مذہبی انتہا پسندی اور عالمی امن

tony-blair01ٹونی بلیئر

گزشتہ چند ایک ہفتوں کے دوران دنیا کے مختلف ممالک، جیسا کہ شام، لیبیا، عراق، لبنان، مصر، یمن، تیونس اور پاکستان میں پہلے سے جاری دھشت گردی کے واقعات میں انتہائی ہولناک اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس کے علاوہ کچھ ممالک ،جیسا کے نائیجریا، وسطی ایشیا کے بہت سے علاقے، روس، برما، تھائی لینڈ اور فلپائن میں بھی دھشت گردی کے واقعات رونما ہوئے ۔ ان کی وجہ سے انسانوں کی ایک بڑی تعداد متاثرہوئی۔ ان واقعات کے حوالے سے دومختلف پہلو سامنے آتے ہیں۔یا تو ہم اُنہیں مختلف ممالک میں مختلف سیاسی یا ذاتی مقاصد کے لیے کی جانے والی قتل وغارت سمجھیں یا پھر ان میں مماثلت تلاش کرتے ہوئے ان سے عالمی سطح پر نمٹنے کی حکمتِ عملی بنائیں ۔
درحقیقت ہر ملک میں کچھ نہ کچھ انفرادی مسائل موجود ہیں جو تشدد کا باعث بنتے ہیں، تاہم ایک بات سب میں کم و بیش مشترک ہے ... عام جرائم کو چھوڑ کر، منظم دھشت گردی کے واقعات میں وہ لوگ ملوث ہوتے ہیں جو مذہب کی غلط تشریح کرتے ہیں۔ یقیناًاس میں مذہب کا کوئی قصور نہیں ہوتا بلکہ یہ افراد کے ہاتھوں اپنے مذموم مقاصد کے لیے مذہب کا منفی استعمال ہوتا ہے اور بدقسمتی سے اس کی روک تھام کے لیے ان معاشروں میں کوئی فعال کوشش دیکھنے میں نہیں آتی ہے ۔ مذہب کو جواز بنا کر دھشت گردی کا ارتکاب کرنے والے اپنے تئیں اپنے عقیدے یا فرقے یا مسلک کی پیروی کررہے ہوتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ فساد کم ہونے کی بجائے بڑھ رہا ہے۔
ہمیں اپنے فوری تحفظ کے لیے کچھ لازمی اقدامات اٹھانے ہیں۔ 9/11 کے بعد سے ان اقدامات کی لاگت اور بوجھ بہت زیادہ ہوچکاہے،تاہم صرف سیکورٹی اقدامات، بلکہ فوجی کاروائی بھی، دھشت گردی کو جڑ سے ختم نہیں کرسکتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انتہاپسندی انسانوں کی سرشت میں شامل نہیں ہوتی بلکہ اسے ایک بیرونی ذریعے سے ان کے ذہنوں میں راسخ کیا جاتا ہے۔ روایتی تعلیم، مذہبی تعلیم، عبادت گاہوں اور میڈیا اور انٹر نیٹ کے وسیع جال کے ذریعے انتہاپسندانہ نظریات کا پرچار کیا جاتا ہے۔ ٹیکنالوجی جہاں بہتری کے مواقع پیداکرتی ہے، وہیں یہ نفرت ،تفریق اور فساد پھیلانے والوں کو بھی تقویت پہنچاتی ہے۔ ٹیکنالوجی کی بدولت آج کی دنیامیں جغرافیائی فاصلے سمٹ رہے ہیں۔ مختلف ممالک اور معاشرے آپس میں اتنے قریب آچکے ہیں کہ اس سے پہلے کبھی ایسے نہ تھے۔ اس صورتِ حال نے جہاں انسانوں کی ایک کثیر تعداد کو فائدہ پہنچایا وہیں نفرت کا پیغام پھیلانے والوں کو بھی اس قابل بنا دیا کہ وہ زیادہ افراد اور معاشروں تک اپنا پیغام پہنچائیں۔ اس صورتِ حال کا تدارک کیاجانا ضروری ہے۔
اس وقت، جبکہ ہماری نظریں شام میں ہونے والے قتلِ عام پر مرتکز ہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ پرامن مذاکرات کے ذریعے انسانی المیے کو مزید گہراہونے سے روکا جاسکتاہے لیکن جب ایک لاکھ تیس ہزار (بعض اعداد وشمار کے مطابق دولاکھ) ہلاکتیں ہوچکی ہوں ، لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوں، ملک میں انتشار کے سائے گہرے ہورہے ہوں تو یہ مشکل دکھائی دیتا ہے کہ یہاں خود بخود امن قائم ہوجائے گا اور شامی معاشرے میں عقیدے اور نظریات کی تفریق کے باوجود تمام شہریوں کی شخصی اور معاشرتی آزادی کا احترام کیا جائے گا۔ اگر اس ملک میں عقائد کی بنیاد پر حکومت قائم کی جائے گی یا قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی اور متحارب گروہ اپنے اپنے مقاصد کے لیے تشدد کا سہارا لیں گے تو یہاں پرامن معاشرے کا قیام کبھی عمل میں نہیںآسکے گا۔ اس فساد کا تعلق کسی نئے آئین کے لیے کی جانے والی جدوجہد سے نہیں، یہ عقائد کا معاملہ ہے۔
جمہوریت صرف ووٹ کے ذریعے ایک حکومت تشکیل دینے کا ہی نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسی طرزِ فکر ہے جس میں لوگوں کو صرف قانون کے مطابق ہی نہیں بلکہ دل سے بھی برابر تسلیم کرنا ہوتا ہے۔ اس کے لیے برداشت اور رواداری درکار ہے۔ جو لوگ اس کی مخالفت کرتے ہوئے معاشرے میں فساد پھیلاتے ہیں ، ان کو طاقت ہی نہیں بلکہ نظریاتی اعتبار سے بھی شکست دینے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر دھشت کے نظریات پھیل سکتے ہیں تو امن اور استحکام کے کیوں نہیں؟ عراق سمیت اس تمام خطے میں مذہبی بنیادوں پر فرقہ واریت نے عوام کے جمہوری اور سماجی حقوق کو خطرے میں ڈال رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ آج عالمی برادری کی نظروں میں بے حد اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ چونکہ یہ علاقہ اسلام کا مرکز ہے یا اس کے مرکز سے بے حد قریب ہے ، اس لیے یہاں اس بات کافیصلہ کیا جانا ہے کہ مذہب اور سیاست پرامن طریقے سے اپنے اپنے دائرے میں رہ سکتے ہیں۔ ایک اور بات بھی ذہن میں رکھی جانی چاہیے کہ دھشت گردی صرف اسلام تک ہی محدود نہیں بلکہ دنیا کے بہت سے حصوں میں مسلمان خود مذہبی بنیادوں پرمخالف گروہوں کے ہاتھوں اس کا شکار ہیں۔
چناچہ ہمارے سامنے چیلنج بہت واضح ہے ۔ اکیسویں صدی کے پہلے نصف میں دنیا میں جاری نفرت اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والی کشمکش کو ختم کرنا ہے۔ اس صدی میں ہونے والی جنگیں بیسویں صدی کی جنگوں کی طرح سیاسی بنیادوں پر نہیں لڑی جائیں گی ، بلکہ ان کی وجہ بڑی حد تک ثقافتی اور مذہبی اختلافات بنیں گے۔ چنانچہ امن کے لیے ان معاملات پر نظر رکھنا ضروری ہوچکاہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسے نظریات کی ترویج کی جائے جس سے خیالات میں وسعت اور رویوں میں برداشت پیدا ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ افراد یا گروہ ، جو میڈیا اور انٹر نیٹ کے ذریعے نفرت پھیلائیں، ان سے بھی جنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات ذہن میں رکھی جانی چاہیے کہ اکیسویں صدی میں تعلیم ایک سیکورٹی ایشو بننے جارہا ہے۔ چناچہ میں نے عہدہ چھوڑنے اور 9/11 کے بعد کی دنیا میں ہونے والے تجربات کی روشنی میں یہ دیکھا کہ وہ ممالک ،جہاں پہلے آمریت کا خاتمہ ہوچکا تھا اور لوگ جمہوری اقدار کی طرف بڑھ رہے تھے، وہاں راسخ ہوتی ہوئی شدت پسندی نے اس عمل کو نقصان پہنچایا۔ چناچہ میں نے ایک فاؤنڈیشن قائم کی جس کا مقصد مختلف عقائد سے تعلق رکھنے والے افراد کے دل میں آگاہی اور احساس اجاگر کرنا ہے۔ اس احساس کا تعلق عقیدے کی بجائے احترام اور انسان دوستی پر ہے۔ یہ فاؤنڈیشن اب بیس سے زائد ممالک، جو انتہا پسندی سے زیادہ متاثر ہیں، میں کام کررہی ہے۔ یہ کئی ملین پاؤنڈ کا بجٹ اور فل ٹائم اور پارٹ ٹائم کام کرنے والے باصلاحیت سٹاف کی خدمات رکھتی ہے اور اس کے حجم میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے ذریعے سکول اور یونیورسٹی ایجوکیشن کے فروغ کو ان ممالک تک پھیلارہے ہیں جہاں تنگ نظری اور دقیانوسی سوچ کی جڑیں زیادہ گہری ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے سامنے چیلنج بہت بڑا ہے جبکہ ہماری رسائی دنیا کے بہت ہی محدود حصوں تک ہے اور ہم انتہا پسندی کے خلاف لڑنے والا ایک چھوٹا سا گروہ ہیں۔ ہمارا مقصد جہاں عوام کو تنگ نظری اور فکری دیوالیہ پن سے بچانا ہے ، وہیں حکومتوں کو اپنی پالیساں تبدیل کرنے کے لیے دعوتِ فکر دینابھی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ہم انتہا پسندی کا تدارک کرنے کے لیے مذہبی اور سیاسی معاملات میں پھیلی ہوئی قدامت پرستی کی جڑوں کو ختم کریں۔امید ہے کہ عالمی رہنما بھی اس کاوش میں ہمارا ساتھ دیں گے۔

(بشکریہ دی گارڈین... مصنف سابق برطانوی وزیرِ اعظم ہیں )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *