ذہنی صحت اسلحے کے استعمال سے روکتی ہے۔ایک تحقیق

Gun Alcohol

لاس اینجلس -جوانی میں جذبات ایک ایسا عنصر ہوتا ہے جو انسان سے بڑے بڑے کام کروا لیتا ہے لیکن یہی جذبات اسے غلط راستے پر ڈال کر منفی سرگرمیوں کا شکار کردیتے ہیں اسی لیے ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جذبات میں عدم توازن نوجوانوں کو اسلحہ رکھنے اور اسے استعمال کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ عام طور پر ماہرین نفسیات کا ماننا تھا کہ خراب معاشی صورت حال، مستقبل سے متعلق غیر یقینی اور معاشرتی بگاڑ کا شکار نوجوان اسلحہ استعمال کرتے ہیں لیکن امریکا میں کی جانے والی نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جذباتی عدم توازن اور ذہنی تشدد نوجوانوں کو اسلحہ رکھنے پر مجبور کردیتا ہے۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ چاقو یا پستول جیسا اسلحہ رکھنے والے نوجوانوں میں سے 17 فیصد اس کا استعمال کرتے ہیں اور دوسروں کو اس سے نقصان پہنچاتے ہیں۔ تحقیق کے دوران 20 ہزار سے زائد نوجوانوں اور 17 ہزار سے زائد ان کے والدین کا سروے کیا گیا جس میں گریڈ 7 سے لے کر گریڈ 12 تک کے نوجوانوں کو شامل کیا گیا اور ایک سال تک ان کے انٹرویو کے ذریعے ان کی زندگیوں کا مطالعہ کیا گیا۔ تحقیق کے سربراہ اور لاس اینجلس بایو میڈیکل ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے انچارج کا کہنا تھا کہ اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ اسلحہ رکھنے والے نوجوانوں کی اکثریت دوسروں کو نقصان نہیں پہنچاتی تاہم اسلحہ رکھنے اور اسے اس کے استعمال میں براہ راست تعلق موجود ہے اس لیے اب اس کے استعمال کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ تحقیق کے مطابق صرف امریکا میں 13 فیصد نوجوان اسلحہ کا شکار بنتے ہیں جب کہ 13 فیصد سیاہ فام، 10 فیصد سفید فام اور 7 فیصد دیگر ہائی اسکول نوجوان کسی نہ کسی شکل میں اسلحہ رکھنے یا اسے استعمال کرنے میں ملوث ہوتے ہیں۔ تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ الکوحل کا زیادہ استعمال اور تعلقات میں عدم توازن بھی اسلحہ کے استعمال کی وجہ بنتے ہیں جب کہ بڑھتے ہوئے تشدد کے خلاف سیلف ڈیفنس کے طور پر نوجوان اسلحہ رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ڈیٹا کی ایک خامی یہ ہے کہ اس میں ان نوجوانوں کو شامل نہیں کیا گیا جو اسکول نہیں جاتے۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ذہنی صحت اور مساوات پیدا کرکے نوجوانوں کو اسلحہ سے استعمال سے روکا جا سکتا ہے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *