داعش کیا ہے ، کیسے وجود میں آئی؟

(فیض اللہ خان کی تحقیق)


An image grab taken from a propaganda video uploaded on June 11, 2014 by jihadist group the Islamic State of Iraq and the Levant (ISIL) allegedly shows ISIL militants gathering at an undisclosed location in Iraq's Nineveh province. Militants took control of the Iraqi city of Tikrit and freed hundreds of prisoners today, police said, the second provincial capital to fall in two days. AFP PHOTO / HO / ISIL

دولت اسلامیہ فی العراق و الشام (داعش) حالیہ عرصے میں خوف و دھشت کی علامت بن کرابھری ہے اپنے بے پناہ وسائل اور خلافت کے اعلان کے باعث نئے جہادی اس میں بہت دلچسپی لے رہے ہیں داعش کے بارے میں کئی مفروضات ہیں کچھ خودساختہ نظریات ہیں تو کوئی انکے پیچھے امریکہ اسرائیل و ترکی کا ھاتھ تلاش کر رہا ہےداعش کیا ہے ؟ کیوں ہے ؟ کیسے ہے ؟ اور کہاں ہے ؟

صورتحال سمجھنے کے لئے ہمیں اس دور میں جانا ہوگا جب امریکہ نے افغانستان کے بعد عراق کو اپنی حارحیت کا نشانہ بنایا ، اس وقت صدر بش دہشتگردی کیخلاف اس جنگ کو صلیبی جنگ قرار دے چکے تھے (بعد میں دباؤ پڑنے پر اس بیان کو غلطی قرار دیکر معافی تلافی کی گئی) اس حملے کی شروعات کردی گئی ابتداء میں عراقی مسلمانوں کی جہادی تنظیم انصار الاسلام نے امریکی حملے کے خلاف مزاحمت شروع کی بصرہ میں عراقی شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر نے مہدی آرمی تشکیل دی لیکن کچھ عرصہ مزاحمت کے بعد یہ تنظیم پیچھے ہٹ گئی ( جسکی وجہ ایران و امریکہ کے درمیان وہ خفیہ معاہدہ تھا جسکی رو سے امریکہ نے عراق میں ایران نواز حکومت کے قیام کا وعدہ کیا تھا فطری سی بات ہے کہ ایران اپنے پڑوس کو محفوظ رکھنا چاہے گا اس معاہدے کے بعد مقتدیٰ الصدر رفتہ رفتہ مزاحمت چھوڑ گئے اور آیت اللہ السیستانی فکری رہنما قرار پائے ) اس عرصے میں سنی اکثریتی علاقوں خصوصا انبار ، موصل ، تکریت ، فلوچہ اور بغداد میں امریکی مزاحمت میں شدت آنے لگی انہی دنوں ذرائع ابلاغ میں ایک اردنی شخص ابو مصعب الزرقاوی کا نام تواتر سے آنے لگا ابو مصعب الزرقاوی کا تعلق اردن کے علاقے زرقا سے تھا ، ابو مصعب اردن کی جیل میں بھی رہے اوررہائی کے بعد دوبارہ افغانستان پہنچ گئے یہ نوے کی دہائی کے آخری برس تھے۔

(ابو مصعب پہلے بھی روس کیخلاف لڑ چکے تھے)افغانستان پر امریکی حملے کے وقت ابو مصعب الزرقاوی افغانستان میں تھے بعد میں وزیرستان مقیم رہے اس دوران جب عراق پر حملہ ہوا تو ابو مصعب نے وہاں کا رخ کیا (بعض زرائع کا دعوی ہے کہ ابو مصعب کو وہاں اسامہ بن لادن کے حکم پر بھیجا گیا ) ابو مصعب کی صلاحیتیں کھل کر عراق میں سامنے آئیں اور وہاں انہوں نے التوحید الجہاد کے نام سے اپنا مجموعہ منظم کیا {بہت سے علاقوں میں القاعدہ براہ راست اپنے نام سے کام نہیں کرتی}، بے پناہ تنظیمی و عسکری صلاحیتوں کے مالک ابو مصعب نے دیکھتے ہی دیکھتے جنگ کے میدان میں کھلبلی مچادی امریکی و عراقی انٹیلی جنس کیلئے یہ شخص چھلاوہ بن چکا تھا اسے گرفتار کرنا انکا خواب تھا انتہائی مختصر وقت میں ابو مصعب نے ایک ہزار خودکش حملے منظم کئے اور جہادی حلقوں میں امام الستشہادین کا خطاب پایا ، اسی دوران ابو مصعب نے اسامہ بن لادن کی بیعت کرتے ہوئے خود کو تنظیمی طور پراسامہ کے احکامات کا پابند کردیا اور یوں بلاد الرافدین میں القاعدہ عراق کا نیا روپ سامنے آگیا اسکے کچھ عرصے بعد عراق میں شوری مجاہدین تشکیل دی گئی اور کم و بیش بارہ جہادی تنظیمیں اسمیں شامل ہوگئیں اب تمام فیصلے ایک متفقہ فورم پہ ہونے لگے اسامہ بن لادن اس پیش رفت سے بہت خوش تھے اگلے مرحلے میں بلاد الرفدین کہلانے والے عراق کو نیا نام دیا گیا دولہ اسلامی فی العراق ، سب کچھ منصوبے کے مطابق تھا کہ اس دوران موصل میں ابو مصعب الزرقاوی امریکی بمباری کا نشانہ بنے اور اگر آپ نے وہ پریس کانفرنس دیکھی ہو تو امریکی خاتون صحافی جس طرح سے خوشی کا اظہار کر رہی ہے وہ ناقابل یقین تھا (پتہ نہیں پروفیشنل ازم کہاں گیا ) ابو مصعب الزرقاوی کے بعد تنظیمی معاملات میں خرابی پیدا ہونے لگی اورسنی قبائل کے ساتھ تصادم کے نتیجے میں القاعدہ یا دولت اسلامیہ عراق کی گرفت کمزور ھونے لگی ، القاعدہ کیلئے یہ صورتحال بالکل بھی پسندیدہ نہ تھی یہاں تک کے نور المالکی کا اقتدار مستحکم ہونے لگا ، کچھ عرصے کے تنظیمی بحران کے بعد ابوعمرالبغدادی نے دولت اسلامیہ کی امارت سنبھالی جبکہ ابو حمزہ المہاجر اس ریاست کے وزیر حرب قرار پائے انٹرنیٹ پر دو ہزار آٹھ ہی میں ابو عمرالبغدادی کے آڈیو پیغامات آنے لگے اور اس ریاست کا نشریاتی ادارہ الفرقان آڈیو ویڈیو اور میگزین { کچھ میگزین وغیرہ ہم تک بھی پہنچے جو کہ اردو میں پرنٹ تھے }وغیرہ جاری کرتا رہا اس دوران مختصر وقفے سے پہلے ابو عمر البغدادی اور پھر دوسرے امیر ابو حمزہ المہاجر عراقی فورسز کا نشانہ بنے ، یہ نیا بحران تھا دولت اسلامیہ پھر مشکلات کا شکار تھی اس دوران کچھ سنگین غلطیوں کی وجہ دولت اسلامیہ کمزور پڑتی چلی گئی (جسکی بہت سے وجوہات میں ایک سنی قبائل سے تصادم بھی تھا) لیکن نوری المالکی کی متعصب حکومت دولت اسلامیہ کے دوبارہ بحالی کا سبب بنی سنی مسلمان نوری المالکی کی فسطائیت پرمبنی طرز حکمرانی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے دولت اسلامیہ کا نیٹ ورک موجود تھا تجربہ کار افراد کی بھی کمی نہ تھی ایسے میں سنیوں کی واحد پناہ گاہ دولت اسلامیہ قرار پائی جو بہت تیزی سے اپنا اثرو رسوخ بڑھا رہی تھی دولت اسلامیہ کی امارت اب ابراہیم عواد کے پاس تھی جنہیں آپ اور ہم ابو بکرالبغدای قرشی حسنی کے نام سے جانتے ہیں ! البغدادی کی پیش قدمی حیران کن تھی سنی شہروں کا کنٹرول سنبھالنے میں انہیں مقامی قبائل کی مکمل حمایت حاصل تھی اور ان علاقوں کے سارے بینک بمعہ ڈالرز اور سونے کے دولت اسلامیہ کے قبضے میں آچکے تھے تیل کی دولت اضافی دولت تھی عراقی فورسز یوں علاقے چھوڑ رہی تھیں جیسے سورج کو دیکھ کر اندھیرا ، امریکہ کے حساب سے یہ انتہائی خوفناک صورتحال تھی جس آٹھ لاکھ آرمی کو کئی ارب ڈالرز دیکر تیار کیا گیا اسکا یوں پیچھے ہٹنا انتہائی پریشان کن تھا ، انہی دنوں بشار الاسد کے خلاف شام میں عوامی تحریک شروع ہوچکی تھی یہ وہی خون آلود عرب بہار تھی جو مصر و یمن اور شام میں لاکھوں انسانوں کا خون پی چکی ہے ، مصر لیبیاء یمن اور شام کی صورتحال سے پاک افغان سرحد پر موجود القاعدہ قیادت کیسے لاتعلق رہ سکتی تھی {گزرے برسوں میں القاعدہ ویسے یمن اور الجزائر میں اپنے مضبوط نیٹ ورک قائم کرچکی تھی جسے باالترتیب القاعدہ فی جزیرہ نما عرب اور القاعدہ فی البلاد مغرب اسلامی کہا جاتا ھے }عرب بہار کے دوران ہی لیبیاء و مالی میں القاعدہ کے نئے مجموعے انصار الشرعیہ کے نام سے منظم ہو چکے تھے جبکہ انصار بیت المقدس کے نام سے مصرو فلسطین میں القاعدہ اپنی جڑیں مضبوط کر رہی تھی اور شام میں جبہ النصر القاعدہ کی شاخ قرار پائی ، جبہ النصر کے امیر ابو محمد الاجولانی کو دولت اسلامیہ کے امیر ابوبکر البغدادی نے شام بھیجا تھا اور کچھ عرصے بعد عراق میں کامیاب کاروائیوں کے بعد دولت اسلامیہ نے شام کا رخ کیا یہیں سے القاعدہ اور دولت اسلامیہ کے درمیان اختلافات بڑھتے گئے القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری نے دولت اسلامیہ کو حکم دیا کہ وہ شام کے بجائے عراق تک محدود رہے (القاعدہ ذرائع کے مطابق دولت اسلامیہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کے ماتحت تھی) لیکن دولت اسلامیہ نے ایسی تجویز یا حکم ماننے سے انکار کردیا۔

صورتحال گھمبیر ہوتی جارہی تھی آپسی تصادم بھی شروع ہو چکا تھا القاعدہ جانتی تھی کہ داعش کے سربراہ اگلے مرحلے میں خلافت کا اعلان کرنے والے ہیں القاعدہ کی کوشش تھی کہ داعش کو ایسے کسی اعلان سے روکا جائے ، دولت اسلامیہ کا شام کی صورتحال کے حوالے سے اپنا موقف تھا جسکے مطابق وہ ایسی جہادی تنظیموں یا جیش الحر یعنی فری سیرین آرمی کے سخت خلاف تھی جو سعودی عرب یا یورپ و امریکہ کے تعاون سے یہاں موجود تھے ، یہی وجہ تھی جو دولت اسلامیہ اور وہاں موجود گروہوں کے درمیان خونریز تصادم ہوا باوجود اسکے کے القاعدہ نے متعدد کوشیش کیں کہ تصادم کی نوبت نہ آئے اور توجہ بشار الاسد کیطرف ہی رہے لیکن ایسا ہو نہ سکا بعد ازاں ایرانی معاونت سے کئی اہل تشیع گروہ جس میں حزب اللہ بھی شامل تھی ، دولت اسلامیہ اور جبہ النصر سے لڑتی رھی حزب اللہ یہاں بشار الاسد کی حمایت میں لڑ رہی تھی اسی دوران دولت اسلامیہ نے اپنی ریاست کو شام تک توسیع دیتے ہوئے ابوبکر البغدادی کی خلافت کا اعلان کردیا ، خلافت کی داعی حزب التحریر اور القاعدہ نے اس اعلان سے اختلاف کیا اوراس سلسلے میں کچھ اعتراضات پیش کئے القاعدہ کا موقف تھا کہ یہ اعلان جلد بازی میں کیا گیا ہے اور کچھ بنیادی اصولوں سے انحراف کیا گیا ہے ، داعش نے ایسے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے خود کہا کہ وہ تمام شرائط پر پورا اترتے ہیں اس حوالے سے القاعدہ اور داعش کے حامیوں کے درمیان سوشل میڈیا پر بحث جاری رہی ، اسی دوران امریکہ یورپ سعودی عرب اور ایران نے مشترکہ طور پر داعش پر حملے شروع کردئے ہیں ایسے میں القاعدہ نے امریکی حملوں کی مزاحمت کا اعلان کیا اسی دوران القاعدہ اور داعش کے درمیان یمن کی القاعدہ اور علماء کے توسط سے مذاکراتی عمل شروع ہو چکا ہے لیکن ابھی تک کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہ آسکی ،البتہ آپس کا تصادم کسی حد تک رک چکا ھے لیکن یہ تو طے ہے کہ مشرق وسطی جہادی گروپس منظم ہوتے جارہے ہیں ایسے میں مصر میں اخوان المسلمون کی حکومت کی جبری رخصتی نے جہادی گروہوں کو تیزی سے نیا خون فراہم کیا ہے اس قبل جہادی و جمہوری ایک دوسرے سے بحث کرتے تھے کہ کیا حاصل کیا ایسے میں اخوان المسلمون کی حکومت تک رسائی نے کسی حد تک ملک میں مسلح جدوجہد کے طریقے کو نقصان پہنچایا (مشرق وسطی و افریقہ کے تناظر میں ذکر ہے ) لیکن اخوان کی اقتدار سے بے دخلی اور پھر بے پناہ تشدد نے سیناء کے علاقے میں موجود انصار بیت المقدس نامی تنظیم کو نہ صرف مضبوط کیا بلکہ کئی مزید گروہ بھی وجود میں آگئے ، پاکستان کی حد تک داعش ابھی تک اپنا موثر تنظیمی اثر نہیں رکھتی لیکن پاکستان کی ، زرخیز ، زمین میں ایسے نظریات کی قبولیت میں زیادہ مسئلہ بھی نہیں لیکن یہاں بسنے والے زیادہ تر گروہ ملا محمد عمر کے پیروکار ہیں القاعدہ و تحریک طالبان ملا عمر کو اپنا امیر المومنین قرار دے چکے ہیں ، البتہ یہ ممکن ہے کہ پاکستان میں برسرپیکار کوئی شدت پسند گروہ ابوبکر البغدادی کی بیعت کرلے تو اس صورت میں ولایہ پاکستان کی اصطلاح بھی سننے کو ملے گی عرب ممالک میں لڑنے والے جنگجوؤں میں بیشتر نئی نسل سے تعلق رکھتے ہیں انکے لئے ملا عمر کے نام میں بہت زیادہ کشش نہیں ہے اسکی ٹھوس وجوہات ہیں (انکی نظر میں) ایک تو ملا محمد عمر کو کسی نے نہیں دیکھا (لیکن طالبان انکی مکمل اطاعت کرتے ہیں اور بہت احترام بھی) ابوبکر البغدادی اپنی ویڈیو جاری کرچکے ہیں اور پھر عراق و شام میں بہرحال وہ برسرزمین قبضے کے ساتھ موجود ہیں اور پھر وسائل وکامیاب جنگی حکمت عملی نے انکی دھاک بیٹھا دی ہے وہاں کئی ممالک کے جنگجو اپنی فیملیز کے ہمراہ موجود ہیں جیسا کہ کبھی افغانستان میں ہوا کرتے تھے ، لیکن ان سب کے باوجود ہمارے خطے میں ملاعمر کا حکم مانا جاتا ہے جلال آباد جیل میں انٹرنیٹ تک رسائی رکھنے والے طالبان ابوبکر البغدادی کے بیانات سنتے تھے اور اس بارے میں گفتگو بھی ہوتی تھی لیکن طالبان ابھی بھی امارت کے پرچم تلے ہی ہیں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *