اردو ادب کی شان ، انتظار حسین انتقال فرما گئے

اردو ادب میں یہ خبر بڑے افسوس کے ساتھ سنی جائے گی کہ معروف ادیب اور افسانہ نگار انتظار حسین 90 سال کی عمر میں لاہورکے ہسپتال میں انتقال فرماگئے ہیں۔ وہ طویل عرصے سے علیل تھے ۔انتظار حسین 7 دسمبر1923 کو میرٹھ کے ضلع ’’بلند شہر‘‘ میں پیدا ہوئے۔انہوں نے ابتدائی تعلیم گھر پر ہیintizar حاصل کی‘ رسمی تعلیم کا آغاز ان کے والد کے متعقدات اور زمانے کے تقاضوں کے درمیان کشمکش کا ایک سبب بن گیا۔ انتظار حسین نے 1942 میں انٹرمیڈیٹ اور 1944 میں بی اے کیا۔انہوں نے اپنی ادبی زندگی کی ابتداء شاعری سے کی‘ ن م راشد کی’’ماورا‘‘ سے گہرا اثر قبول کیا اور اسی انداز میں آزاد نظمیں لکھیں۔انتظار حسین نے اپنی پہلی کتاب تقسیم و ہجرت سے قبل مکمل کرلی تھی ‘ کتاب کا موضوع لسانیات تھا۔انتظار حسین کے معنوی استاد میں حسن عسکری کاظمی کا نام نمایاں ہے اور انہی کے کہنے پر وہ ہجرت کرکے پاکستا ن تشریف لائے۔انہوں نے روزنامہ آفاق‘ مشرق‘ امروز اور جنگ میں کالم نگاری کے جوہر دکھائے۔وہ ماہنامہ ادب لطیف کے مدیر بھی رہے ‘اس کے علاوہ انہوں نے ڈان اخبار میں انگریزی میں بھی کالم نگاری کی۔انتظار حسین افسانے اور ناول کے حوالے سے بے شمار کتابوں کے مصنف تھے اور اردو ادب کی کلاسیکی روایت کی آخری لڑی تھے۔ان کی وفات پر اہل قلم میں سکتہ کی کیفیت طاری ہے۔

اردو ادب کی شان ، انتظار حسین انتقال فرما گئے” پر بصرے

  • فروری 2, 2016 at 7:38 PM
    Permalink

    انا للہ و انا الیہ راجعون
    اردو ادب کا نا قابل تلافی نقصان
    معروف افسانہ نگار ، ناولسٹ اور کالمسٹ جناب انتظار حسین انتقال کر گئے۔
    اللہ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے آمین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پروفیسرمجیب ظفرانوارحمیدی

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *