اوریا مقبول جان صاحب !جواب دیں

naeem baloch1 ملک کے ممتاز کالم نگار اور صاحب طرز لکھاری جناب اوریا مقبول جان سے پہلی ملاقات کا وقت طے ہو چکا تھا۔ یہ ملاقات ایک انٹرویو کے سلسلے میں تھی۔ وہ ان چند کالم نگاروں میں سے تھے جنھوں نے کوئی ’’ نخرہ‘‘ نہیں کیا ۔ بڑی خوش اخلاقی سے وقت دے دیا ۔ یہ انٹرویو برادرم جاوید چودھری کی فرمایش پر کیا جارہا تھا۔ وہ اس زمانے میں اوریا صاحب کے اچھے خاصے ’’ پنکھے ‘‘ یعنی فین تھے۔تین نشستوں پر مشتمل اس انٹرویو میں کئی چونکا دینے والے انکشافات کیے گئے تھے۔ اس سے ان کی اپنے میدان میں مہارت اور معلومات کا بخوبی اظہار ہوتا تھا۔ لیکن ان کی سب سے چونکا دینے والی ’’مہارت‘‘ اس وقت سامنے آئی جب انھوں نے پورنوسائیٹ کے اعدادوشمار پر لب کشائی کی۔ وہ اس طرح کے مواد کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مذموم ہتھکنڈے سمجھتے ہیں۔ ان کے قارئین جانتے ہیں کہ چاہے مریخ سے تیل نکلنے کی خبر ہو یا ہونو لو لومیں کسی اڑن طشتری کے اترنے کی اطلاع ، وہ اس میں کسی اسلام دشمن طاقت کی سازش کا ہاتھ بڑے ’’واضح ‘‘ دلائل کے ساتھ ثابت کرسکتے ہیں۔انٹرنیٹ کے ذریعے سے فحاشی پھیلانے میں واقعی مغرب نے جس ’’اخلاص ‘‘ کامظاہرہ کیا ہے اس میں کسی کو کیا کلام ہو گا، اس کے مفاسد پر بھی کسی کو شک نہیں لیکن اوریا صاحب نے اس سلسلے جس قدر دقتِ نظر اور مطالعۂ عمیق سے تحقیق کر رکھی ہے وہ واقعی اس میدان کے ’’ صاحبان ذوق ‘‘ کے لیے قابل رشک ہو سکتی ہے۔ ان کی طرف سے جب ’’پاکستان کی نظریاتی اساس ،ریاست کا بیانہ ، دہشت گردی ‘‘ کے عنوان سے کالموں کا سلسلہ شروع ہوا تو توقع کی جارہی تھی کہ کم از کم وہ پاکستان کی نظریاتی اسا س اورامت مسلمہ میں اتنا تعلق تو ثابت کر دیں گے جتنا وہ پورنو سائیٹس اور سرمایہ دارانہ نظام میں ثابت کرتے ہیں۔ لیکن ان کے دونوں کالم ایک شکست خوردہ سپاہی کے’’ کوسنے‘‘ ہی محسوس ہوئے ۔
ان دونوں کالموں کا خلاصہ یہ ہے کہ قوموں کا اگر روایتی بیانیہ زبردستی تبدیل کیا جائے تو وہ تشدداور انتہا پسندی پر اتر آتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں فخریہ انداز میں بتایا ہے کہ مسلمان ہمیشہ ’’ لوہے کے چنے ‘ ‘ ثابت ہوئے ہیں ، ان کی نظریاتی اساس کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔ مزید انھوں نے کچھ قصیدے خلافت کے گائے ہیں اور قومیت کے حوالے ویزا اور پاسپورٹ کے نظام پر بھی دو حرف بھیجے ہیں ۔
جب سے عاقبت نا اندیش امریکہ بہادر اپنے پالتو مگر باغی غنڈوں اور ناپسندیدہ اتحادیوں(ہماری مراد القاعدہ اور طالبان کی افغان حکومت ہے) کی سرکوبی کے لیے اس خطے میں آیا ہے ، اوریا صاحب اور ان کے ’’قبیلے ‘‘ کے تمام دانش وروں کی ساری ہمدردیاں اور وفاداریاں ’’مجاہدین ‘‘ کے ساتھ رہی ہیں ۔ اس دوران جب بھی دورِ جدید کے ان خارجیوں کی کارروائیوں سے معصوم شہری لہولہان ہوئے ، انھوں نے پہلے یہ موقف اختیار کیا کہ یہ لوگ سی آئی اے ، موساد ، را اور بلیک واٹر سے تعلق رکھتے ہیں ، یہ ہرگز طالبان یا القاعدہ یا کسی جہاد ی تنظیم سے تعلق نہیں رکھتے۔ آپ مشرف دور سے لے کر سابقہ ’’ سپہ سالار ‘‘کیانی تک کی دہشت گرد کارروائیوں پر ان حضرات کے کالم دیکھ لیں ، یہ یہی کہتے نظر آئیں گے کہ کوئی مسلمان بھلا ایسا کر سکتا ہے؟اس کی دلیل میں کبھی و ہ بغیر ختنے کے’’اعضاء ‘‘ پیش کرتے تو کبھی ملالہ قسم کی مظلوم بچیوں کو ’’ڈرامہ کوئین ‘‘ قراردیتے۔اگرچہ قاضی حسین ا حمدمرحوم اپنے اوپرطالبان کے قاتلانہ حملے سے بھی ’’بدمزا ‘‘ نہ ہوئے اورعطار کے لونڈے ہی سے دوا لینے پر مصر رہے اور قبلہ سید منور حسین تو مذاکرات مذاکرات کھیلتے رہنے ہی پر اصرار کرتے رہے لیکن پھر ان کے ضدی لاڈلوں نے پشاور آرمی سکو ل والا ’’ کارنامہ ‘ کر ڈالا ، اسی دوران ہمارے سپہ سالار بھی ’’ شریف ‘‘ ہو چکے تھے۔ تب اوریا صاحب اینڈ کمپنی نے قلابازی کھائی اور یہ نیا فلسفہ گھڑ ا کہ یہ سارا قصہ زبردستی بیانیہ بدلنے کا ہے۔ گویا ان کو انھوں نے مظلوم ؂ثابت کر کے وہی سرٹیفکیٹ دینا چاہا جو کشمیری مجاہدین کو دیا جاتا ہے۔ لیکن افسوس اس کہانی کو بھی زیادہ پذیرائی ملتی نظر نہیں آتی ۔ کیونکہ معلوم تاریخ میں پہلا بیانیہ تو ہمیشہ اہلِ باطل کا ہوا ہے۔ اوریا صاحب سے سوال ہے کہ وہ فرمائیں کہ حضور ﷺ نے شرک کے روایتی بیانیے کو بدل کر توحید کانیا بیانیہ دیا تو پیدا ہونے والی ابوجہل کی شدت پسندی کی آپ حمایت کریں گے یا مخالفت ؟ جنگ صفین کے نتیجے میں خارجیوں کی انتہا پسندی پر کیا فتویٰ لگائیں گے؟ پھر خلافت، بادشاہت میں تبدیل ہوئی تو آپ اس کے نتیجے میں حضرت حسینؓ کے عمل کو انتہا پسندی کہیں گے یا ابن زبیرؓ کی خلافت کو ؟ امیوں کے خلاف عباسیوں کی بغاوت کو آپ کس قسم کی انتہا پسندی کہیں گے ؟روح سے خالی فقہ کے ردعمل میں تصوف کی تحریک کو کیا نظریاتی شدت پسندی کا نام دیں گے ؟ّ آپ کی ممدوح خلافت کی بے عملی اور ناچاقی کا فائدہ اٹھا کر سقوطِ بغداد کرنے والے ہلاکو خاں کو کیا تمغہ دیں گے ؟ خلافت عثمانیہ کے خلاف مصطفی کمال پاشا کے رد عمل کو کیا کہیں گے ؟ سرمایہ داری نظام کے انسانیت سوز ظلم کے خلاف ماکسزم کو کیا مقدس قرار دیں گے ؟ پاپائیت اور بادشاہت کے خلاف نشاۃ ثانیہ ( Renissance)اور جمہوریت کی تحریک میں کس کو انتہا پسند اور کس کو عین حق قرار دیں گے ؟ کیا انگریزوں سے آمد سے پہلے پورے ھندستان کا بیانیہ ایک ہزار برس تک نیم سیکولر یا خالص سیکولر نہیں رہا تھا؟پھر کس بیانیے کو کس نے زبردستی مسلط کیا اور اس کے جواب میں ’’ دو قومی نظریے ‘‘ کا بیانیہ ’’ پرو طالبان ‘‘ ہو گا یا پرو سرمایہ دارانہ ؟ اور گستاخی معاف اگر آپ کے بقول تحریک پاکستان کا معرکہ غزوہ بدر سے مشابہت رکھتا ہے تو ذرا واضح کر دیں مولانا ابوالکلام آزاد ، مولانا ابواعلیٰ مودودی اور قائداعظم میں کون ابوجہل کی فوج سے تعلق رکھتا تھا اور کون اہل ایمان کی نمائندگی کر رہا تھا؟اگر مسلم لیگ کا بیانیہ غزوہ بدر کا بیانیہ تھا تو ھندستان رہ جانے والے مسلمانوں کا بیانیہ واقعی آپ کے خیال میں’’ابوجہل ‘‘ کا بیانیہ تھا؟ ذرا سوچ کر جواب دیجیے گا۔ اور ’’ حجور‘‘ سوال تو اور بھی بہت ہیں ، اتنے زیادہ کہ آپ قلا بازیاں کھانے کا فن بھول جائیں گے ! باقی آپ کے اس بیانیے سے جو روحِ داعش اچھل اچھل کر سامنے آرہی ہے اس پر بعد میں بات ہو گی۔

اوریا مقبول جان صاحب !جواب دیں” پر ایک تبصرہ

  • مارچ 11, 2016 at 8:11 PM
    Permalink

    موصوف آج ہی اپنے کالم میں فرماتے ہیں طالبان نے شہباز تاثیر کو " چند سو " لے کر چھوڑ دیا .
    آج سے ٢ ارب کی اکائی چند سو ہو گئی . ریاضی دان اوریا مقبول کی نئی ریسرچ

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *