رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں

( ابوحذیفہ کے قلم سے)

re

جب شاعر نے یہ زبان زد عام شعر کہا تو معلوم نہیں ان کے تصور میں وہ کون تھا جس کو خدا کا نام لینے اور پیغام امن دینے پر کوتوال شہر نے پابند سلاسل کیا تھا اور یہ بھی کسے خبر کہ یہ مضمون شاعر کی وسعت خیالی کی نشانی ہے یا میرے محبوب وطن میں پیش آمدہ حالات کو اس نابغہ روزگار نے قیام پاکستان سے کئی دہائیاں قبل بھانپ لیا تھااور خبردار بھی کر دیا تھا۔خیر بزرگ بتایا کرتے ہیں کہ جس دور میں یہ شعر اکبر الہ آبادی سے سرزد ہوا تھا وہ دور کافروں کی حکومت کا تھالیکن برصغیر میں مذہبی آزادی ہر ایک کو حاصل تھی ۔ملکہ عالیہ اور حکومت کے ارباب اختیار سیدنا عیسی ؑ کے پیروکار تھے اور پادریوں نے مسیحیت کی تبلیغ اس قدر تیز کر دی تھی کہ سادات گھرانوں کے بھی کئی چشم و چراغ بپتسمہ لئے بیٹھے تھے۔مناظروں کی کھلی اجازت تھی مسلمان علماء اپنی ہمت کے مطابق میدان میں سرگرم عمل تھے تو آریہ سماج کے مبلغین بھی کسی سے پیچھے نہ تھے۔ایک دوسرے کے خلاف لٹریچر بھی شائع ہو رہا تھا۔دلائل دئے جار ہے تھے تو مغلظات بکنے والے بھی کم نہ تھے لیکن کسی بھی مذہب کے لوگوں کو یہ شکایت پیدا نہ ہوئی کہ انہیں اپنے مذہب پر عمل کرنے کی اجازت نہیں یا یہ کہ وہ دوسرے مذاہب کو تبلیغ نہیں کر سکتے یا اپنے مذہبی ادارے قائم نہیں کر سکتے۔ اس لئے یہ کہنا کافی مشکل ہے کہ اکبر کے زمانے میں خدا کا نام لینے پر تھانہ سے گرفتاری کا پروانہ بھی جاری ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ شعر یاد آرہا ہے شکور بھائی چشمے والے کی گرفتاری اور سزا پر۔اب آپ پوچھیں گے یہ کو ن ذات شریف ہیں ؟تو جناب آٹھ دہائیاں اس دنیا میں گذارنے والے عبد الشکور صاحب کا رزق بنیاد ی طور پر عینک سازی کی دکان سے وابستہ رہا تھا۔بتانے والے بتاتے ہیں کہ وہ ایک آسودہ زندگی گزار رہے تھے۔مزید یہ کہ پر امن شخص تھے ۔ہر کسی سے خندہ پیشانی سے ملتے یہ ہر گز نہ پوچھتے کہ بھئی کس مسلک کے ہو ؟ ظاہر جب آپ کے دل میں انسانوں سے محبت ہو تو پھر یہ سوال بے معنی ہوجاتا ہے کہ آپ کا مخاطب کس مسلک کا ہے۔کس پیغمبر کا پیروکار ہے؟ خدا کو ایک مانتا ہے یا مشرک ہے یا پھر الحاد کے قائل ہیں؟ یہ سوال تو تب پوچھے جاتے ہیں جن آپ کسی سے مذہبی بنیادوں پر نفرت کرنا چاہیں۔شکوربھائی کی ایک خاص نشانی لوگ یہ بتاتے ہیں کہ جب کہیں سے گزرتے تو فضا مہک اٹھتی کہ عطر گلاب کا استعمال ان کو بہت محبوب ہے۔اب جیل میں ان کے کیا حالات ہیں نہیں معلوم۔
صاحب معاملہ یہ ہے کہ پاکیزہ لوگوں کے وطن پاکستان کا ایک صوبہ پنجاب ہے۔جہاں کی حکومت نے چند مولویوں پر مشتمل ایک بورڈ مسمی متحدہ علماء بورڈ تشکیل دیا جو محکمہ اوقاف اور ہوم ڈیپارٹمنٹ کے زیر سایہ کام کر رہا ہے۔اس ادارے کے ذمہ لگایا گیا کہ ان کتب،جرائد اورروزناموں کی نشاندہی کرے جو نفرت پھیلاتے ہیں تاکہ ایسے لٹریچر کو ممنوع قرار دیا جائے۔ان خضر صورت بزرگوں نے بے شمار کتب اور جرائد کو ممنوع قرار دینے کی سفارش حکومت پنجاب کو کی۔یہ فہرست جس طرح مرتب کی گئی گمان گزرتا ہے کہ ان حضرات نے یہ کتب اور جرائد کو غور سے تو کیا سرسری نظر سے بھی دیکھنا گوارا نہیں کیا۔ یہ بورڈ جن کتب اور جرائد کو ممنوع قرار دینے کی سفارش کرتا ہے ہوم ڈیپارٹمنٹ آنکھیں بند کر کے متعلقہ مواد کو ممنوع قرار دے دیتا ہے۔اس وقت جماعت احمدیہ کا بیشتر لٹریچر ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔الزام یہ ہے کہ یہ مواد نفرت پھیلا رہا ہے حالانکہ وطن عزیزمیں حاملِ جبہ و دستار حضرات اپنے جلسوں میں ،تحریروں میں ایک دوسرے کے مسالک کے بارہ میں جو باتیں کرتے ہیں اور قطع تعلق کی تعلیم دیتے ہیں وہ کیسے امن اور محبت کے پرچار ٹھہرے ۔
اس وقت عملی طور پر یہ صورتحال ہے کہ ایک طرف تو متحدہ علماء بورڈ جماعت احمدیہ کے خلاف تو نفرت انگیز مہم اپنے عروج پر ہے جس کا ایک مظہر گذشتہ ماہ دسمبر2015میں حفیظ سینٹر لاہور میں ایک دکان پر لگے پوسٹر کی عبارت تھی جس میں یہ نفرت انگیز جملہ تحریر تھا کہ یہاں پر قادیانی( کتوں )کا داخلہ منع ہے۔جب سوشل میڈیا پر بعض لوگوں نے آواز بلند کی توپنجاب حکومت نے دکان دار کے خلاف مقدمہ درج کر لیا لیکن اگلے روز ہی اس کو ضمانت پر رہا کر دیاگیا۔اس کے ساتھ ساتھ جماعت احمدیہ کے خلاف نفرت انگیز مہم اخبارات کے صفحات سے لے کر گلی کوچوں میں کھلے عام چل رہی ہے اور متحدہ علماء بورڈ نے قرار دیا ہے کہ جماعت احمدیہ کے خلاف شائع ہونے والا لٹریچرنفرت انگیز مواد میں نہیں آتا۔دوسری طرف احمدیوں کا بنیادی لٹریچر ممنوع قرار دے دیا گیا ہے اور جماعت احمدیہ کے افراد کے لئے بھی اپنے لٹریچر تک رسائی ناممکن بنا دی گئی ہے۔ ہمارے ہاں ایک کتاب آئین پاکستان کے نام سے بھی شائع ہوتی ہے جس کے آرٹیکل 20 میں تحریر ہے قانون ،امن عامہ اور اخلاقیات کی حدود کو ملحوظ رکھتے ہوئے ،الف ہر شہری کو اپنے مذہب پر قائم رہنے ،اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق حاصل ہوگااورب: ہر مذہبی گروہ،فرقے اور مسلک کو حق حاصل ہو گا کہ وہ اپنے مذہبی ادارے قائم کرے،انہیں برقرار رکھے اور چلائے۔معلوم نہیں اکبر آج زندہ ہوتے تو اس صورت حال پر کیا عمدہ شعر کہتے۔ ویسے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی بیاض نکال کر کہتے کہ حضرات ہمارے حالات نہیں بدلے سو ہم اپنا شعر کیوں بدلیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *