باچا خان یونیورسٹی کےشہید پروفیسرکا عالمِ برزخ سے اپنے بھائی کو خط

(اظہر مشتاق کے قلم سے )

azhar mushtaq

پیارے بھائی!
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ گولی لگنے کے بعد جب جسم و جاں کا ناطا ٹوٹ گیا ہو گا عین اُسی وقت جنت کا فرشتہ مجھے ایک جست میں جنت کے باغوں کے عین وسط میں بنے ایک خوبصورت محل میں لے گیا ہو گا اور میرے آگے پیچھے حور وغلمان میر ی خدمت پر مامور کر دیئے گئے ہوںگے،آپکو معلوم ہے ہمارے گاؤں کی مسجد کا مولوی نمازِ جمعہ کی اُس لمبی سی تقریرمیں جس میں اکثر ہمیں نیند آ جایا کرتی تھی، شہید کی اُخروی زندگی کا ایسا ہی نقشہ کھینچتا تھا اور شاید اُس کے فنِ خطابت سے متاثر ہو کر میرے اور آپکے بہت سے ہم جماعت شہادت پا کر اگلی زندگی میں عیش و آرام ، حور و غلمان اور دودھ و شہر کی انہار کا مزہ لینے افغانستان پہنچ گئے تھے، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ کچھ افغانستان سے واپس نہ لوٹ پائے تھے اور کچھ کی لاشیں جب اُن کے گھر پہنچی تھیں تو اُن کی مائیں جن کا کبھی کسی پڑوسی نے کبھی ہاتھ تک نہ دیکھا تھا اپنے بیٹوں کی لاشوں سےلپٹ کر بال کھولے بین کر رہی تھیں۔ آپکو یاد ہے نا ایسے ہر جنازے سے لوٹنے پر ماں ہم بھائیوں کو سینے سے لگا لیا کرتی تھی۔ اور میں کئی بار اپنے دوستوں کی ماؤں کی جگہ اپنی ماں کا خیال کرتے ہوئے تنہائی میں پھوٹ پھوٹ کر رویا کرتا تھا۔
بھائی! آپکو یاد ہے جب سکول سے واپس آتے ہوئے ایک دن میں اپنے ایک ہم جماعت سے لڑ پڑا تھا تو آپ مجھ سے خفا ہوئے تھے اور آپ نے مجھے بتایا تھا کہ دوسروں سے پیار سے پیش آنا ہیمذہب اور انسانیت کا تقاضا ہے۔ آپکو یاد ہے میں جب کالج میں داخل ہو ا تھا تو ایک دن میری اور آپکی باچا خان کے بارے میں ایک طویل بحث ہوئی تھی آپ کا موقف تھا کہ باچا خان پاکستان بننے کے خلاف تھے اور میں باچا خان کے موقف پر ڈٹا ہوا تھا پھر وہ لاحاصل بحث کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئی تھی۔
میں جب برزخ میں پہنچا تو باچا خان مضحمل سے کھڑے دکھائی دئیے۔ جب انہوں نے بیس طلبہ کی طرف دیکھا تو اُن کی آنکھیں نم ہوگئیں، ساری زندگی جبر، ظلم، تشدّد اور جہالت کے خلاف لڑنے والافولاد صفت بابا کل اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا، بابا کی لمبی ناک سے آنسو قطرہ بہ قطرہ زمین پر گرنے لگے۔ بابا نے ہچکیاں بھرتے ہوئے مجھے سینے سے لگا یا اور کہا، '' تم طلباء کی رہبری میں جاں تک لٹا بیٹھے"۔
میرا دل کیا کہ بابا کو بتا دوں کہ ہمارےمحافظ ہمارے ساتھ دھوکہ کر رہے ہیں وہ جن کی تنخواہیں ہماری محنت کا ثمر ہیں ہمیں محفوظ نہ رکھ سکے۔ میرا دل کیا کہ میں بابا کے سامنے نالہ و شیون بلند کروں کہ میرا کام تو تعلیم دینا تھا مگر ظالموں نے گولی میرے سر میں ماری۔ دل کیا کہ بابا کو بتاؤں کی میری بی ایس سی کی بائیو کیمسٹری کی کتاب کی فہرست سے پہلے یہ شعر لکھا ہے؛
زندگی کیا ہے چند عناصر کا ظہورِ ترتیب،
موت کیا ہے انہی عناصر کا پریشاں ہو جانا!
بھائی آپکو تو پتا ہی ہے کہ مجھے پورا دوری جدول، تمام عناصر کے ایٹمی نمبر اور ایٹمی وزن سمیت یاد ہے۔ میری تحقیق انہی عناصر پر تھی، مجھے یہ تو قظعاً علم نہ تھا کہ عناصر کو زبردستی  بھی پریشان کیا جا سکتا ہے مجھے یہی پڑھایا اور سکھایا گیا تھا کہ عناصر کے ظہور ترتیب کو خفا کرنے کے لئے توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ مجھے گولی سے اسی لئے نفرت تھی کہ اس میں توانائی مقید کر کے نفرت بوئی جاتی ہے۔
آپکو یاد ہے نا جب میں ڈاکٹریٹ کے لئے برسٹل روانہ ہوا تھا تو کئی دوسری کتابوں کے ساتھ میرے سفری بیگ میں غنی خان کی کتاب "دی پٹھان" بھی تھی۔ وہ کتاب میں نے کئی بار پڑھی تھی اور ہر بار پڑھنے کے بعد میں مجھے پشتونوں کی فطرت، رسم و رواج اوررویوں کو زیادہ قریب سے سمجھنے میں مدد ملی۔ آہ! درویش منش غنی خان جس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ بہت عیاش اور بادہ نوش تھا ، عالم برزخ میں مجھے ایک کونے میں آرمی پبلک سکول کے بچوں کے ساتھ کھیلتا ہوا ملا، جب غنی خان نے پختون خواہ کے اکیس لوگ دیکھے تو ایک نہایت رنجیدہ رباعی پڑھتے ہوئے نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ افغانستان والے ڈاکٹر نجیب اور نور محمد ترکئی ساتھ ساتھ کھڑے تھے اور یہاں دونوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں، ڈاکٹر نجیب نے جب ہمیں دیکھا تو اس نے وہ "آگ'' والی بات بڑبڑائی۔
ایک کونے میں بشیر بلور اور میاں افتخار کا نوجوان بیٹا کسی انتظار میں بییٹھے تھے، بشیر بلور ہمیں دیکھ کر بولے' " اگر میں وہاں ہوتا تو لازماً سب سے پہلے حادثے کی جگہ پہنچتا" ۔
یہا ں ایک حصّے میں قاضی حسین احمد، بیت اللہ محسود اور اسی قبیل کے دوسرے لوگ براجمان تھے نجانے کیوں ہمیں دیکھتے ہوئے انہوں نے بھی مسکراہٹ بھرے لہجے میں اللہ اکبر کہا۔ اللہ اکبر کی آواز جانی پہچانی سی لگی بالکل ویسی جیسے باچا خان یونیورسٹی میں حملہ آوروں نے لگائی تھی۔ جیسے ہی اللہ  اکبر کی صدا بلند ہوئی اعتزاز حسیین اپنی مضبوط کلائیاں اور چوڑا سینہ پھیلائے صدا کی جانب لپکا اور آرمی پبلک سکول کی پرنسپل نے سب خوفزدہ بچوں کو ایسے سمیٹا جیسے چیل یا کوے کی آواز سُن کر مرغی چوزوں کو اپنے پروں میں سمیٹ لیتی ہے۔
بھائی مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ جنرل راحیل شریف تو طالبان کے خلاف لگاتار کاروائیاں کر رہے ہیں مگر جنرل ضیاءالحق اور جنرل حمید گل یہاں بیت اللہ محسود اور طالبان کے درمیان کیوں بیٹھتے ہیں۔ مجھے یہ بات بھی اچنبھے والی لگی کہ جنرل حمید گل اور قاضی حسین احمد اسلام آباد والے مولانا عبدلعزیز کی اتنی تعریف کیوں کرتے ہیں۔ ایک بات ہے کہ دونوں سعودی عرب کی بگڑتی صورتحال پر سخت پریشان ہیں۔
بھائی یہاں ایک عجیب طرح کے مخمصے کی صورتحال ہے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ اصلی شہداء کون ہیں۔ ہر روز ایک دربار لگتا ہے اور اُس دربار میں دو قطاریں- ایک قطار میں سلالہ چیک پوسٹ پر حملے میں مارے جانے والے، فاٹا اور ایجنسیوں میں امریکی ڈرون حملوں میں مارے جانے والے، امریکہ کے ہاتھوں افغانستان عراق لیبیا اور شام میں مارے جانے والوں کے ساتھ ساتھ یمن میں سعودی بمباری سے مارے جانے والے کھڑے ہوتے ہیں اور دوسری قطار میں ہم، آرمی پبلک سکول میں مارے جانے والے، اعتزاز حسین، قصہ خوانی بازار میں مارے جانے والے، کوئٹہ کے ہزارہ، بلوچستان کے بلوچی ، شیعہ اور کئی دوسرے لوگ جن کا لہو اسلام کی توسیع اور خلافت کے قیام کے لئے بہایا گیا ۔
ایک کش مکش جاری ہے اور کوئی فیصلہ نہیں ہو پاتا کہ کون اصلی شہید ہے۔ میں نے سنا ہے کہ باچا خان، اکبر بگٹی، سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی بھی فیصلے کے انتظار میں ہیں۔ میں نے یہ بھی سنا ہے کہ باچا خان کی آخری پیشی پر مفتی محمود نے اُن کے خلاف یہ دلیل دی کہ ایک ہندو کے ساتھ کھانے پینے، میل جول رکھنے اور اسکا دوست ہونیوالا جنت میں کیسے جا سکتا ہے؟
آپ حیران ہونگے کہ عالم برزخ کا اگر عوامی سروے کرایا جائے تو نوے فیصد لوگ یہ رائے دیں کہ ضیا صاحب کا ٹھکانہ وہ نہیں ہونا چاہئے جو دنیا میں اُن کے مداح چاہتے ہیں۔ بھٹو خاندان یہا ں لاڑکانہ کی طرح خوش تو نہیں ہو سکتا کیوں کہ اُنکی قسمت کا فیصلہ بھی ہونا ابھی باقی ہے۔
میری بیٹیوں کی تربیت ایسے کیجیے گا کہ وہ گڑیا بننے کی بجائے باہمت انسان بن سکیں۔آپ سے گزارش ہیکہ سارے خاندان کی تعلیم کو بنیادی مقصد سمجھ لیجئے اور ایک قدامت پسند معاشرے سے بذور قلم لڑنے کیلئے تیار رہئیےpro۔
آپکا بھائی
ڈاکٹر حامد حسین
عالمِ برزخ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *