اب نابینا افراد بھی قرآن پڑھ سکیں گے

1602

بہار کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ میں ایک سکول ٹیچر نے اپنی زندگی کی تاریکیوں سے لڑتے ہوئے نابینا افراد کے لیے بریل میں قرآن کا نسخہ تیار کیا ہے۔بوکارو کے ایک سکول میں ہندی پڑھانے والے والی استانی نفیسہ ترین نے ڈھائی سال کی محنت کے بعد 965 صفحات پر مشتمل یہ قرآن تیار کیا ہے۔قرآن پڑھنے کی کوشش کرتے ہوئے نفيسہ کے سامنے اتنی مشکلات آئیں کہ انھوں نے اپنے جیسے دوسرے لوگوں کے لیے ہندی بریل میں قرآن تیار کرنے کی ٹھان لی۔بوکارو سٹیل پلانٹ میں کام کرنے والے محمد مختار اسلم کی بیٹی نفیسہ کی جدوجہد کی کہانی بہت سے لوگوں کے لیے مثال بن سکتی ہے۔مختار اسلم نے نفیسہ کو پڑھانے کے لیے بنارس کے جیون جیوتی سکول بھیجا جہاں سے انھوں نے انٹرمیڈیئٹ تک کی تعلیم حاصل کی۔اب نفیسہ بی ایڈ کرنے کے بعد بوکارو میں ایک ہائی سکول میں عام بچوں کو ہندی پڑھاتی ہیں۔بی اے کی تعلیم کے دوران نفیسہ کے دل میں قرآن پڑھنے کی خواہش پیدا ہوئی لیکن نابینا ہونے کی وجہ سے کوئی انھیں قرآن پڑھانے کے لیے تیار نہیں ہوا۔ دہلی کے ایک ادارے سے کمپیوٹر سائنس میں ڈپلوما کرنے والی نفیسہ کو بالآخر محمد تسلیم نامی ایک حافظ قرآن پڑھانے کے لیے تیار ہوئے۔ان کی نگرانی میں نفیسہ نے قرآن کو بریل - ہندی میں لکھنا شروع کیا۔سنہ 2005 میں شروع ہونے والا کام سنہ 2008 میں مکمل ہوا جس کے بعد غلطیوں کو درست کرنے میں ایک عرصہ لگا۔نفیسہ کہتی ہیں: ’والد کی تحریک، بھائیوں کے حوصلہ افزائی اور حافظ جی کی تیاری سے مجھے آج یہ خوش بختی حاصل ہوئی ہے۔کسی مذہبی تنظیم یا سرکاری محکمے سے نفیسہ کو کوئی مالی تعاون نہیں ملا۔ انھوں نے کہا: ’جو لوگ مجھے قرآن پڑھانے تک کو تیار نہیں تھے، میرے والد کو گمراہ کر رہے تھے، بھلا آپ ان سے حوصلہ افزائی کی امید کیسے رکھ سکتے ہیں، میں شہرت اور عزت کی بھوکی نہیں ہوں۔نفیسہ بتاتی ہیں کہ انھوں نے قرآن کو شائع کرانے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ اس کے لیے کسی شخص یا ادارے کے آگے آنے کا انتظار ہے تاکہ یہ زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔ لیکن اگر کوئی مدد نہیں ملی تو وہ اسے خود ہی شائع کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔دریں اثنا گذشتہ سال اندور کی ایک لڑکی نے بھی بریل میں قرآن لکھا ہے لیکن نفیسہ کے بھائی غوث الاعظم بتاتے ہیں کہ نفیسہ کا تحریر کردہ قرآن ہندی بریل میں بھارت کا پہلا مکمل قرآن ہے۔نفیسہ کے والد مختار بتاتے ہیں قرآن لکھنے کے بعد آس پاس کے مدارس اور مساجد کے سربراہوں نے اپنے اپنے طریقے سے نفیسہ سے قرآن پڑھوا كر اس کی تصدیق کی۔بوکارو سٹیل سٹی کے مولوی مفتی محمد منصور انور کہتے ہیں: ’جو کام آنکھ والے نہیں کر سکتے اسے اس لڑکی نے کر دکھایا، یہ قابل تعریف ہے۔ میں نے نفیسہ سے پڑھوايا، واقعی انھوں نے بہترین کام کیا ہے اس لیے سماج نے سراہا ہے، دعاؤں سے نوازا ہے۔بوکارو کے غوث نگر کے امام مطیع الرحمن کہتے ہیں: ’ہم اس قرآن کی مکمل تصدیق کرتے ہیں، نفیسہ کی محنت کو جتنا سراہا جائے کم ہے۔ سورہ فاتحہ سے شروع کر کے سورہ الناس تک ہم نے ہر آیت کو ایک سال تک جا جاکر نفیسہ سے سنا ہے:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *