4 فروری، کینسر کا عالمی دن

(عاطف رحمان کے قلم سے )

atif...

 

 

 

 

 

یونین فار انٹرنیشنل کینسر کنٹرول کے زیراہتمام دنیا بھر میں 4فروری کو سرطان (کینسر) کاعالمی دن منایا جاتا ہے۔ سرطان کا عالمی دن پہلی بار 4فروری 2000ء میں پیرس میں منایا گیاتھا جس کا مقصد اس موذی مرض کے حوالے سے شعور بیدار کرنا تھا لہٰذا ہر برس آگاہی مہم کے لیے مختلف تھیم منتخب کیے جاتے ہیں تاکہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اس مرض کے حوالے سے بتایا جا سکے۔ اس برس کا تھیم ’’We Can, I Can ‘‘ منتخب کیا گیا ہے۔ دنیا میں ہونے والی مختلف تحقیقات کے مطابق یہ مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ 2032ء تک دنیا بھر میں مریضوں کی تعداد 14ملین سے بڑھ کر 22ملین تک ہو جائے گی۔ اگر علاج معالجے تک رسائی آسان ہو تو پھر ہی خاطر خواہ کمی لائی جا سکتی ہے۔ امریکی محققین نے سرطان کی 31اقسام کا تجزیہ کیا ہے ۔ ان میں سے 22اقسام میں خون کا کینسر، لبلبے کا کینسر، ہڈی کا کینسر اور برین کینسر شامل ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جلد کے کینسر سمیت باقی ماندہ 9اقسام کو موروثی کہا جا سکتا ہے جو والدین سے منتقل ہوتے ہیں۔ یو کے کینسر ریسرچ کے مطابق ایک لاکھ پچالیس ہزار مریضوں میں کینسر کی وجوہات پکے پکائے اور منجمد کھانا کھانے کی وجہ سے تھی۔88ہزار کیسوں کا تعلق موٹاپے سے تھا جبکہ 62ہزار کثرت شراب نوشی کی وجہ سے کینسر میں مبتلا ہوئے۔ براہ راست سورج کی روشنی اور جسمانی سستی بھی اس کی وجوہات ہیں۔ کینسر کی وجوہات میں تمباکو نوشی، ناقص گوشت، فاسٹ فوڈ کا زیادہ استعمال وغیرہ شامل ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً ہر سال 3لاکھ افراد کینسر میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ لیکن ملک بھر میں سرطان کے علاج کے لیے دستیاب سہولتیں صرف 40ہزار مریضوں کے لیے ہی ہیں جو انتہائی کم ہیں۔ پاکستان میں شوکت خانم لاہور اور پشاور کا قیام خوش آئند ہے لیکن مریضوں کے لیے کافی نہیں ہے۔ حکومت کو اپنی سطح پر بھی کام کرنا ہوگا اور ایسے ہسپتال قائم کرنے ہوں گے جہاں اس کا علاج ممکن ہو ۔ بدقسمتی سے عوام میں مرض کے متعلق اس قد رشعور و آگاہی نہیں کہ اگر مخصوص علامات ظاہر ہوں تو وہ انہیں نظرانداز کرنے کی بجائے فوری معالج سے رابطہ کریں۔ تاکہ اگر خدانخواستہ کینسر کا مرض لاحق ہو چکا ہے تو بروقت علاج سے مرض پر قابو پایا جاسکے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اس مرض کے متعلق ہر سطح پر بنیادی معلومات عام کی جائے۔ تمباکو نوشی اور گھٹکے کے خلاف مہم چلائی جائے ۔تمباکو نوشی ترک کی جائے تاکہ خود کو اور آنے والی نسلوں کوکینسر سے محفوظ کیا جا سکے۔ کینسر سے بچنے کے لیے اپنے طرززندگی کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم کر سکتے ہیں ،میں کر سکتا ہوں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *