خوفناک بیماری کا شکار نوجوان لڑکی

girl

 آسٹریلیا میں ایک جواں سال لڑکی کے جسم میں ایک ایسی بیماری کا انکشاف ہوا کہ جس کے بارے میں سوچ کر ہی انسان کا دل کانپ کر رہ جاتا ہے۔ جریدے ڈیلی میل کے مطابق رواں سال جنوری میں ڈاکٹروں نے پتا چلایا کہ تحالیہ سمتھ نامی لڑکی کے خون میں زندہ طفیلی جرثومے موجود ہیں جو کہ اس کے پورے جسم میں گردش کررہے ہیں۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ 21 سالہ لڑکی ’لائیم ڈیزیز‘ نامی بیماری کی شکار ہے لیکن اس کی بیماری کی شدت کی وجہ سے جرثومے اس کے تمام جسم میں پھیل چکے ہیں اور انتہائی چھوٹی جسامت کے یہ کیڑے خون کے ساتھ اس کے پورے جسم میں گردش کررہے ہیں۔ بیچاری لڑکی کی خوفناک بیماری کے بارے میں جان کر مخیر افراد نے بڑے پیمانے پر اس کے لئے عطیات جمع کئے اور اب وہ ایک لاکھ ڈالر (تقریباً 1کروڑ پاکستانی روپے) اکٹھے کرنے کے بعد ایک تکلیف دہ علاج کے لئے جرمنی پہنچ چکی ہے۔

تحالیہ کی ماں نے اخبار ’سڈنی مارننگ ہیرلڈ‘ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی بیٹی کا تمام خون فلٹر کرکے اس میں سے کیڑوں کو علیحدہ کیا جائے گا اور اس کے جسم کو 42 ڈگری سیلسیئس تک گرم کیا جائے گا تاکہ اس میں موجود بوریلا بیکٹیریم نامی جرثومے بھی ہلاک کئے جاسکیں۔ لڑکی کے والد کا کہنا ہے کہ جب اس کی بیٹی کا خون لے کر اس کا تجزیہ کیا گیا تو اس میں زندہ کیڑوں کا انکشاف ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی میں اس سے پہلے کبھی ایسی بات نہیں سنی تھی۔ انہوں نے اس بات پر شدید پریشانی کا اظہار کیا کہ ان کی بیٹی کا خون لئے جانے کے چار گھنٹے بعد بھی اس میں زندہ کیڑے موجود تھے۔
تحالیہ کا خیال ہے کہ اسے یہ خطرناک بیماری ایک پسو کے کاٹنے سے ہوئی۔ آسٹریلوی ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا میں اس بیماری کی موجودگی کے شواہد نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بیچاری لڑکی کے خون کو تین دن سے فلٹر کیا جارہا ہے اور اس عمل کے دوران اس کے جسم سے سارا خون نکال لیا جاتا ہے اور فلٹر کر کے دوبارہ جسم میں منتقل کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اب اس کا خون صاف ہوتا نظر آرہا ہے، اور امید ظاہر کی ہے کہ وہ بالآخر صحتیاب ہو جائے گی۔

خوفناک بیماری کا شکار نوجوان لڑکی” پر ایک تبصرہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *