اے لیول، او لیول بمقابلہ سی لیول

 (سعد رفیق کے قلم سے )
saad rafique
پاکستان میں کسی نے اقلیتوں کے حقوق کا علم اٹھایا ہے تو کوئی خواتین کے حقوق کا رونا دھورہا ہے، حقوق کی اس جنگ میں مسائل میں گھرے پاکستان کے اصل مسائل کی طرف کم ہی توجہ دی جاتی ہے، ویسے تو پاکستان اس وقت لا تعداد مسائل سے دوچار ہے، جاہے وہ غربت جیسی لعنت ہو جو حکمرانوں کی نا اہلی اور بد عنوانی کی وجہ سے ملک پر مسلط ہے، یا دہشت گردی جیسا بڑا مسئلہ ہو جس نے پوری دنیا اپنے لپیٹ میں لی رکھی ہے، مگر پاکستان پر بلاشبہ دہشت گردی کے زیادہ اثرات مرتب ہوئے ہیں اور اسکی وجہ پاکستان کی امریکی نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ادا کرنا ہے۔ یہ وہ مسائل ہیں جن پر ٹی وی پرسیاست دانوں کی گرما گرم بحث مباحثے سننے کو ملتے ہیں جبکہ اخبارات کے صفحے دہشت گردی کے متعلق خبروں سے بھرے ہوتے ہیں۔ قوموں کی ترقی و کامرانی اس امر سے مشروط ہے کہ وہ تعلیم کو کتنی اہمیت دیتی ہیں، تعلیم ہی میدان ہے جس کے ذریعے سے ترقی کی سیڑھی چڑھا جاسکتا ہے، اس بات کا ثبوت ہمیں ترقی یافتہ قوموں کےعمل سے ملتا ہے۔ بدقستی سے پاکستان تعلیمی میدان میں شروع دن سے بد حالی کا شکار رہا ہے آج تک جتنی بھی حکومتیں بر سر اقتدارآیئن ان سب کے سب تعلیمی میدان میں خاطر خواہ تبدیلی لانے میں ناکام رہی ہیں۔ حکومت کی جانب سے تعلیمی شعبے کو کم اہمیت دینے کی سب سے بڑی وجہ پاکستانی سیاست میں موجود اس اشرافیہ طبقہ بھی ہے جو اس بات سے خائف ہے اگر ملک کے طول و عرض میں مساوی اور بہترین تعلیمی مواقع فراہم کر دیئے جایئں تو اس سے انکے مفادات کو زک پہنچے کا خطرہ ہے، اسکے نتیجے میں پاکستان کے دیہاتوں میں آباد ان غریب لوگوں کے بچوں کو بھی آگے آنے کا موقع ملے گا جنکو ملک کے جگیردار اور وڈیروں نے یرغمال بنا کر رکھا ہے۔ پاکستان میں تعلیم کی زبوں حالی کی حالت یہ ہے کہ ملک کی محض 60 ٪ آبادی خواندہ ہے، اور ستم بالائے ستم ان 60٪ میں زیادہ تر وہ افراد شامل ہیں جو اردو میں صرف پڑھنا جانتےہوں، خواندگی جس کی تعریف عام پور لکھنے پڑھنے سے کیجاتی ہے مگر اسکے کسی متفقہ تعریف پر آج تک اتفاق نہی ہوسکا، یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں خواندگی کی مختف تعریفیں پائی جاتی ہیں جس کی تحت فرد کی خواندگی کا معیار پرکھا جاتا ہے۔ کینیڈا میں نویں جماعت پاس فرد کو خواندہ مانا جاتا ہے، جبکہ انڈونیشیا میں جو فرد حروف تہجی کی پہچان کرسکے کو خواندہ تصور کیا جاتا ہے۔ وطن عزیر میں خواندگی کی تعریف کا جائزہ ہم اوپر کر چکے ہیں۔ مملکت خدادا میں تعلیم کو عدم توجہ دینے کے نتیجے میں ملک کے تعلیم اداروں کا حال انتہائی انتہا درجے کی بد حالی کا شکار ہے، پاکستان کی آبادی کی اکثریت دیہاتوں میں آباد ہے، جن میں اکثریت پنجاب کے دیہاتوں کی ہے جہاں کے باسی زیادہ تر زراعت کے شعبے سے منسلک ہیں ، دیہاتوں میں تعلیمی سہولیات تقریبا نا ہونے کے برابر ہیں جوگھوسٹ سکول وجودرکھتے بھی ہیں تو وہ محض نام کے اسکول ہیں ،اسکی وجہ تعلیمی سہولیات کا فقدان جیسا کے ہم اوپر زکر کرچکےہیں، جس میں غیر معیاری نصاب تعلیم ، فرنیچر کی عدم دستیابی اور اساتذہ کی اپنے فرض کی ادایئگی سے غفلت برتنا شامل ہیں۔ اس سب کا زکر کرنے کے بعد مضمون کو مزید طول کے بجائے اب اصل مسئلے کا ذکر کرنا چاہونگا اور وہ یہ کہ پاکستان کی تعلیمی شعبے میں زوال کی سب سے بڑی وجہ پاکستان میں غیر مساوی نظام تعیم ہے، اس وقت ملک کے مختلف حصوں میں مختلف نصاب رائج ہیں،ہر صوبے کا اپنا نصاب تعلیم ہے، جبکہ اشرافیہ طبقے کے بچوں کے لئے اے اور او لیول کے ادارے قائم ہیں، جو ملک میں مزید نا انصافیوں کا موجب ٹہرا ہے۔ غریب اور متوسط طبقے اپنےبچوں کو سرکاری یا دیگر غیر میعاری نجی اداروں میں بھیجنے پر مجبور ہیں جبکہ اشرافیہ طبقے کے بچے یا تو اے اور او لیول جیسے اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں یا پھر غیر ملکی اداروں میں۔ جسکےنتیجے میں رئیس اور اشرافیہ طبقے کے بچوں کو زیادہ مواقع میسر آتے ہیں ، جبکہ غریب کا بچہ جو کہ زیادہ ذہانت اور استعداد کا حامل بھی ہو بہتر تعلیمی ماحول اور سہولیات مسیر نہ ہونے کی وجہ سے پیچھے رہ جاتاہے۔ تعلیمی میدان میں پسماندگی کی ایک اور بڑی وجہ ملک میں انگریزی کا ذریعہ تعلیم کا ہونا بھی ہے، جسکی وجہ سے متعد طلبا و طالبات امتحان میں انگریزی سے نا بلدہونے کی وجہ سے لکھنے سے قاصر ہوتے ہیں، کیونکہ انگریزی میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے، وہ انکے پلے ہی نہی پڑتا، اور المیہ یہ ہے کہ آج بھی کچھ طبقوں کا اصرار ہے کہ ذریعہ تعلیم انگریزی ہی ہو کیونکہ ان طبقوں کا مفاد اسی سے وابستہ ہے۔ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کی تاریخ اٹھا کہ پڑھی جائے تو معلوم پڑتا ہے کہ کسی بھی قوم نے غیر کی زبان میں تعلیم حاصل کرنے کے زریعے سے ترقی نہی حاصل کی۔ چین اورترکی کی روشن مثال ہمارے سامنے ہے۔ پاکستان اس وقت تک ترقی کی ڈگر پر نہی چل سکتا جب تک تعلیم کو ریاست کی اولین ترجیح نہی بنائی جاتی۔ اس مقصد کے حصول کے لئے حکومت کو ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جس میں مساوی نصابی تعلیم اور اردو کا پورے پاکستان میں بحثیت زریعے تعلیم کا نفاز شامل ہونا چاہیئے۔

اے لیول، او لیول بمقابلہ سی لیول” پر ایک تبصرہ

  • فروری 5, 2016 at 8:26 PM
    Permalink

    Good article on importance of education. Keep it up.

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *