مرگی کیا ہے ، کیوں ہوتی ہے ، علاج کیا ہے ؟

Dr.Talha-Abbas

بچپن کی کچھ یادیں ذہن پر ایسی پختہ اورروشن ہوتی ہیں کہ جیسے آپ ابھی سب کچھ سامنے ہوتا ہوا دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
ایک روزمیں دوپہر کے وقت سکول سے آرہا تھا کہ دیکھتا ہوں ایک مجمع لگا ہوا ہے اور کسی کوہجوم کے دائرے نے باقی دنیا سے چھپا رکھا ہے۔ ایسے دائرے عموماً مداری کے اردگرد ہوتے ہیں مگر اس میں مداریوں والے مجمعے والی کوئی بات نہ تھی۔ تھا تو ایک قیامت کا منظر ،ہر طرف شور، لوگوں کی اونچی اونچی آوازیں’’ اوئے اس کے منہ میں لکڑی رکھو، اسے گوبر سونگھاؤ، اس پر دعا پڑھ کر پھونکو‘‘ یہ کرو وہ کرو،ہر کوئی اپنے اپنے مطابق مشورے دے رہا تھا۔
لوگوں کے بیچ میں سے میں نے کسی نہ کسی طرح جھانک کر دیکھا تو ایک جواں سال مرد تپتی ہوئی گرم زمین پر اس طرح تڑپ رہا تھا جیسے اسے ذبح کیا جا رہا ہو۔ اس کے کپڑے گیلے تھے۔ منہ سے جھاگ آرہی تھی۔ اس کا تڑپنا اتنا زوردار تھا کہ چار آدمی اسے نہ سنبھال سکتے تھے۔میں نے پوچھا کہ اسے کیا ہوا ہے،معلوم ہوا اسے مرگی کا دورہ پڑگیا ہے۔میں حیران ہوا کہ یہ کیسا دورہ ہے جو انسان کو اسقدر ہلاکت و ذلالت میں ڈال دیتا ہے۔
میڈیکل کالج میں ایک دفعہ کلاس میں بیٹھا ہوا تھا کہ یکدم دو قسم کی چیخیں سنائی دیں ۔ایک میرے پیچھے سے جو ایسے تھی جیسے کسی سانڈھ کو ذبح کیا جا رہا ہو اور دوسری ہماری لیڈی ٹیچر کی جو ڈر کر کلاس روم چھوڑ کر بھاگ گئی تھی۔ خیر اس وقت تک ہم اس چیز کے عادی ہو چکے تھے۔ ہم نے آرام سے اپنے کلاس فیلو کو ایک سائیڈ پر لٹایا ،تمام ایسی چیزیں جن سے وہ ٹکرا کر اپنے آپ کو گزند پہنچا سکتا تھا اس سے دور کیں اور جب یہ دورہ ختم ہوا تو اس کے کپڑے صاف کرکے اسے بیڈ پر لٹا دیا۔ وہ ڈاکٹر بنا مگر چند سال پہلے مجھے افسوس ناک خبر ملی کہ وہ پانی میں ڈوب کر فوت ہوگیاتھا۔وہ بھی مرگی کا مریض تھا لیکن ڈاکٹر بن کر بھی وہ اپنا علاج نہ کرسکا تھا۔
مرگی کیا ہے؟ کیا یہ دماغ کی خرابی ہے یا جنات کی واردات؟ کیا یہ کسی کسی کو ہوتی ہے یا سب کو ہو سکتی ہے۔ کیا اس کا علاج ممکن ہے؟ یہ مضمون ان افراد کے لیے فائدہ مند ہوگا جو خود یا جن کے گھر کے کسی فرد کو یا سب افراد کو مرگی کا عارضہ لاحق ہے۔
عموماً مرگی ایسی دماغی بیماری کو کہا جاتا ہے جس میں انسانی جسم کو شدید جھٹکے لگتے ہیں اورانسان اپنے ہوش کھو دیتا ہے۔ منہ سے جھاگ آتی ہے یا زبان کٹنے کی وجہ سے خون بھی آسکتا ہے اور کپڑے ناپاک بھی ہو سکتے ہیں مگر یہ مرگی کی ایک قسم ہے۔

mirgi

یہ بات تقریباً عام فہم ہے کہہماری تمام حرکات وسکنات دماغ کے تابع ہوتی ہیں۔ دماغ کے خاص حصے میں جب تحریک اٹھتی ہے تو ہمارے ہاتھ، پاؤں یا زبانحرکت میں آتے ہیں۔حرکات و سکنات ہی نہیں ہماریسوچ، خیالات، یادداشت سب کا تعلق دماغ سے ہے۔ اس کی مثال یوں دی جا سکتی ہے جیسے کرسمس ٹری پر فنسی لائٹس لگائی جائیں اور ان کی لڑیوں کو وقفے وقفے سے جلایا جائے۔ ہمارے دماغ کے بنیادی سیل جنہیں نیوران کہا جاتا ہے انہی لائٹیوں کی طرح لڑیوں میں پروئے ہوتے ہیں اور جب اسوقت آپ کی آنکھیں جو یہ مضمون پڑھ رہے ہیں نیوران کی خاص لڑیاں آپ کے دماغ کے خاص حصے میں جل بجھ رہی ہیں۔ اب اگر کسی وجہ سے بجلی بہت زیادہ ہو جائے اور سب لڑیاں ایک ہی دفعہ جلنی بجھنی شروع ہو جائیں اور بہت زیادہ روشن ہو کر پھٹنی شروع ہو جائیں تو اس وقت جو مرض پیدا ہوتا ہے،اسے مرگی کا نام دیاجاتا ہے۔
انسانی دماغ جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں نیوران کے مربوط مجموعے سے بنا ہوا ہے۔ ان کی تعداد تقریباً 2ارب کے قریب ہے اور یہ سب ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ دماغ کے کچھ حصے ایک خاص کام کے لیے مختص ہوتے ہیں۔ مثلاً اگلا حصہ سوچ بچار کے لیے۔ پچھلا حصہ ہر قسم کے احساسات کے لیے اور درمیانی حصہ احکامات دینے کے لیے۔ کچھ حصے سننے کے لیے مختص ہوتے ہیں، کچھ سونگھنے کے لیے اور کچھ دیکھنے کے لیے۔ یادداشت کے لیے بھی ایک بڑا حصہ مختص ہوتا ہے۔ فرض کیا آپ نے کوئی چیز دیکھی ہے جو پہلے سے آپ کی یادداشت میں موجود تھی تو آپ اسے فوراً پہچان لیں گے۔ اور اگر نہ دیکھی ہو ،نہ سنی ہو تو نہیں پہچان سکتے کیونکہ وہ آپ کی یادداشت میں ہے ہی نہیں۔ مرگی کی ایک قسم ایسی بھی ہے کہ آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ نے یہ جگہ پہلے دیکھی ہوئی ہے یا آپ نے یہ کام پہلے بھی کیا ہوا ہے مگر آپ نے نہیں کیا ہوتا۔ اگرچہ یہ نارمل آدمی میں بھی ہو سکتا ہے مگر اس تواتر سے نہیں ہوتا جس تواتر سے مریض میں ہوتا ہے۔ مثلاً ایک آدمی کو بیٹھے بٹھائے یوں محسوس ہورہا تھا کہ وہ دودھ دھو رہا ہے حالانکہ وہ ایسا نہیں کر رہا تھا۔
بعض لوگوں کو بیٹھے بیٹھے خوشبو آتی ہے مگر ایسی خوشبو وہاں موجود نہیں ہوتی اور بار بار آتی ہے۔ ایسا دماغ کے اس حصے کی مرگی کی وجہ سے ہوتاہے جو سونگھنے کے لیے مختص ہے۔ اسی طرح بعض لوگوں کو کچھ چیزیں نظر آتی ہیں جو نظر کے لیے مختص دماغ کے حصے کی مرگی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اسی طرح بعض لوگوں کو چند لمحات کے لیے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے ایک پاؤں میں چیونٹیاں چلنی شروع ہوگئی ہیں جو اس طرح سر تک پہنچ جاتی ہیں یا ان کا چہرہ پھڑکنے لگتا ہے۔پھر ہاتھ، یہ چند لمحات کے لیے ہوتا ہے۔ پھریہ بالکل ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ ان سب اقسام میں ایک چیز غور طلب ہے کہ ہر دفعہ ایک قسم کی واردات ہوتی ہے۔ یہ نہیں کہ آج چیونٹیاں چل رہی ہیں تو کل چیزیں نظر آنا شروع ہو جائیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ سب ایک ہی ترتیب سے ہوتا ہے۔ یہ نہیں کہ آج پاؤں سے شروع ہو تو کل ہاتھ سے۔ یہ سب ایک سال میں ایک دفعہ سے لے کر ایک دن میں کئی دفعہ ہو سکتا ہے۔ یہ مرگی کی وہ اقسام ہیں جن میں انسان ہوش نہیں کھوتا۔ مگر بعض دوسری اقسام میں انسان بے ہوش بھی ہو جاتا ہے۔ مگر دوسروں کو ایسا محسوس نہیں ہوتا۔ وہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ مریض پاگل ہوگیا ہے۔ مثلاً بعض مریض کچھ لکھنا شروع کر دیتے ہیں ۔ کچھ قمیض کے بٹن بند کرنا کھولنا شروع ہو جاتے ہیں۔ بعض گالیاں دینی شروع ہو جاتے ہیں اور بعض چلنا شروع ہو جاتے ہیں اور جب یہ دورہ ختم ہو جاتا ہے تو انہیں اس عمل کا پتا نہیں چلتا۔ یہاں ایک بات نوٹ کرنے کی ہے کہ ان کا کوئی بھی عمل بے مقصد ہوتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی آدمی پستول اٹھا کر کسی دوسرے کو قتل کر دے تو یہ مرگی نہیں کہلائے گا۔
اب مرگی کی ایک تیسری قسم کا ذکر کرتے ہیں جس میں انسان بے ہوش ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی پتا چلتا ہے۔
بعض دفعہ بچے چند لمحات کے لیے گم ہو جاتے ہیں اور بلائے نہیں بولتے اور جب دورہ ختم ہو جاتا ہے تو وہ دوبارہ اپنا کام وہیں سے جاری رکھتے ہیں جہاں سے دورے سے پہلے ختم کیا تھا۔ بعض لوگ بیٹھے بیٹھے گر جاتے ہیں، بعض اکڑ جاتے ہیں اور بعض زور زور سے جھٹکے لینا شروع ہو جاتے ہیں۔ ہمیں عام طور پر یہ آخری قسم ہی نظر آتی ہے۔ اب یہاں ایک اور بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ یہ آخری قسم یا تو سیدھا جھٹکوں سے شروع ہو سکتی ہے یا پھر پہلے ان مریضوں کو کچھ محسوس ہوتا ہے ۔مثلاً کسی خاص قسم کی خوشبو،یا پیٹ میں غبار یا منہ کا ذائقہ تبدیل ہونا یا پھر کچھ نظر آنا۔
میں نے درمیان میں دماغ کے حصوں اور ان کے افعال کا ذکر کیا تھا اور میں نے کرسمس کے درخت پر جلتی بجتی بتیوں کا بھی ذکر کیا تھا۔ مرگی کی وہ قسم جس میں بے ہوشی نہیں ہوتی ،دماغ کے کسی ایک حصے میں بجلی کی رو زیادہ ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اور اگر یہ رو پورے دماغ پر پھیل جائے تو جھٹکے بھی لگتے ہیں اور بے ہوشی بھی ہوتی ہے۔
یہ مرگی کیوں ہوتی ہے یا دماغ میں یہ شارٹ سرکٹ کیوں ہوتے ہیں؟
ان میں کچھ تو پیدائشی ہوتے ہیں جن کے خاندان میں مرگی کا مرض ہوتا ہے مگر اکثریت میں کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے۔ مثلاً دماغ کی چوٹ، رسولیاں، جھلیوں کا انفیکشن، خون کی نالیوں کی بیماریاں، فالج زدہ دماغ، نشہ اور اشیاء خاص طور پر شراب کا استعمال وغیرہ۔ یہ سب اشیاء یا بیماریاں یا تو نیوران کی دیواریں کمزور کر دیتی ہیں یا انہیں توڑ دیتی ہیں اور کرنٹ باہر نکل کر پورے دماغ میں پھیل کر مرگی کی علامات پیدا کرتا ہے۔
مرگی کے علاج میں ہم دو محاذوں پر لڑ رہے ہوتے ہیں۔ ایک مرگی کو کنٹرول کرتے ہیں ،دوسرا مرگی کی وجہ کو ختم کر رہے ہوتے ہیں۔
مرگی کا صحیح علاج مرگی کو کنٹرول کرنا ہے۔
اس میں ہم ایسی ادویات دیتے ہیں جو نیوران کی دیواروں کو مضبوط بناتی ہیں اور کرنٹ لیک نہیں کرتا یا اگر کہیں سے کرنٹ لیک کر بھی جائے تو دوسرے نیوران پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ بعض ادویات سب قسم کی مرگی پر کام کرتی ہیں اور بعض کسی خاص قسم کے لیے مخصوص ہوتی ہیں۔ مرگی کے علاج میں چند عمومی باتیں مندرجہ ذیل ہیں۔
-1کھانا کھائیں نہ کھائیں دوائی ضرور کھائیں۔
-2جس وقت کھاتے ہیں اسی وقت روزانہ کھائیں یہاں تک کہ چند منٹوں کا ادل بدل نہ کریں۔
-3جس مقدار میں کھاتے ہیں اس میں کمی بیشی نہ کریں۔
-4اپنے آپ دوائی نہ چھوڑیں اور یہ ادویات کبھی بھی یک دم نہیں چھوڑی جا سکتیں۔
-5جس نام کی دوائی کھا رہے ہیں اسی کمپنی یا نام کی دوائی کھائیں۔
-6ایسے مریض اپنے آپ کو بے جا تھکا، بے خوابی ، زیادہ شور یا تیز روشنی سے جیسے اندھیرے میں ٹیلی ویژن دیکھنا، رات کو اگلی سیٹ پر بیٹھنے سے پرہیز کریں۔
-7ان اشیاء کے استعمال سے پرہیز کریں جن سے آپ کو مرگی کے جھٹکے لگ سکتے ہیں۔ مثلاً شراب اور نشہ آور اشیاء۔
-8تالاب یا نہر پر جانا، چھت جس کی دیواریں چھوٹی ہوں، آگ میں کام کرنا، چھری کا استعمال ، گاڑی وغیرہ چلانا، واش روم کی کنڈی بند کرنا کچھ ایسے کام ہیں جن میں آپ کو کسی دوسرے کی معاونت لازمی لینی چاہئے۔
-9اگر مرگی کی شکل بدل گئی ہے تو فوراً اپنے معالج سے رجوع کریں۔
-10اگر آپ کسی مریض میں مرگی کا دورہ پڑتے ہوئے دیکھیں تو زیادہ سے زیادہ اسے کروٹ پر لٹا دیں اور اس کے منہ میں کوئی چیز نہ رکھیں ورنہ سانس بند ہونے کا یا زبان اور دانتوں کو چوٹ لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
کیا مرگی کے لیے آپریشن کیا جاتا ہے؟
ایسے مریض جن میں دماغ کی رسولی نالیوں کے گچھا یا پانی کی تھیلی کی وجہ سے ہو تو ان چیزوں کا آپریشن ممکن ہے ۔اس سے مرگی کے ختم ہونے یا کم از کم کنٹرول ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ آپریشن سے مرگی کو مکمل طور پر ختم کرنے کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی۔
ایسے افراد جن کی مرگی ادویات سے کنٹرول نہیں ہو سکتی اور ان کے دماغ میں کوئی رسولی یا اور طرح کی بیماری نہیں ہوتی ان کے لیے خاص قسم کے آپریشن کیے جاتے ہیں۔ EEGدماغ کا ایک خاص ٹیسٹ ہوتا ہے۔ اس میں سر کے اوپر تاریں چپکا کر اس جگہ کا تعین کیا جاتا ہے جہاں سے مرگی شروع ہو کر پورے دماغ میں پھیل جاتی ہے۔ اگر دماغ کا وہ حصہ آپریشن سے نکالا جا سکتا ہو تو نکال دیا جاتا ہے بشرطیکہ اس سے مریض کوا عصابی معذوری مثلاً ہاتھ ، پاؤں یا نظر وغیرہ کی کمزوری کا امکان نہ ہو۔
دماغ کو دائیں اور بائیں حصے میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ بسا اوقات مرگی کسی ایک حصے میں شروع ہو کر دوسرے حصے میں پھیل جاتی ہے۔ ان مریضوں میں ان دونوں حصوں کے درمیانی رابطے کو جزوی طور پر منقطع کیا جاتا ہے۔
جدید دور میں مرگی کے لیے ایک نیا آپریشن تجویز کیا جاتا ہے جو پرانے آپریشنوں سے نسبتاً کم خطرناک ہے مگر بہت زیادہ مہنگا ہے۔ اس کا نام DBS (ڈیپ برین سٹیمولیشن)Deep Brain Stimulationہے۔ اس میں بجلی کی دو تاریں دماغ کے مخصوص حصوں میں پیوست کی جاتی ہیں جنہیں ایک بیڑی کے ساتھ جوڑ کر دماغ کے مذکورہ حصوں کو دبا دیا جاتا ہے جس سے مرگی کنٹرول ہو جاتی ہے۔
کیا مرگی ایک قابل علاج مرض ہے؟
شوگر ، بلڈ پریشر کی طرح مرگی کی بھی ادویات اگر باقاعدگی سے لی جائیں تو اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ یہ افراد زندگی کے ہر شعبے میں عام آدمیوں کی طرح کامیاب ہو سکتے ہیں۔ جہاں انہیں ادویات کی ضرورت ہوتی ہے وہیں معاشرے اور خاندان کی بہت زیادہ مدد اور تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔*

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *