زندگی بچانے والی گیارہ بلین روپے کی ویکسینز کی کمی کا خدشہ

writerآصف چوہدری


سات مہلک بیماریوں سے لاکھوں بچوں کی زندگیاں بچانے کے لئے ویکسینز کی خریداری کے سلسلے میں اپنے حصے کی بین الاقوامی مالیاتی ادائیگیاں کرنے میں حکومت کی ناکامی کی وجہ سے پاکستان بھر میں ان ویکسینز کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔
اس سے ملتی جلتی ایک اورشرمناک بد قسمتی کے نتیجے میں ، پاکستان ایک بار پھرعالمی سطح پر کئے ہوئے اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے اورشاید 11.68بلین روپے کی ایک قابلِ قدر بین الاقوامی امداد سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
لاہور ہائی کورٹ میں اپنی رپورٹ جمع کراتے ہوئے وزارت برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن اسلام آبادکے وسیع تر مدافعتی پروگرام کے قومی پروگرام مینجر، ڈاکٹر رانا محمد صفدرنے کہا، ’’اگر پاکستان ایک برس سے زائد عرصے تک خسارے میں رہتا ہے تو مہلک بیماریوں کے خلاف مدافعت پیدا کرنے کے لئے بین الاقوامی سطح پر فنڈز فراہم کرنے والا ادارہ، جی اے وی آئی، شاید ویکسینز کے لئے اس وقت تک مزیدمالی امداد فراہم کرنا بند کردے جب تک پاکستان اپنے حصے کی رقم مکمل طور پر ادا نہ کر دے۔‘‘
پانچ کیمیکلز سے مل کر بنی یہ ویکسین ، دراصل ان پانچ بیماریوں کی ویکسینوں کا مجموعہ ہے:خناق، تشنج، کالی کھانسی، ہیپا ٹائٹس بی اور ہیموفیلس اِنفلوینزا ٹائپ بی(تین مہلک بیماریوں کا مجموعہ)۔
اپنی رپورٹ میں ڈاکٹر رانامحمد سرور کہتے ہیں کہ ویکسینز کی خریداری کے سلسلے میں پاکستان کے مالی حصے کے متعلق جی اے وی آئی نے گزشتہ برسوں میں پاکستان کو یہ پیشکش کی تھی کہ یاتو وہ اپنے حصے کی پانچ بیماریوں سے بچاؤکی ویکسین اور دیگر آلات یونیسف کے توسط سے خرید لے یااس خریداری کے لئے اپنے ذاتی نظام اورطریقہ کارکوحرکت میں لے آئے۔
پاکستان نے مقامی طور پر ٹینڈر دینے کا فیصلہ کیااور میسرز نوارٹِس فارما نے وفاقی ای پی آئی کے لئے 2009-10,ء 2010-11, 2011-12ء اور2012-13ء کے دوران ویکسین فراہم کی۔ہر سال ویکسین کی فراہمی کے لئے نوارٹس فارما کے سوا کسی اور کمپنی نے بولی نہ دی۔ البتہ، نمونیہ کی ویکسین کے لئے حکومت نے یونیسف کے ذریعے خریداری کی۔
ڈاکٹر سرور کی رپورٹ کے مطابق، ’’جی اے وی آئی کے قوانین کے تحت کوئی ملک ڈیفالٹ یا دیوالیہ اس وقت قرار پاتا ہے جب وہ کسی بھی رواں برس کے اختتام، یعنی 31دسمبرتک اپنا پیسوں کی ادائیگی کا وعدہ پورا نہ کرے۔سال 2012ء کے دوران، محکمہ صحت میں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے سلسلے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتِ حال کے سبب، یونیسف کو فنڈز کی ادائیگی میں تاخیر ہوگئی۔ لہٰذا پانچ بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین کی خریداری کے سلسلے میں ملک کے ذمہ واجب الادا رقم کی ادائیگی، 31دسمبر2012ء تک نہ کی جاسکی اور ملک ڈیفالٹ کی سطح پر پہنچ گیا۔ 2013ء میں بھی یہی خدشہ محسوس کرتے ہوئے، جی اے وی آئی نے 7نومبر2013ء کو اپنے رسمی اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے، پاکستان کو مشورہ دیا کہ اپنے حصے کی رقم ادا کرکے یونیسف کے ذریعے پانچ مہلک بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین اور نمونیا سے بچاؤ کی ویکسین خرید لے۔‘‘
2013ء کے نصف اول میں جی اے وی آئی نے یونیسف کو اپنے حصے کی نصف رقم ادا کر دی۔تاہم، پاکستان اب ایک بار پھراپنا وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہنے کے سبب ڈیفالٹ کے درجے پر پہنچ چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، جی اے وی آئی کے فیصلے پر عملدرآمدملک کے لئے بے حد ضروری ہے تاکہ زندگی بچانے والی ویکسین پر آنے والی لاگت کا بڑا حصہ (11.68بلین روپے)، چندے کی صورت میں یقینی طور پر جی اے وی اے سے حاصل کیا جا سکے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ’’پاکستان پانچ مہلک بیماریوں کی ویکسین او ر نمونیا کی ویکسین کے حصول کے لئے امداد کے طور پر ملنے والی جی اے وی آئی کی امداد کو کھونے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ملک مستقبل میں مہنگے داموں ملنے والی پولیو ویکسین کی خریداری کے سلسلے میں بھی جی اے وی اے کے تعاون کا منتظر ہے۔‘‘
مزید یہ کہ یونیسف کے ذریعے ویکسینز کی خریداری، روپے کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کے باوجودکم خرچ بھی ہے۔ 2013ء میں یونیسف سے ملنے والے ریٹس 2012ء میں میسرز نوارٹس فارماکے دئیے ہوئے ریٹس سے کم ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *