Site icon DUNYA PAKISTAN

آصف علی زرداری: اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کی ضمانت طبی بنیادوں پر منظور کر لی

Share

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی دو مقدمات میں طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواستیں منظور کر لی ہیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بدھ کے روز سماعت کے موقع پر عدالت نے انھیں ایک ایک کروڑ کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔ درخواست میں قومی احتساب بیورو کے علاوہ احتساب عدالت نمبر دو کو بھی فریق بنایا گیا تھا۔

ملزم کی طرف سے ان کے وکیل فاروق ایچ ناییک عدالت میں پیش ہوئے جبکہ نیب کی جانب سے پراسیکیوٹر جنرل جہانزیب بھروانہ اور ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران عدالت عالیہ کے حکم پر تشکیل پانے والے میڈیکل بورڈ نے ملزم آصف علی زرداری کی صحت سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی۔

اس میڈیکل رپورٹ میں آصف علی زرادی کو لاحق مختلف بیماریوں کا ذکر کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ ملزم عرصہ دراز سے ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہیں اس کے علاوہ وہ عارضہ قلب میں بھی مبتلا ہیں اور ان کے دل میں 3 سٹنٹ بھی ڈالے جا چکے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آصف زرداری کو انجیو گرافی کی ضرورت ہے اور مزید سٹنٹ ڈالنے کی صورت میں انجیو پلاسٹی کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جیل میں رہتے ہوئے آصف زرداری کا علاج ممکن نہیں ہے اور جیل میں رہنے سے ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

اس رپورٹ کی بنیاد پر عدالت نے نیب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل جہانزیب بھروانہ سے استفسار کیا کہ آیا وہ اس صورتحال میں ملزم کا سرکاری طور پر علاج کروانے کی ذمہ داری اٹھائیں گے۔ تاہم اس سوال کا ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے کوئی جواب نہیں دیا اور کہا کہ وہ متعلقہ حکام سے پوچھ کر جواب دیں گے۔

خیال رہے کہ آصف علی زرداری گذشتہ تین ہفتوں سے پمز ہسپتال اسلام آباد میں زیر علاج ہیں۔

سماعت میں کیا ہوا؟

بدھ کو چیف جسٹس اطہر من اللہ نے نیب کے ایڈشنل پراسکیوٹر جنرل سے استفسار کیا کہ کیا آصف علی زرداری کے خلاف منی لانڈرنگ اور پارک لین کے مقدمات ہی درج ہیں یا کوئی اور ریفرنس بھی دائر کیا گیا ہے جس پر نیب حکام کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ ان دونوں کیسز میں ریفرنسز دائر ہوچکے ہیں۔

اس پر عدالت نے ریمارکس دیے اس کا مطلب ہے کہ نیب کو مزید تحقیقات کے لیے ملزم کی حراست کی ضرورت نہیں ہے۔

فریال تالپور کی درخواست ضمانت پر نیب نے جواب داخل کرانے کے لیے مہلت طلب کی جس پر سماعت 17 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی

عدالت نے آبزرویشن دی کہ ریفرنس دائر ہوگیا، اب ٹرائل ختم ہونے میں وقت لگے گا۔

عدالت نے ضمانت کی ان درخواستوں اور آصف زرداری کے ایک ایک کروڑ روپے کے مچلکوں کی بنا پر ضمانت منظور کر لی۔

دوسری جانب آصف زرداری کی بہن فریال تالپور کی درخواست ضمانت پر نیب نے جواب داخل کرانے کے لیے مہلت طلب کی جس پر سماعت 17 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی۔

آصف زرداری کو جون میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جعلی بینک اکاؤنٹس کے کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد نیب نے گرفتار کیا تھا۔

سابق صدر 28 مارچ سے جون تک عبوری ضمانت پر تھے جس میں پانچ مرتبہ توسیع کی گئی تھی۔

درخواست کی منظوری کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سابق صدر کو جھوٹے مقدمات میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم عدالتوں سے اُنھیں ریلیف ملا ہے۔

بلاول بھٹو نے ان ججز کا بھی شکریہ ادا کیا جنھوں نے آصف علی زرداری کی ضمانت کی درخواست منظور کی تھی۔ اُنھوں نے کہا کہ رہائی کے بعد آصف علی زرداری کراچی جائیںگے جہاں پر اُن کے بقول اُنھیں علاج کی بہتر سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔

زرداری پر الزامات ہیں کیا؟

آصف زرداری کو جون میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد نیب نے گرفتار کیا تھا۔

سابق صدر 28 مارچ سے جون تک عبوری ضمانت پر تھے جس میں پانچ مرتبہ توسیع کی گئی۔

منی لانڈرنگ کیس سنہ 2015 میں پہلی دفعہ اُس وقت سامنے آیا جب مرکزی بینک کی جانب سے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو مشکوک ترسیلات کی رپورٹ یعنی ایس ٹی آرز بھیجی گئیں۔

ایف آئی اے نے ایک اکاؤنٹ سے جو اے ون انٹرنیشل کے نام سے موجود تھا، مشکوک منتقلی کا مقدمہ درج کیا جس کے بعد کئی جعلی اکاؤنٹس سامنے آئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مقدمے کی ایف آئی آر میں آصف زرداری کا نام شامل نہیں ہے۔

تاہم سپریم کورٹ کے حکم پر بننے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے سابق صدر آصف علی زرداری اور اومنی گروپ کو مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے فوائد حاصل کرنے کا ذمہ دار قرار دیا اور ان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش بھی کر دی۔

پارک لین کیس کیا ہے؟

نیب کا دعویٰ ہے کہ ادارے نے آصف زرداری اور بلاول کے خلاف انکوائری الزامات کی بنیاد پر شروع کی جن میں کہا گیا کہ پنجاب فورسٹ لینڈ کی زمین کو سی ڈی اے نے غیر قانونی طور پر پارک لین اسٹیٹ کو ٹرانسفر کیا۔ پارک لین اسٹیٹ پرائیوٹ لمیٹڈ کراچی کی ایک ریئل سٹیٹ کمپنی ہے جو آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے نام پر ہے۔

اس کیس میں سابق صدر اور بلاول بھٹو نیب کے سامنے تفتیش کے لیے پیش ہوچکے ہیں۔ اس کمپنی کے بارے میں آصف زرداری کے وکیل کہتے ہیں کہ یہ کمپنی انھوں نے 31جولائی 1989 میں خریدی تھی۔ آصف زرداری کی طرف سے موجود وکیل لطیف کھوسہ نے بتایا کہ بلاول کا اس کیس سے براہِ راست کوئی تعلق اس لیے نہیں بنتا کیونکہ جب یہ کمپنی وجود میں آئی تو اس وقت بلاول کی عمر ایک سال تھی۔

آصف زرداری کے وکیل نے بتایا کہ وہ کمپنی کے عہدے سے 2008 میں دستبردار ہوگئے تھے اور بلاول کا اس کمپنی کے روزمرہ معاملات سے نہ کوئی تعلق تھا اور نہ ہی اب ہے۔

Exit mobile version