"اک اور دریا کا سامنا ہے۔۔۔"

(شکیل قمر، مانچسٹر سے لکھتے ہیں)

پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے سے لے کر آج تک کے اخبارات کی ورق گردانی کرنے کے بعدمیں نے انتہائی ایمانداری سے یہ رائے قائم کی ہے کہ پاکستانی معاشرے میں دانشمندانہ تجزیوں اور مدّبرانہ آراء کو کوئی خاطر میں نہیں لاتا ،بلا تفریق کوئی بھی دور ہو اور کسی کی بھی حکومت ہو،پالیسیاں اورمیکنیزم کی تشکیل صرف بیوروکریسی ہی کرتی ہے اور بیوروکریسی صرف وہی کچھ کرتی ہے جshakeel qamarو اُس کے اپنے مفاد میں ہوتا ہے اگر آپ کو میری رائے سے اختلاف ہے تو آپ ایوب خانی مارشل لاء کے ابتدائی دور کی کرپشن کی شرح کو آج کے دور کی کرپشن کی شرح سے موازنہ کرکے دیکھ لیں آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ پچاس سال پہلے کرپشن کے اِکّا دُکّا واقعات سے شروع ہونے والی بربادی آج کس قدر بڑی تباہ کاری کا رُوپ دھار چکی ہے ،ذرا پیچھے مُڑ کر دیکھئے کہ گزشتہ پینسٹھ سال میں کسی نے اس کرپشن کے سدِباب کے لئے کوئی خاطر خواہ اقدامات کئے ہیں ؟ ہرگز نہیں ،جتنی بھی حکومتیں آتی رہی ہیں سبھی اپنے اپنے مخصوص ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مصروف رہی ہیں کسی نے بھی ملک اور عوام کے اعلیٰ ترین مفاد کے لئے کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا آج ملک کی حالتِ زار دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے آج اگر چراغ لیکربھی ڈھونڈنے نکلیں تو آپ کو ملک کے کسی بھی محکمے میں کوئی گوشہ ایسا نہیں ملے گا جہاں پر کرپشن بدرجہ اُتم موجود نہ ہو ،میں نے اپنی بات کرپشن سے اِس لئے شروع کی ہے کہ یہی وہ بنیادی مسئلہ ہے جو ہماری تمام تر برائیوں کی جڑ ہے شروع شروع میں جب کرپشن کا سفر ذ رامضبوط ہونے لگا تو ہم نے دیکھا کہ ہمارے اداروں کی گھٹیا کارکردگی کی وجہ سے ہم اپنے آدھے ملک سے ہاتھ دھو بیٹھے ،حالنکہ وہ ایک بہت بڑا سانحہ تھا مگر ہم نے اتنے بڑے سانحے سے بھی کوئی سبق حاصل نہیں کیا نہ اپنی بربادی کا کوئی تجزیہ کیا اور نہ ہی کوئی اسباب وعلل تلاش کرنے کی کوشش کی ،بلکہ اس سے بڑا ظُلم اور کیا ہو سکتا ہے کہ ہم نے ملک کے دو لخت ہونے کے اسباب تلاش کرنے کے لئے جو کمیشن بنایاتھا اُس کی مکمل رپورٹ بھی آج تک عوام کے سامنے نہیں لائی جاسکی، کرپشن کی ایک زندہ مثال یہ ہے کہ حمودالرحمٰن کمیشن کی رپورٹ کےبہت سے اہم حصّے کچھ اس طرح غائب کیئے گئے کہ آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ گُم شُدہ حصّے کہاں گئے،اس تاریخی شرمندگی اور ندامت کو ہم نے بلّی کے سامنے کبوتر کی طرح آ نکھیں بند کر کے فراموش کردیا ،بات یہیں ختم نہیں ہوتی اُس کے بعد باقی ماندہ پاکستان میںبھی وہی کھیل دہرائے جانے لگے جو ہمارے اداروں نے مشرقی پاکستان میں کھیلے تھے ہم نے دیکھا کہ ہر دورِ حکومت میں نظریات کی بات
تو کی گئی مگر ہر دور میں نظریہء پاکستان کی دھجیاں اُڑائی گئیں ،اداروں کی کرپشن اورخاص طور پر پولیس کے ادارے کی کرپشن نے تو آج دنیا کے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں یہ سب کچھ ایک دن میں رونما نہیں ہوا بلکہ نااہل حکمرانوں کی جہالت نے ہمیں آہستہ آہستہ یہاں تک پہنچادیا ہے کہ آج ہم اپنے پیارے قائد حضرت محمدعلی جناح ؒ کی روح سے بھی شرم سار ہیں کیا آج ہماری حالتِ زار اُن لوگوں کے لئے نشانِ عبرت نہیں ہے جو اپنی اپنی اقوام کی آزادی کی جنگیں لڑ رہے ہیں ہم نے تو آزادی کے صرف 68 سالوں میں ہی اپنی بربادی کی انتہاہ کردی ہے کیا ہمیں دیکھ کر آزادی کی جنگیں لڑنے والوں کو اپنے فیصلوں پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے ،کس قدر قیمتی تھی ہماریآزادی ؟ کتنی قربانیوں کے بعد ہم نے حاصل کی تھی یہ آزادی اور کتنی آسانی سے ہم نے اس آزادی کواپنی بربادی میں تبدیل کرکے رکھ دیا ہے گزشتہ ادوار میں ہم صرف مارشل لاء اور جمہوریت کی جنگ لڑ رتے رہے ہیں جبکہ مارشل لاء اور جمہوریت ملک کو چلانے کے دو نظام ہیں ہم نے اِن دونوں نظاموں کے چکر میں ملک کو ہی برباد کر کے رکھ دیا ہے اَب جبکہ ملک ہی بربادی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے تو پھر ملک کو چلانے کے لئے نظام کی جنگ تو ویسے ہی بے معنی ہو جاتی ہے ذرا غور سے سوچئے کہ ہم نے آج تک ملک اور قوم کی بہتری کے لئے بھی کوئی کام کیا ہے ہرگز نہیں !ہمارے حکمرانوں نے ملک اور قوم کو داؤ پر لگا کر اپنے ذاتی مفادات کو تحفظ پہنچایا ہے اور آج ملک اور عوام اُس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں آج پورے ملک اور خاص طور پر کراچی کی جو حالتِ زار دکھائی دے رہی ہے اُس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہم خاکم بدہن اپنی آزادی کی جنگ ہار چکے ہیں بیشک حضرت قائداعظمؒ نے اپنے جلیل اُلقدر ساتھیوں کے ہمراہ آزادی ء وطن کی جو جنگ جیت کر ملکِ عظیم ہمارے حوالے کیا تھا ہم نے صرف 68 سالوں میں اُس ملک کی حفاظت سے معذوری ظاہر کرتے ہوئے آزادی کی اُس جنگ کو ہاردیا ہے آج کا پاکستان ہر گز وہ پاکستان نہیں ہے جو قائد نے ہمیں دیا تھا بلکہ ہم نے قائد کے دیئے ہوئے آزاد ملک کو بربادی کی انتہاہ تک پہنچا دیا ہے کیا میرا یہ کہنا غلط ہے کہ آج ہمیں اپنے پیارے وطن کی آزادی کی ایک اور جنگ لڑنی ہے اور یہ جنگ آزادیء وطن کی پہلی جنگ سے بھی زیادہ خطرناک ہو گی کیونکہ اس بار آزادی ء وطن کی جنگ صرف روائتی دشمنوں کے خلاف ہی نہیں لڑی جائے گی بلکہ ملک کے اندر اپنی ریشہ دوانیوں میں مصروف ملک دشمن عناصر بھی اس جنگ میں سب سے اہم ہدف ہوں گے حقیقت تو یہ ہے کہ 1947ء میں آزادی ء وطن کی جو جنگ ہم نے انگریز اور ہندو کی مشترکہ دشمنی کے باوجود قائد اعظمؒ کی ولولہ انگیز قیادت کے بل بوتے پر جیتی تھی آج صرف 68 سالوں میں ہی اپنی نااہلیوں اور حماقتوں کی وجہ سے ہم وہ جنگ ہار چکے ہیں اَب تو مملکتِ خدائیداد پاکستان کو اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے نجات دلانے کے لئے ایک نئی اور بھر پور جنگ لڑنا ہو گی ۔
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو۔۔۔۔۔۔۔میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *