کیا واقعی برمودا ٹرائی اینگل میں "دجال" رہتا ہے ؟ اسلامی نقطہ نظر سے ایک تحقیق

(فصیح الدین محمد ناصر کے قلم سے )

bar

برموادا ٹرائی اینگل بحر اوقیانوس میں واقع ہے اور اس کے متعلق بہت سی کہانیاں اور قصے بنائے گئے ہیں۔ 1945 میں جب فلورایڈا سے اڑنے والے پانچ جہاز کہیں غائب ہوئے تب یہ ٹرائی اینگل منظر عام پر لائی گئی۔ ان جہازوں کو بہت تلاش کیا گیا مگر کہیں سراغ نہ مل سکا۔ آخر جب ایسے بہت سے واقعات رونما ہوتے رہے جن میں ہوائی جہاز ، کشتیاں فلوریڈا اور میامی کے سمندر سے گزرتے ہوئے کہیں غائب ہو جاتیں تو ان واقعات کا رخ برمودا ٹرائی اینگل کی طرف موڑا جانے لگا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ایسی مصنوعی اور خود ساختہ تکون وجود میں لائی گئی جو انسان اور انسانیت کے لئے ایک راز رہ سکے اور جب وقت کی ضرورت ہو تو اس جگہ سے کچھ ظاہر کر کے لوگوں کے اذہان پر قابو پایا جاسکے اور یہ بتایا جاسکے کہ ہمارا نجات دہندہ ، دنیا کو بچانے والا ، اور یہودیوں اور عیسائیوں کا مالک (یعنی دجال) آگیا ہے۔ آپ حیران ہوئے ہوں گے کہ میں اپنی بات کا رخ یکدم دجال کی طرف کیوں موڑ رہا ہوں۔ ان شاءاللہ اس کے متعلق واضح دلائل دیئے جائیں گے کہ اس تکون (bermuda Triangle) میں اور دجال میں کیا مماثلت پائی جاتی ہے۔ بحر الکاہل کے شیطانی سمندر (Devil Sea) اور بحر اوقیانوس کے برمودا ٹرائی اینگل میں کئی خصوصیات کے اعتبار سے مماثلت پائی جاتی ہے جو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ان دونوں میں کوئی ایسا تعلق ضرور ہے جو دنیا کی نظر سے پوشیدہ ہے اور یہ تعلق لازماً شیطانی ہے۔ رحمانی یا انسانی نہیں (کیونکہ جیسے پہلے عرض کیا کہ یہاں بہت سے حادثات رونما ہوچکے ہیں) مثلاً

1۔ دنیا میں یہی دو جگہیں ایسی ہیں جہاں قطب نما کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ دونوں میں متعدد ہوائی اور بحری جہاز غائب ہوچکے ہیں۔ انتہائی تعجب خیز بات یہ ہے کہ ان دونوں جگہوں کے درمیان ایسے جہازوں کو سفر کرتے دیکھا گیا جو سالوں پہلے غائب ہوچکے تھے۔

2۔ دونوں کے اندر ایسی مقناطیسی کشش یا برقی لہریں موجود ہیں جو بڑے بڑے جہازوں کو توڑ مروڑ کر نگل جاتی ہیں۔

3۔ دونوں کے درمیان اڑن طشتریاں اڑتی دیکھی گئی ہیں جنہیں امریکی میڈیا والے خلائی مخلوق کی سواری کہتے ہیں۔ امریکا کا یہودی میڈیا ان کے متعلق سامنے آنے والے حقائق چھپاتا رہتا ہے۔ کچھ لوگوں نے اس کی جراءت کی اور ان حقائق کو منظر عام پر لائے تو انہیں قتل کردیا گیا۔ جیسے ڈاکٹر موریس جیسوپ اور ڈاکٹر جیمس ای میکڈونلڈ کو صرف اس وجہ سے قتل کیا گیا کہ یہ دونوں اڑن طشتریوں کو کھوجتے ہوئے اصل حقائق جان گئے تھے۔

4۔ دونوں جگہوں کو خواص و عوام قدیم زمانے سے شیطان سے منسوب کرتے ہیں اور یہاں ایسی قوتوں کی کارستانیوں کے قائل ہیں جو انسانیت کی خیر خواہ نہیں۔ لیکن ان کے گرد اسرار کے پردے آویزاں کر دیے گئے ہیں۔ وہ میڈیا جو بال کی کھال اور کھال کی کھال اتاردیتا ہے وہ اس راز کو کیوں چھپا رہا ہے ؟؟

اب ان باتوں کی حقیقت سوائے مخبر صادق ﷺ کے سوا کس سے پوچھی جائے ؟؟ آئیے اب ان کی زبانی ان باتوں کی حقیقت جانتے ہیں جنھیں اس وقت کے کفار و مشرکین بھی صادق الامین کہا کرتے تھے۔ایک دن حضور ﷺ نے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو جمع فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ ۔۔ تمیم داری پہلے عیسائی تھا ۔ وہ آیا ۔ اس نے بیعت کی اور اسلام میں داخل ہوگیا۔ اس نے مجھے ایسا واقعہ سنایا جو ان باتوں سے تعلق رکھتا ہے جو میں تمھیں دجال کے بارے میں بتایا کرتا تھا۔۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ لخم اور جزام قبیلہ کے تیس آدمیوں کے ہمراہ سمندر کے سفر پر بحری جہاز میں روانہ ہوا۔ سمندر کی لہریں (طوفان کے سبب) انھیں مہینہ بھر تک ادھر اُدھر دھکیلتی رہیں۔ یہاں تک کہ وہ ایک جزیرے میں پہنچ گئے۔ اس وقت سورج غروب ہورہا تھا۔ وہ ایک چھوٹی کشی میں بیٹھ کر جزیرے میں داخل ہوئے۔ جب وہ جزیرے میں داخل ہوئے تو ان کو ایک جانور ملا جس کے جسم پر بہت سے بال تھے۔ بالوں کی کثرت کی وجہ سے انہیں اس کے آگے پیچھے کا پتہ نہیں چلا رہا تھا۔ انہوں نے کہا: تیرا ناس ہو تو کیا چیز ہے ؟
اُس بالوں والے جانور نے کہا: میں جساسہ ہوں۔
انہوں نے پوچھا: یہ جساسہ کیا چیز ہے ؟
جواب ملا: اے لوگو! خانقاہ (مراد گھر) میں موجود اس آدمی کی طرف جاؤ۔ وہ تمہاری خبریں سننے کا بڑے تجسس سے انتظار کررہا ہے۔ انہیں خوف ہوا کہ کہیں یہ جانور شیطان نہ ہو اور کہیں کوئی نقصان نہ پہنچائے۔ پھر ہم تیزی سے چلے اور خانقاہ میں داخل ہوگئے۔ وہاں ہم نے بھاری بھر کم قد کاٹھ کا ایک آدمی دیکھا جس کے گھٹنوں سے ٹخنوں تک بندھی ایک لوہے کی زنجیر تھی اور اس کے ہاتھ گردن کے ساتھ بندھے ہوئے تھے۔

ہم نے پوچھا: تیرا ناس ہو تو کیا چیز ہے ؟
اس نے کہا: میرا پتہ تمہیں جلد چل جائے گا۔ یہ بتاؤ کہ تم کون ہو ؟
ہم نے کہا: ہم عرب سے ہیں (پھر ہم نے سارے سفر اور طوفان اور جساسہ کے بارے میں بتایا کہ اس نے ہمیں تیری طرف آنے کا کہا)۔
اس نے کہا: مجھے بیسان کے نخلستان (باغ) کے بارے میں بتاؤ ؟
ہم نے کہا: اس کے بارے میں کون سی بات پوچھنا چاہتا ہے ؟
اس نے کہا: میں جاننا چاہتا ہوں کہ اس باغ کے درختوں پر پھل آتے ہیں یا نہیں؟
ہم نے کہا: ہاں۔۔ پھل آتے ہیں۔
اس نے کہا: مجھے طبریہ کی جھیل کے بارے میں بتاؤ ؟
ہم نے کہا: کہ اس کے بارے میں کون سی بات پوچھنا چاہتا ہے ؟
اس نے کہا: کیا اس میں پانی موجود ہے ؟
ہم نے کہا: ہاں اس میں بہت پانی ہے۔
وہ بولا: اس کا پانی بہت جلد ختم ہو جائے گا۔۔ پھر اس نے کہا: مجھے زغر کے چشمے کے بارے میں بتاؤ ؟
ہم نے کہا: کہ اس کے بارے میں کون سی بات پوچھنا چاہتا ہے ؟
اس نے کہا: کیا اس میں پانی ہے اور کیا لوگ اس کو استعمال کرتے ہیں ؟
ہم نے کہا: ہاں اس میں بہت پانی ہے اور لوگ اس سے اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں۔
اس نے پوچھا: مجھے محمد(ﷺ) کے بارے میں بتاؤ ؟
ہم نے کہا: کہ وہ مکہ سے نکل کر یثرب (مدینہ) آ گئے ہیں۔
اس نے پوچھا: کہ کیا عربوں نے اس کے ساتھ جنگ کی ؟
ہم نے کہا: ہاں۔
اُس نے پوچھا: کہ اس (حضرت محمد ﷺ) نے ان کے ساتھ کیا کیا ؟
ہم نے کہا: کہ وہ اردگر د کے عربوں پر غالب آچکے ہیں اور انھوں نے اُن کی اطاعت قبول کرلی ہے۔
اس پر اُس نے کہا: کیا واقعی ایسا ہوچکا ہے ؟
ہم نے کہا: ہاں۔۔
پھر اُس نے کہا: ان کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ اس کی اطاعت قبول کرلیں۔۔
اب میں تمھیں اپنے بارے میں بتاتا ہوں۔ میں دجال ہوں۔ مجھے عنقریب خروج کی اجازت مل جائے گی۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ

1۔ دجال پیدا ہوچکا تھا اور اب وہ اپنی رہائی کا منتظر ہے۔

2۔ اس کی رہنے کی جگہ ایک بے آباد جزیرہ ہے۔

3۔ اس کے کارندے اسے لمحہ بہ لمحہ دنیا اور انسانوں سے آگاہ کرتے ہیں۔

4۔ اس کو غیر معمولی طاقتیں دی جائیں گی۔

اب سوال یہ ہے کہ برمودا ٹرائی اینگل کو ہی اس کا اصل مقام کہا جائے ، جہاں پر کوئی جانے کی جراءت کرے تو اس کا نام و نشان صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے ؟؟

(یہ واقعہ سنانے کے بعد) حضور ﷺ نے اپنا عصاء مبارک منبر پر مار کر فرمایا، یہ ہے طیبہ۔ یہ ہے طیبہ (یعنی مدینہ منورہ) میں تم کو یہی بتایا کرتا تھا۔ جان لو کہ دجال نہ شام کے سمندر میں ہے اور نہ ہی یمن کے سمندر میں۔ نہیں وہ مشرق میں ہے۔۔ (اور حضور ﷺ نے مشرق کی طرف ہاتھ سے اشارہ فرمایا)
(صحیح مسلم: حدیث 7208)

اب جزیرۃ العرب سے مشرق کی جانب دیکھا جائے تو دو جگہیں ہی ایسی ہیں جنہیں مغرب کے عیسائی بھی شیطانی سمندر، شیطانی جزیرے یا جہنم کا دروازہ مانتے ہیں۔۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ دونوں کا آخری سرا امریکہ سے جا ملتا ہے۔

مشرق بعید میں بحر الکاہل کے غیر آباد اور ویران جزائر آتے ہیں۔ ان کے اردگرد کے خوفناک پانیوں کا نام ہی شیطانی سمندر (Devil Sea) رکھ دیا گیا ہے۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر یہ شیطانی سمندر کا نام مغرب اور خصوصاً عیسائیوں نے کیوں دیا ؟؟ اگر مسلمان یہ نام رکھتے تو بات سمجھ میں آنا آسان بھی تھی۔۔ خیر یہ ابھی ہمارا موضوع نہیں۔۔ فی الحال ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کیا واقعی برمودا ٹرائی اینگل کا تعلق دجال سے ہے ؟؟

حدیث کے الفاظ دوبارہ پڑھئے۔۔ (دجال مشرق میں ہے) ۔۔ زمین چونکہ گول ہے اس لئے اگر مبہم طور پر ہم مشرق کی طرف اشارہ کریں تو وہ اس کی گولائی کی وجہ سے مغرب (بحر الکاہل) تک پہنچے گا۔۔ مگر یہ ایک مبہم تاویل ہے۔ اس سے آگے مضبوط تاویل مصری محقق عیسی داؤد نے اپنی کتاب مثلث برمودا میں کی ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ پہلے دجال بحر الکاہل کے ان بے آباد اور ویران جزائر میں تھا اور حضور ﷺ کے وصال تک وہ بیڑیوں میں جکڑا ہوا تھا۔ مگر ختم المرسلین ﷺ کے وصال کے بعد اسکی بیڑیاں ٹوٹ گئیں اور وہ آزاد ہوگیا ۔۔ مگر اسے خروج کی اجازت نہیں تھی لہٰذا وہ شیطانی سمندر (Devil Sea) سے شیطانی تکون (bermuda Triangle) تک رابطے میں ہے۔ جس کے قریب شیطانی تہذیب پروان چڑھ کر نکتہ عروج کو پہنچنے ہی والی ہے۔

دوستو! ویسے تو قرب قیامت میں دجال کے منظر عام پر آ جانے پر کافی نشانیاں ہیں جو ان شاءاللہ آپ ہمارے اہم ترین مضمون سیریز (دجال کون ہوگا) کے اگلے حصوں میں پڑھ سکیں گے۔۔ لیکن جہاں تک صحیح مسلم کی اس حدیث میں موجود (دجال کے حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے کیے جانے والے تین اہم اور بنیادی سوالات کا تعلق ہے) تو وہ سوالات دجال نے اسی لیے کیے تھے کیونکہ اسے پتہ تھا جب یہ تین نشانیاں بھی پوری ہو جائیں گی تو اسے دنیا کے سامنے آنے کی (یعنی خروج کی) مکمل اجازت مل جائیگی۔۔

سوال نمبر ایک میں بیسان کے نخلستان کا پوچھا گیا تھا اور اس نخلستان پر موجود درختوں کے پھلوں (کھجوروں) کا ذکر کیا گیا تھا۔۔ بیسان دراصل فلسطین کا علاقہ ہے جہاں دجالی ریاست اسرائیل کا قبضہ ہے۔۔ اور اب وہاں کوئی پھل پیدا نہیں ہوتا اور یوں دجال کے سامنے آنے کی یہ بہت اہم نشانی اور علامت پوری ہو چکی ہے۔

سوال نمبر دو میں طبریہ کی جھیل کا پوچھا گیا تھا۔۔ جہاں تک بات ہے بحیرہ طبریہ کی تو اس پر بھی اسرائیل کا ہی قبضہ ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا پانی بھی بہت تیزی سے خشک ہوتا جا رہا ہے۔۔ جس طرح پاکستان میں مشہور ترین دریائوں کا پانی انڈیا کی دشمنی اور چالاکی سے سوکھ رہا ہے اور کم ہو رہا ہے،، طبریہ کا پانی بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔۔ بیشک آپ انٹرنیٹ پر سرچ کر لیں اور موجودہ حالات کی روشنی میں دیکھ لیں۔۔ یہ بات واضح ہو جائے گی کہ دجال کے دوسرے سوال والی نشانی بھی مکمل ہو چکی ہے۔

سوال نمبر تین میں زغر کے چشمہ کا پوچھا گیا تھا۔۔ زغر حضرت لوط علیہ السلام کی صاحبزادی کا نام ہے۔ حضرت لوط علیہ السلام کی دو صاحبزادیاں تھیں۔ ربہ اور زغر ۔۔ بڑی صاحبزادی (ربہ) کو وفات کے بعد جہاں دفن کیا گیا تو قریب ہی ایک چشمہ تھا جو انکے نام سے منسوب ہو کر مشہور ہوا۔۔ اسی طرح چھوٹی صاحبزادی (زغر) کی وفات کے بعد انکی تدفین بھی ایک چشمہ کے قریب ہوئی اور وہ چشمہ زغر کے چشمے کے نام سے مشہور ہو گیا۔۔ دجال کی تفتیش اور تجسس کے عین مطابق یہ تیسری جگہ بھی دجالی ریاست اسرائیل میں ہی واقع ہے۔۔ اور اس کا پانی بھی پوری طرح خشک ہوتے ہی دجال کو نکلنے کی اجازت مل جائے گی۔

ویسے بھی ایک دوسری حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ دجال کسی بات پر غضبناک (انتہائی غصے میں) نکلے گا اور منظر عام پر آ جائے گا۔۔ یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ وقت اور مستقبل قریب میں جہاں یہ پانی خشک ہوتا رہے گا تو اللہ پاک کی طرف سے کچھ ایسے اسباب اور حالات و واقعات ضرور رونما ہونگے جس پر دجال کو سخت تشویش اور غصہ ہوگا اور وہ خروج کر جائے گا اور سامنے آ جائے گا۔۔ اب وہ ایسی کیا بات یا باتیں ہونگی،، واقعات ہونگے،، یہ سب غیب کی باتیں ہیں لیکن اتنا ضرور سمجھ آتا ہے کہ وہ دجالی ریاست اسرائیل،، دجالی چمچوں یعنی صیہونیوں اور یہودیوں ،، دجال پرست عیسائیوں ،، دیگر غیر مسلم مذاہب کے دجالی چیلوں اور نام نہاد مسلمانوں کے خلاف ہی کچھ ہوگا تبھی وہ اتنا غصے میں آ جائے گا۔۔ اللہ پاک اس عظیم ترین فتنے سے ہمیں اپنی امان میں رکھیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *