ کسی رشتے کے اچھے اور برے پہلوؤں کو زیادہ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اب نوجوانوں میں جلدی شادی کا رواج بھی ختم ہو چکا ہے۔ نوجوان پرھتے ہیں ،اپنی تعلیم مکمل کرتے ہیں اور کنبہ چھوٹا رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے بچوں کو بہتر مستقبل دے سکیں۔ ملائشیا کا شرح پیدائش اس وقت 6سے نیچے 2پہ آگیا ہے۔ وہیں کے ایک طالبِ علم Hiqmar Danial کا کہنا ہے کہ وہ بس دو بچے چاہتا ہے کیونکہ وہ یہ نہیں جانتا کہ دو سے زائد بچوں کی پرورش وہ کر پائے گا یا نہیں۔love merriage 2
پسند کی شادی نے جہاں عورتوں کو طاقت بخشی ہے وہیں اُس کے کئی نقصان بھی ہیں۔ ایک تو یہ اب کئی ترقی یافتہ ممالک میں شادی کے بغیر پیدا ہونیوالے بچوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ OECD میں شامل ممالک میں ایسے بچوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ طلاق یا علیحدگی کے کیسز میں بھی اضافہ دہوا ہے ، مگر ایسے کیسز میں سب سے زیادہ نقصان بچوں کا ہوتا ہے اور اُن کی شخصیت ہی تباہ ہو کر رہ جاتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *